2014/10/29

چند نصیحتیں

0 تبصرے




الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين  أما بعد:

میں اس لائق نہیں ہوں کے اہل علم کی خدمت میں کچھ پند و نصائح تحریر کر سکوں مگر اہل علم کی بار بار اصرار کرنے پر کچھ تحریر کر رہی ہوں اس امید پر کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ  ناکارہ کو بھی عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین،

اولاً  یہ ہے کہ آپ نےاتنی بڑی سعادت (علم دین کا شرف حاصل کرلیا ہے) تو آپ کے لیے لازم ہے کہ کوئی قدم کے اُٹھا نے سے پہلے اچھی طرح سوچنا ہے، کہیں یہ دنیا اور شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے، کبائر و صغائر ہرگناہ سے پرہیز کرنا، اس کا خاص خیال رکھنا، اور خوف خدا کو ہر وقت دل میں بسائے رکھنا، نیز نمازوں کی پابندی کرنا، سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، چھوٹے بڑےکی عزت کرنا، عاجزی و انکساری کو اپنے دل کے اندر سمائے رکھنا، خود کو اخلاق حمیدہ سے متصف کرنا، اور اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں کی دینی تربیت کرنا، اور اگر تم دنیاوی ماحول میں جاؤ تو ایسی بن کر رہو کہ تمہیں دیکھ کر لوگوں کو عبرت حاصل ہو، اور تمہیں دیکھ کر لوگوں کو اللہ یاد آئے، اور لوگوں کو ہدایت مل جائے اس کا خاص دھیان رکھنا، اپنے علم کو دنیا و آخرت اور قبر کا ساتھی سمجھنا، اگر دنیا میں امن و سلامتی کی زندگی گزارنا چاہتی ہو تو قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اللہ سے ڈرنے کو اور امانت اور تمام عوام و خواص کی خیر خواہی کو لازم پکڑنا، حق بات بیان کرتے وقت کسی کی جاہ و حشمت کی پرواہ نہ کرنا، بلکہ عمدہ انداز  اور سلیقہ مندی کے ساتھ حق بات پیش کرنا کہ مخاطب کو ناگوار ی نہ ہو اور اسکو قبول کرلے، زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرنا کیونکہ یہ دل کو مردہ کرتا ہے، جب تم بات کرو  زیادہ چیخ و پکار نہ کرو اور اپنی آواز بلند مت کرو، لوگوں کے درمیان میں رہتے ہوئے زیادہ تر دین کی باتیں اور ذکر کیا کرو اس سے لوگوں کو دین کی رغبت ہوگی، اپنے نفس کی نگرانی کرو  تا کہ وہ گناہوں اور لایعنی کاموں میں مشغول نہ ہو جائے، موت کو ہمیشہ یاد کرو، اور اپنے استاذوں اور جن سے تم نے علم دین حاصل کیا ہے دعائے مغفرت کیا کرو، ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو اور دینی کتابوں کا مطالعہ کیا کرو، خصوصاً معارف القرآن، معارف الحدیث، اور اکابرین کے حالات، اور بہشتی زیور، وغیرہ کتابوں کا مطالعہ کو اپنی زندگی میں رکھو، علم کےبغیر عمل بیکار ہے اور علم کو محفوظ کرنے کا آسان نسخہ عمل ہے، عمل سے علم میں پختگی پیدا ہوتی ہے، عوام و خواص کی خدمت کا جذبہ پیدا کرو اس سے دنیا و آخرت میں ترقی ہوگی، فضول باتوں اور فضول کاموں میں پڑنے سے نفس کو علیٰحدہ رکھو، اپنے لباس اور برقعہ اور رہن سہن کو شریعت کے مطابق رکھو، مکمل پردہ کرنے کو اور شریعت کے مطابق لباس اختیار کرنے کو مقدّم رکھو، اس لئے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے اور ان پر بارک دوپٹّہ تھا پس اعراض فرمایا اور ان سے ارشاد فرمایا کہ اے اسماء بیشک عورت جب بالغ ہوجائے ہرگز مناسب نہیں ہے اس کےلئے کہ دکھائی دے اسکا جسم کا کوئی حصہ سوائے چہرہ اور ہتھیلیوں کے، تو میری عزیز بہنوں اس حدیث کو مدِّنظر رکھتے ہوئے باریک اور تنگ لباس سے احتراز کرو، اپنا تعلق اللہ کے ساتھ درست رکھو، نیز دینی مجلسوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرو، اب آپ  علم دین  کا شرف حاصل کرچکی ہیں، تو آپ کے اُوپر ایک بہت بڑی ذمہ داری آچکی ہے، (امر بالمعروف نھی عن المنکر ) کرتی رہا کرو ورنہ اس ذمہ داری کے بارے میں اللہ تعالی کے پاس پوچھ ہوگی، آپ نے جو کچھ یہاں سیکھا ہے وہ اوروں تک پہنچانے کی مکمل کوشش کرتی رہنا، درس و تدریس اور قرآن سیکھنے سکھانے میں لگی رہنا، اور مرکز نظام الدین دہلی کی دینی دعوت سے تعلق رکھنا، ملاقات کے وقت پہلے خودبہنوں کو اور اپنےمحارم کو سلام کرنا، اور بات چیت کرنے میں خوبی اختیار کرنا، اور  تواضع اختیار کرنا، خود دین پرعمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی دوزخ سے بچاؤ، آج لوگ گمراہی کے طرف جلدی سے جارہے ہیں اگر ہمارا بھی یہی حال رہا تو علم دین بالکل نیست نابود ہوجائے گا ، بس اسی کے فکر میں ہمیشہ لگی رہو اور دین کو زندہ کرنے کی پوری پوری کوشش کرتی رہو، انشاء اللہ تعالی کامیابی تمہاری قدم چومے گی، اب زیادہ تفصیل کرنے سے میرا قلم قاصر ہے، میری آخری درخواست ہے کہ ماضی کے ایّام میں مجھ سے جو بھی کوتاہی ہوئی تو اللہ کے واسطے اس ناکارہ کو معاف کردینا، اور تم ہمارے لئے اللہ کے پاس حجت بننا ہمارے خلاف حجت نہ بننا، اور ہمارے والدین اور اساتذہ و احباب کے لئے بھی دعائے مغفرت کرتی رہنا، نیز یہ ناکارہ اس قابل تو کہاں تھی کہ دینی خدمت کو انجام دے سکے، لیکن میرے خدا نے میرے اوپر لطف و کرم فرما کر مجھے دینی تعلیم سیکھنے سکھانے کی ہدایت عطاء فرمائی میں اپنے خدا سے مزید کی توفیق مانگتی ہوں۔

ائے اللہ تو ہمارا مواخذہ مت کرنا ،

جہنم کے عذاب سے ہمیں بچائے رکھنا ،



منجانب  :- امۃ الرحمٰن غفرلہا

الجامعۃ المحمودیۃ  (للبنات)الاسلامیۃ ، جمشیدپور، جھارکھنڈ۔


2014/10/28

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﺍﻭﺭﺍﻧﮉﯾﻦ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ

0 تبصرے
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﺍﻭﺭﺍﻧﮉﯾﻦ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ .
ﺁﭖ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﮧ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﺩﻟﯽ ﮨﺎﺋﯽ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺩﮬﻤﺎﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﯽ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺑﮭﯽﮐﺎﻓﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺍ، ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﻤﯿﻞ ﺑﮭﯿﺞ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺳﯽﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﮧ ﺍﻧﮉﯾﻦ " ﻣﺠﺎﮨﺪ " ﻣﺎﻧﻮ ﺍﻭﺟﮭﺎ ﻧﺎﻣﯽ ﮨﻨﺪﻭ ﺗﮭﺎﺟﻮ ﺍﺣﻤﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎ ﮨﻮﺍ۔ 
ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﺧﺒﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺫﯾﻞ ﮐﺎﻟﻨﮏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/

india/2011/09/110913_delhi_blast_man_arrested
rwa.shtml
ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﺎﮨﺪﺑﮭﯽ ﮨﻨﺪﻭ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟؟؟ ﻣﯿﺎﮞ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ! ﺩﻟﯿﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ؟ﻣﯿﺎﮞ
ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﻘﺮﯾﺮ"ﺟﮩﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮﻧﺎﻣﮧ " ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟﺟﮩﺎﺩ ﻋﺮﺑﯽ ﻟﻔﻆ ﺟُﮩﺪ ﺳﮯ ﻣﺎﺧﻮﺫ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﻧﺎ، ﺳﻌﯽ ﮐﺮﻧﺎ، ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺻﺮﻑ ﮐﺮﻧﺎ،ﺟﺪ ﻭ ﺟﮩﺪ
ﮐﺮﻧﺎﺁﮔﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :ﺍﺏ ﺁﭖ ﻏﻮﺭ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ۔ﺍﯾﮏﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ ﻋﻮﺍﻡ ﺳﮯ ﻭﻭﭦ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺏﻭﮦ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺑﺮﺍ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺮﺑﯽ ﺍﺻﻄﻼﺡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﻮﺷﺶ ﮨﮯ ۔ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺍﻭﺭﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮍﯼ ﺣﺪ ﺗﮏ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺏ ﻣﺴﻠﻢ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧﺟﮩﺎﺩ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﺩ ﺻﺮﻑﺍﻧﮩﯽ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻮﺏ ﮨﮯ ۔ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﺳﮯ ﻭﺍﺿﺢﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ "ﯾﮧ ﺩﻟﯿﻞ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺑﯿﮏ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ! ﺁﺝ ﺗﻮ ﺁﭘﻨﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﮔﯿﭧ ﻭﺍ ﮐﺌﮯ ۔ﻣﯿﺎﮞ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﭧ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻮﻟﻮﮞ؟ﮐﮭﻮﻟﻮ ﭘﻠﯿﺰ !ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺟﮩﺎﺩ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﮑﺲﻣﺴﺘﻮﯼ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ۔ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪ " ﮨﻨﺪﻭ " ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﺳﭽﯽ؟؟ ﮐﯿﺴﮯ؟؟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻄﺒﺎﺕﻣﯿﮟ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧﮨﻨﺪﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﺴﮯﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﺴﮯ؟ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﻮﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﮐﺮﺩﮮ ۔ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﯽﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ﮨﻨﺪﻭ ﮐﯽ ﺻﺮﻑﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ‏( ﺟﻮ ‏)ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮﺁﺑﺎﺩ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﮩﻼ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ " ﺍﺱ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺪﻭ ﮨﻮﮞ " ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺁﭖﻣﺠﮭﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭ ﮨﮯ ۔ﺧﻄﺒﺎﺕﻧﺎﺋﮏ۔ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯﺟﻮﺍﺑﺎﺕ۔ﺻﻔﺤﮧ 370:ﻣﯿﺎﮞ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﺎ؟ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭘﻨﮯ "ﻣﺤﺒﻮﺏ " ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ ﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ؟ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ! ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ !ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﺠﺎﮨﺪ ! ﺗﻮﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﮨﺎﮞ ﮨﻮﺋﮯ ! ﺍﻭﺭﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﮨﻨﺪﻭ ! ﺗﻮﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ! ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺋﮯ؟ ﺍﻓﮑﻮﺯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻨﺪﻭﮨﻮﺋﮯ ! ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﮨﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻟﻮ۔ﺟﻮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻧﮉﯾﻦ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ !ﺑﺲ ﺑﺲ ﻣﯿﺎﮞ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺪﻭﺱ۔ ﺁﮔﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺋﮯ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﻮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺳﻼﻡ

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﻋﺮﺑﯽﺍﻭﺭ ﺑﺮﺝ ﺧﻠﯿﻔﮧ

0 تبصرے
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﻋﺮﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺝ ﺧﻠﯿﻔﮧ .
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ " ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯﺣﻘﻮﻕ " ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮞ
ﺴﻮﺭﮦ ﻧﺴﺎﺀ ﺳﻮﺭۃ 4ﺁﯾﺖ 34 ﻣﯿﮟ ﮨﮯﮐﮧ
ﺗﺮﺟﻤﮧ :ﻣﺮﺩ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﺴﻠﻂ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﮐﻢ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺑﻌﺾ ﮐﻮ ﺑﻌﺾ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔
"ﻟﻮﮒ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ ﻗﻮﺍﻡ ﮐﮯﻣﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺟﮧ ﺍﻭﭘﺮﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ ﻗﻮﺍﻡ ﺍﻗﺎﻣۃ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯﺍﻗﺎﻣۃ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻗﺎﻣﺖﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻗﺎﻣۃ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﻟﻔﻆ ﺍﻗﺎﻣۃ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺟﮧ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ "
۔ﺧﻄﺒﺎﺕ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﭘﺎﺭﭦ 1 ﺻﻔﺤﮧ249-250
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺑﻠﯿﺖ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ ﻗﻮﺍﻡ ﮐﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﺍﻗﺎﻣۃ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺩﺭﺟﮧﺩﻭﻡ ﮐﮯ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﻮﺍﻡ ﮐﺲ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﮨﮯﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮕﺎ ﮐﮧ ﻗﻮﺍﻣﮧ ﺳﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﻔﻘﮧ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯﺍﺳﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
"ﺍﺳﻼﻡ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﻭﭦ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺳﻮﺭﮦﻣﻤﺘﺤﻨﮧ ﺳﻮﺭﺕ ﻧﻤﺒﺮ 60 ﺁﯾﺖ ﻧﻤﺒﺮ 12 ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﺍﺋﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ! ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻣﻮﻣﻦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﺱﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺷﺮﮎ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﻧﮧ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﻧﮧ ﺑﺪﮐﺎﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ.
 ﯾﮩﺎﮞ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺑﯿﺎﻥ ‏(ﯾﺒﺎﯾﻌﻨﮏ ‏)ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺑﯿﺎﻥ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦﺟﺪﯾﺪﯾﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ۔۔۔۔
ﺧﻄﺒﺎﺕ ﺫﺍﮐﺮ ﻧﺎﺋﮏ ﭘﺎﺭﭦ 1ﺻﻔﺤﮧ  312 
ﯾﮩﺎﮞ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﯾﺒﺎﯾﻌﻨﮏ ﮐﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﺑﯿﺎﻥ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮨﮯﺟﺒﮑﮧ ﯾﺒﺎﯾﻌﻨﮏ ﺑﯿﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺏ ﻣﻔﺎﻋﻠﮧ ﻣﺒﺎﯾﻌﮧ ﺳﮯﻓﻌﻞ ﻣﻀﺎﺭﻉ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺏ۔ﯼ۔ﻉ ﮨﮯ۔ ﺟﺐﺍﻧﮑﮯ ﻓﺎﺅﻧﮉﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡﮐﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﻭﭦ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﺮﺝﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮨﯽﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

2014/10/25

اجڑے ‫ہوئےچمن کے چند یادگار نقوش

0 تبصرے


اجڑے ہوئےچمن کے چند یادگار نقوش








بطور کرامات کہ بیت الله شریف کا اولیاء کرام رحمه الله كی حیات زندگی میں زیارت کو آنا

0 تبصرے
بطور کرامات کہ بیت الله شریف کا اولیاء کرام رحمه الله 
 كی حیات زندگی میں زیارت کو آنا

بسم الله الرحمن الرحیم


حدیث نمبر :01وسلم یقول اھتزالعرش الموت سعد بن معاذ وفی روایة قال اھتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ وفی روایة قال اھتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ متفق علیه . مشکوة ص 567
حدیث نمبر :02عن جابر ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال رایت الجنة فرایت امراة ابی طلحة وسمعت خشخشة امامی فاذا بلال رواہ مسلم [مشکوة صفحہ 567]
‏‎حدیث نمبر 03:عن جابر قال سمعت النبی صلی الله علیه وسلم

حدیث نمبر :04 عن انس قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الجنة تشتاق الی ثلثة علی رضی الله عنه و عمار رضی الله عنه و سلمان رضی الله عنه رواه الترمذی . مشکوة ص 570

حدیث نمبر :05عن انس قال قال ابوبکر لعمر بعد وفاة رسول الله صلی الله علیه وسلم انطلق بنا الی ام ایمن نزوروھا کما کان رسول الله صلی الله علیه وسلم یزو رھا الحدیث رواه مسلم . مشکوة ص 540

حدیث نمبر :06 عن جابر فی حدیث فلمارای (صلی الله علیه وسلم ) مایصنعون طاف حول اعظمها بیداد ثلث مرات الحدیث رواه البخاری . مشکوة ص 529

حدیث نمبر :07 عن جابر انه سمع رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول لماکذبنی قریش قمت فی الحجر فجعل الله لی بیت المقدس الحدیث متفق علیه . مشکوة ص 522

وفی اللمعات جاء فی حدیث ابن عباس فجئی بالمسجد حتی وضع عند دار عقیل وانا انظر الیه

بعد نقل ان احادیث کے جوابآ عرض کرتا ہوں کہ سوال میں معترض کے دو قول نقل کئے ہیں ایک یہ کہ قلب موضوع ہے دوسرا یہ کہ یہ ناممکن ہے قول اول کی دلیل یہ بیان کی گئی کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اس کی تعظیم طواف سے کی اور قول ثانی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی سو قلب موضوع کا جواب حدیث نمبر 01 سے ظاہر ہے کہ ابن عمر رضی الله کعبہ سے ہر مومن کو افضل بتارہے ہیں اور اول تو یہ امر مدرک بالرائے نہیں اس لئے حکما مرفوع ہوگا اور اگر اس سے قطع نظر بھی کی جاوے تاہم کسی صحابی رسول صلی الله علیه وسلم سے اس پر نکیر منقول نہیں پھر اس کی صحت میں کیا شک رہا پھر ابن ماجہ میں تو اس کے رفع کی تضریح ہے اور بھی اچھی ہے اب کلام مذکور کی بھی حاجت نہیں رہی ، رہ گیا طواف فرمانا رسول الله صلی الله علیه وسلم کا اس کا اور اس کی تعظیم کرنا سو یہ ایک امر تعبدی ہے جس طرح رسول الله صلی الله علیه وسلم مساجد کا احترام فرماتے تھے تو کیا مسجد کا آپ صلی الله علیه وسلم سے افضل و اعظم لازم آگیا اسی طرح بیت معظم بھی آپ صلی الله علیه وسلم سے افضل نہ ہوگا پھر جب آپ صلی الله علیه وسلم اس سے افضل ہوئے اور پھر آپ صلی الله علیه وسلم نے اس کا طواف کیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ مفضول کا طواف افضل کرسکتا ہے سو اگر مؤمن بیت معظم سے مفضول بھی ہوتا تب بھی افضل کا طواف کرنا مفضول کے لئے جائز ہوتا چہ جائیکہ مومن کا افضل ہونا بھی ثابت ہوگیا پھر تو کچھ بھی استعباد نہ رہا باقی یہ ظاہر ہے کہ یہ فضیلت جزئی ہے اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ انسان کو جہت سجدہ بھی بنایا جائے یا انسان کا کوئی طواف کرنے لگے اور یہ سب اس وقت ہے کہ طواف بطور تعظیم ہو اور اگر یہ طواف لغوی ہو بمعنی آمدو رفت جو مقارب ہے زیارت کا تو وہ اپنے مفضول کے لئے بے تکلف ہوسکتا ہے جیسا حدیث نمبر 5 ، 6 میں مصرح ہے اور محض ایسے امور

توجیہ زیارت کعبہ حسناء بعضے اولیا را

سوال 509 بابت استقبال قبلہ شامی و بحرالرائق و طحطاوی بر مراقی الفلاح و باب ثبوت النسب درمختار و شامی وغیرہ معتبرات فقہیہ سے جو جواز آنے بیت الله شریف کا واسطے زیارت اولیاء الله کے بلکہ طواف اولیاء کرنے کے ممکن و منجملہ کرامات ہونا لکھا ہے اور روض الریاحین میں امام یافعی رحمه الله وغیرہ میں وقوع اس کا اور دیکھنا ثقات ائمہ و علماء کا اس کرامات کو منقول ہے ، اس کو غیرمقلدین لغو و غلط امر کہتے ہیں ان کا قول و خیال یہ ہے کہ کعبہ ایسا معظم ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے جو اشرف المخلوقات تھے اس کی تعظیم طواف سے کی وہ دوسرے اپنے سے کم درجہ کی زیارت و طواف کے لئے جائے یہ قلب موضوع و ناممکن امر ہے ہاں اگر قرآن و حدیث سے یہ امر دلیل کیا جاوے تو قابل تسلیم ہوسکتا ہے لہذا علمائے احناف کی جناب میں گذارش ہے کہ عقیدے کو نصوص قرآن و احادیث سے یا باستنباط از آیات و احادیث مدلل و ثابت فرماکر کتب فقہ حنفیہ و روض الریاحین وغیرہ تالیفات ائمہ سلف کو دھبہ غیر معتمد ہونے سے بچائیں اور جہاں تک جلد ممکن ہو جواب سے سرفراز فرمائیں امر کی نسبت سخت نزاع درپیش ہے ؟

الجواب : 01عن ان عمر انه نظریوما الی الکعبة فقال ما اعظمك وما اعظم وما اعظم حرمتك والمومن اعظم حرمة عندالله تعالی منك اخرجه الترمذی و حسنه [ ص 44 ج 2 ، مجموعه مجتبائی و رواه ابن ماجة مرفوعا عن ابن عمر و لفظه قال رایت رسول الله صلی الله علیه وسلم یطوف بالکعبة یقول ما اطیبك و اطیب ریحك واعظم حرمتك والذی نفس محمد بیدہ لحرمة المومن اعظم عندالله حرمة منك الخ ص 209 اصح المطابع.

حدیث نمبر :02عن جابر ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال رایت الجنة فرایت امراة ابی طلحة وسمعت خشخشة امامی فاذا بلال رواہ مسلم [مشکوة صفحہ 567]

‏‎حدیث نمبر 03:عن جابر قال سمعت النبی صلی الله علیه وسلم

سے افضلیت کا لزوم کیسے ضروری ہوگا جب کہ حدیث نمبر 6 میں تقدم حضرت بلال رضی الله عنه کا حضور صلی الله علیه وسلم پر منقول ہے اسی لئے اس تقدم کو شراح حدیث نے تقدم الخادم علی المخدوم سے مفسر کیا ہے پس ایسا ہی یہاں ممکن ہے نیز عرش جو کہ تجلی گاہ خاص حق ہے اور اس کی صنعت میں کسی بشر کو دخل نہیں ظاہرآ بیت معظم سے افضل ہے باوجود اس کے اس کی حرکت ایک امتی کے لئے حدیث نمبر 3 میں مذکور ہے سو اسی طرح اگر بیت معظم کسی * مقبول امتی کے لئے حرکت کرے تو کیا استبعاد ہے نیز روح اس حرکت کی اشتیاق ہے سو جنت جو کہ حق تعالی کے تجلی خاص کا دار ہے حدیث نمبر 4 میں اس کا مشتاق ہونا بعض امتیان مقبولین کی طرف وارد ہے تو کعبہ کا اشتیاق بھی کسی مقبول امتی کی طرف کیا مستبعد ہے.

پس ان حدیثوں سے خود زیارت و طواف کا استبعاد کو دفع ہوگیا جو کہ بحث نقلی تھی اب صرف یہ بحث عقلی باقی رہی کہ خانہ کعبہ اتنا بھاری جسم ہے یہ کیسے منتقل ہوسکتا ہے سو اول تو "ان الله علی شئی قدیر" میں اس کا جواب عام موجود ہے دوسرے حدیث نمبر 7 کے ضمیمہ میں جواب خاص بھی ہے جو خصائص کبری جلد اول ص 160 میں نقل کیا ہے بتخریج احمد و ابن ابی شیبہ و النسائی و البزاز و الطبرانی و ابی نعیم بسند صحیح یہ سب گفتگو قول اول کے متعلق تھی رہا قول ثانی کہ یہ ناممکن ہے سو استفساریہ ہے کہ آیا عقلآ ناممکن ہے یا شرعآ یا عادۃ اول کا انقاء ظاہر ہے اگر شق ثانی ہے تو معترض کے ذمہ اس کا ثبوت ہے وافی لہ ذالک ، اور اگر شق ثالث ہے تو مسلم ہے بلکہ مفید ہے کیونکہ کرامت ایسے ہی واقعہ میں ہے جو عادۃ ممتنع ہو ورنہ کرامت نہ ہوگی اب ایک شبہ باقی ہے وہ یہ کہ حس اس کی مکذب ہے کیونکہ تاریخ میں کہیں منقول نہیں کہ کعبہ اپنی جگہ سے غائب ہوا ہو ایسا ہی شبہ حدیث سابع کے ضمیمہ میں ہوتا ہے سو جو اس کا جواب ہے وہی اس کا جواب ہے ، اور وہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت اتفاق سے کعبہ کا دیکھنے والا کوئی نہ ہو "اذا اراد الله تعالی شیئاھیا اسبابه"_ اور یہ اس وقت ہے جب یہی جسم منتقل ہوا ہو ورنہ اقرب یہ ہے کہ حقیقت مثالیہ اس حکم کا محکوم علیہ ہے جس طرح حدیث نمبر 4 میں آپ صلی الله علیه وسلم نے بلال رضی الله عنه کی مثال کو دیکھا تھا ورنہ بلال رضی الله عنه یقینآ اس وقت زمین پر تھے ، اب صرف ایک عامیانہ شبہ رہا کہ اس کی سنہ جب تک حسب شرائط محدثین صحیح نہ ہو اس کا قائل ہونا درست نہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ خود محدثین نے غیر احکام کی احادیث میں سند کے متعلق ایسی تنقید نہیں کی یہ تو اس سے بھی کم ہے یہاں صرف اتنا کافی ہے کہ راوی ظاہرآ ثقہ ہوا اور اس واقعہ کا کوئی مکذب نہ ہو.

اس تقریر سے اس کا جواب بھی نکل آیا جو سوال میں ہے کہ اگر قرآن و حدیث سے مدلل کیا جاوے الخ وہ جواب یہ ہے کہ اگر مدلل کرنے سے یہ مراد ہے کہ بعینہ وہی واقعہ یا اس کی نظیر قرآن و حدیث میں ہو تب تو اس کے ضروری ہونے کی دلیل ہم قرآن و حدیث ہی سے مانگتے ہیں نیز ائمہ محدثین کی کرامات کو کیا اس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے ، اور اگر یہ مراد ہے کہ جن اصول پر وہ مبنی ہے وہ قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہوں تو بحمد الله تعالی یہ امر حاصل ہے .


تنبیہ :: یہ سب اصلاح تھی غلو فی الانکار کی باقی جو غالی فی الاثبات
ہیں علمآ یا عملآ اب ان کی اصلاح بھی واجب ہے والله اعلم‎ ‎‏.‏‎
‎‏[[امداد الفتاوی جلد 4 صفحہ نمبر 449 تا 452 تک]]
[[ھدیہ اھلحدیث سے اقتباس صفحہ نمبر 186 سے 191 تک

2014/10/21

کیا بلا اس تحریف و خیانت کے رفع یدین نہیں ہو سکتا؟

0 تبصرے
کیا بلا اس تحریف و خیانت کے رفع یدین نہیں ہو سکتا؟

محمد ابو بکر غازی پوری
 
ہم جب غیر مقلدین یعنی اہلحدیث اور بقلم خود سلفی حضرات کی کتابیں پڑھتے ہیں تو ہمیں عجیب عجیب حادثات سے گذرنا پڑتا ہے ، ہم حیران و ششدر رہ جاتے ہیں کہ کتاب و سنت کا نام لے کر عوام کو گمراہ کرنے والا یہ فرقہ دیانت و امانت اور شرافت سے اتنا محروم کیوں ہے، اور خداوند قدوس نے صدق و راستبازی اختیار کرنے کی توفیق اسے کیوں نہیں عطا کی۔

ہمارا اپنا خیال اور مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ اسلاف کے دشمنوں کو امانت و دیانت اور صدق وراستبازی کی دولت سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور اس کی مثال ہمارے سامنے شیعوں اور قادیانیوں کی ہے، شیعوں کے یہاں دین کے نام پر دغا کرنا بے ایمانی کرنا، دھوکا اور فریب دینا، جھوٹ بولنا عین ایمانداری اور دینداری اور ان کے دھرم کا جزءہے، اسی طرح قادیانیوں کا معاملہ ہے، ان کے باطل مذہب کی بنیاد بھی جھوٹ ، فریب، افتراءپر ہے، اور یہ دونوں فرقے اسلاف کے شدید دشمن ہیں، جیسا کہ سب کو معلوم ہے، پس اللہ نے ان کو صدق و راستبازی کی دولت سے محروم کر دیا اور جھوٹ بولنا ، فریب دینا ان کے مذہب کا جزبن گیا۔

بھینس اور غیر مقلدین

8 تبصرے
بھینس اور غیر مقلدین 
کیا بھینس فرقہ جدید نام نہاد نفس پرست [اہل حدیث] غیر مقلدوں کے لیے حلال ہے یا حرام؟ فیصلہ خود کیجئے

رئیس المناظرین وکیل احناف ترجمان اہل سنت 


حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ

اسی پر مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آیا میں ایک گاؤں میں گیا جلسہ ہورہا تھا غیرمقلدوں کا ، بڑا شور تھا اشتہار لگے ہوئے تھے اہل حدیث کانفرنس

میں ویسے ہی تاریخ کے سلسلہ گیا ہوا تھا کوئی پروگرام پہلے نہیں تھا

بڑا شور مچ رہا ہے آؤں یہ تمہیں "ہدایہ" سے مسائل بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "بخاری" سے بتائے گے

یہ تمہیں "قدوری" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ترمذی" سے بتائے گے

یہ تمہیں "بہشتی زیور" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ابو داؤد" سے مسائل بتائے گے

قرآن و حدیث سے ، قرآن حدیث سے ، قرآن و حدیث سے

میں نے کالج کے دو ، تین لڑکے بلائے ان کو بھیجا کہ ان [غیر مقلدوں] سے جاکر پوچھنا کہ مولوی صاحب سے کہ "بھینس کو عربی میں کیا کہتے ہے؟ وہ کہے گا "جاموس" ، تم لکھ لینا ، اب انہیں کہنا یہ قرآن و حدیث سے ثابت کرو کہ بھینس حلال ہے یا حرام؟

نمازمیں ہاتھ کیسے اورکہاں باندہنا سنت ہے؟؟

0 تبصرے
نمازمیں ہاتھ کیسے اورکہاں باندہنا سنت ہے؟؟ 

مولانا حافظ محمد خاں صاحب دامت برکاتہم

یاد رہے کہ نمازمیں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پرباندہنا مسنون ہے، اس بارے میں کئی روایات ہیں مثلا بخاری ومسلم کی روایت میں یہی تصریح موجود ہے

فقد روى البخاری فی صحیحہ : عن سہل بن سعد رضی اللہ عنہ قال: كان الناس یؤمرون أن یضع الرجل الید الیمنى على ذراعہ الیسرى وفی روایة لمسلم :  ثم وضع یدہ الیمنى على ظہر یدہ الیسرى . اھ ۔

نماز میں ہاتھ کہاں باندہے جائیں ؟؟

امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ سینے کے نیچے اورناف کے اوپرہاتھ باندہنا چائیے ، اورامام شافعی رحمہ اللہ سے ایک روایت ناف کے نیچے ہاتھ باندہنے کی بہی ہے ، اورحنفیہ اورحنابلہ کا مسلک یہ ہے کہ ناف کے نیچے باندہنا چائیے ،اور مالکیہ کا معتمد ومشہورمذہب ارسال ہے یعنی دونوں ہاتہوں کو کہلا چہوڑنا ہے۔

احناف کا موقف دلائل کی روشنی میں

احناف کے نزدیک مردوں کے لیئے ناف کے نیچے ہاتھ باندہنا مسنون ہےاوراس باب میں چند دلائل درج ذیل ہیں۔

غیرمقلد نام نہاد [اہلحدیث] کا ایک دھوکا

0 تبصرے
غیرمقلد نام نہاد [اہلحدیث] کا  ایک دھوکا 

غیرمقلد نام نہاد [اہلحدیث] اپنے ذہن اور اپنی سوچ کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ اور معصوم سمجھتے ہیں – اس لئے جو شخص ان کے فہم سے اختلاف کرے اس کو نہیں کہتے کہ اس نے ہمارے فہم کو نہیں مانا بلکہ اس کو خدا اور رسول سلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف کہتے ہیں – ان کی سمجھ کے خلاف کسی امام کا فہم ہو ، صحابی کی سوچ ہو ، خلیفہ راشد رضی اللہ عنہم کا فتویٰ ہو ، سب کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف کہیں گے ، اور دھوکا یہ دیں گے کہ ایک طرف قولِ معصوم ہے دوسری طرف قولِ مجتہد ، جس سے خطاء کا امکان بلکہ وقوع بھی ہے ، حالانکہ اتنی بات صاف ہے کہ دونوں جہانوں کی کامیابیاں اتباع رسولِ معصوم صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہیں ، مگر رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہم تک بواسطہ امّت پہنچا ہے ، اب اگر اس پر امّت کا اجماع ہے تو اجماع معصوم ہوتا ہے –

اہلحدیث بھائیوں کےلئے لمحہ فکریہ

0 تبصرے
اہلحدیث بھائیوں کےلئے لمحہ فکریہ

سوال نمبر 1: اہلحدیث بھائی نماز جناز میں پہلی تکبیر کے بعد ثنا (سبحانک اللہم وبحمدک.... الخ) فاتحہ اور سورة پڑھتے ہیں اس عمل کی ایک حدیث پیش کریں۔

سوال نمبر2: اہلحدیث نمازجنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد ایک سے زائد دعائیں پڑھتے ہیں ۔اس کی ایک حدیث پیش کریں۔

سوال نمبر3: اہلحدیث نماز جنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد امام جب ایک سے زائد دعائیں پڑھتا ہے توپیچھے مقتدی بلند آواز سے آمین آمین کہتی ہیں۔ ا سکی ایک حديث پیش کريں۔

سوال نمبر4: اہلحدیث نمازجنازہ کی تمام تکبیروں کے ساتھ رفع یدیث کرتے ہیں۔ اس کی ایک حدیث پیش کریں۔

سوال نمبر5: اہلحدیث نمازوتر میںدعائی قنوت کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں ۔اس کی ایک حدیث پیش کریں۔

نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا

0 تبصرے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا
از افادات: متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت احناف :
                نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے ۔ کیو نکہ اس میں تعظیم زیادہ ہے ۔(الھدایہ ج:1 ص: 100 ،101)


مذہب غیر مقلدین :
                نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت ہے  جو کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔(نماز نبوی البانی ص:77، بارہ مسائل عبد الرحمن خلیق ص:52)

اورناف کے نیچے ہاتھ باندھنے سے نماز نہیں ہو تی ۔(قول حق مولوی محمد حنیف فرید کو ٹی ص21 بحوالہ مجموعہ رسائل ج:1 ص:325 )

فائدہ:

اہل السنۃ و الجماعۃ احناف کے ہاں ہاتھ باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر، انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں ہاتھ کے گٹے کو پکڑتے ہوئے تین انگلیاں کلائی پر بچھا کر ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔ کتاب الآثار میں ہے:

2014/10/19

غیر مقلدین کی بہانک خدمات

0 تبصرے
غیر مقلدین کی بہانک خدمات

وہابی ازم محض ايک اسلامی فرقہ ہے جو اٹھارویں صدی میں پھلا پھولا تھا۔ اس فرقے کی مثال عيسايیوں کے پیوریٹن فرقے کی سی ہے جسے سترہویں صدی میں انگلستان، نیدر لينڈاور ميسے چوسٹ میں فروغ حاصل ہوا تھا۔پیورٹین اور وہابی دونوں فرقوں کو وعویٰ ہے کہ انہوں نے اصل دین کی طرف مراجعت کی ہے لیکن يہ دونوں فرقے مکمل طور پر نئے اور اس وقت کے مخصوص حالات کے ردعمل کے طور پر معرض وجود میں آئے تھے ۔

2014/10/17

ہم نہیں مانتے!!!

0 تبصرے
ہم نہیں مانتے!!!

غیر مقلدین کے معتبر ترین علماءکے یہ مسائل جب غیر مقلدین کے سامنے بیان کئے جاتے ہیں تو لا جواب ہو کر ان کا رنگ زرد پڑجاتا ہے ۔ جب کوئی جواب ان سے نہیں بن پڑتا تو چار ونا چار یہ کہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ ”ہم ان علاماء، ان کتابوں اور ان مسائل کو نہیں مانتے ۔ ہم تو صرف قرآن وحدیث کو مانتے ہیں “

ہم غیر مقلدین سے پوچھتے ہیں:

٭۔۔۔کیا یہ علماءخود کو اہل حدیث نہیں کہتے تھے اور کیا انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم قرآن وحدیث کے مسائل لکھ رہے ہیں؟

٭۔۔۔ جب آپ قرآن وحدیث ہی کو مانتے ہیں تو پھر آپ کے علماءکتابیں کیوں لکھتے ہیں ؟ کیا قرآن وحدیث کو ماننے کے لیے ترجمے والا قرآن اور احادیث کی مترجم کتابیں کافی نہیں؟

٭۔۔۔آپ ان علماءکی بات نہیں مانتے تو یہ علماءآپ کی بات نہیں مانتے۔کیا وجہ ہے کہ ایک غیر مقلد عالم فتویٰ دیتا ہے دوسرا کہتا ہے میں نہیں مانتا ۔ ایک غیر مقلد عالم کتاب لکھتا ہے تو دوسرا عالم اسے نہیں مانتا ۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر غیر مقلد اپنے نفس کی مان رہا ہوتا ہے اور نام قرآن وحدیث لیتا ہے ۔

٭۔۔۔ کیا غیر مقلدین کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی فرقہ گزرا ہے جس کے اکابر گمراہ اور اصاغر (چھوٹے) راہ راست پر ہوں۔

٭۔۔۔ اگر آپ ان علماءکو نہیں مانتے تو ہمارا آپ سے مطالبہ ہے کہ لگائیے ان علماءپر کفر کا فتویٰ۔کیا کفر ، شرک اور گمراہی کے فتوے آپ لوگوں نے علمائے دیوبند ہی کے لیے سنبھال کر رکھے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک آپ لوگوں نے متفقہ طور پر ان پر کفر اور شرک اور گمراہی کا کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔ اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی اشتہار ، پمفلٹ یا کوئی کتابچہ تقسیم کیا ۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ

ان علماءکو مانتے ہیں۔

ان مسائل کو مانتے ہیں ۔

ان کتابوں کو مانتے ہیں ۔

لیکن

اعتراف نہیں کرتے۔

مسئلہ فاتحہ خلف الامام

غیر مقلدین نے ہتھیار ڈال دئیے

بغیر فاتحہ کے مقتدی کی نماز ہو جاتی ہے ارشاد الحق اثری کا فرمان

بزرگ غیر مقلد عالم ارشاد الحق اثری فاتحہ خلف الامام پر اپنی تحقیقی کتاب ”توضیح الکلام “ میں لکھتے ہیں:

”امام بخاری ؒ سے لے کر دورِ قریب کے محققین اہل حدیث تک کسی کی تصنیف میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ فاتحہ نہ پڑھنے والے کی نماز باطل ہے اور وہ بے نماز ہے۔آج بعض حضرات نے جو قدم اُٹھایا ہے ، جماعت کے نامور اور ذمہ دار حضرات میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔” (توضیح الکلام ج۱۔ ص۳۴)

آگے اثری صاحب لکھتے ہیں:

” جو یہ سمجھے کہ فاتحہ خلف الامام فرض نہیں ، نماز خواہ جہری ہو یا سری اور اپنی تحقیق پر عمل کر لے (یعنی فاتحہ نہ پڑھے ) تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی ”۔ (توضیح الکلام ج۱ص۵۴)

اس سے ظاہر ہوا کہ فاتحہ کے بغیر مقتدی کی نماز ہو جاتی ہے اور جو غیر مقلد علماءبغیر فاتحہ کے نماز کو باطل کہتے ہیں وہ غیر ذمہ دار لوگ ہیں۔

سجدوں میں رفع یدین

غیر مقلدین کے لیے سو شہیدوں کا ثواب

حضراتِ غیر مقلدین کی مستند ، مرکزی اور مسلمہ کتاب ” فتاویٰ علمائے حدیث ” میں ہے:

” سجدوں میں رفع یدین منسوخ نہیں ۔ یہ نبی ﷺ کی آخری عمر کا فعل ہے اور اس سنت کو ذندہ کرنے والوں کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا”۔(ملخصاً۔ فتاویٰ علمائے حدیث ۔ ج۴۔ ۷۰۳،۶۰۳)

کیا سعودی عرب والے غیر مقلد ہیں ؟۔۔۔نہیں !!!

سعودی عرب والے امام احمد بن حنبل ؒ کے مقلد ہیں بلخصوص حرمین شریفین کے آئمہ کے حنبلی ہونے میں تو کوئی شک نہیں ۔ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے صاحب زادہ امام عبداللہ بن عبدالوہابؒ فرماتے ہیں: “ہم فروعی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل ؒکے طریقے پر ہیں ، چونکہ ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہؒ، امام مالک ؒ ، امام شافعی ؒ ، اور امام احمد ابن حنبلؒ کا طریقہ منضبط ہے اس لیے ہم ان کے کسی مقلد پر انکار نہیں کرتے ۔۔۔۔ ہم لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ چاروں ائمہ میں سے کسی ایک ہی کی تقلید کریں” (تحفہ وہابیہ ترجمہ الدیة السنیہ ص۶۱)

دیکھیے سعودی عرب کے امام تو لوگوں کو ائمہ کی تقلید پر مجبور کر رہے ہیں۔ غیر مقلدین انہیں مشرک اس لیے نہیں کہتے کہ پیٹ پر لات پڑتی ہے۔

غیر مقلدین بتائیں :

۱) حرمین شریفین میں تراویح بیس رکعات ہوتی ہے۔ آپ آٹھ پڑھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں اور بیس تراویح کو بدعت کیوں کہتے ہیں؟ (رفع اختلاف از مولوی عثمان دہلوی غیر مقلد ص ۴۵)

۲) حرمین شریفین میں نماز ِ جنازہ ہمیشہ آہستہ پڑھا ئی جاتی ہے۔ آپ یہاں بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟

۳) سعودی عرب میں ”مجلس ہیئت کبار العلماء“ کے فیصلے کے مطابق تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں ۔ آپ ایک کیوں کہتے ہیں؟

۴) حرمین شریفین میں نماز جمعہ میں دو اذانیں ہوتی ہیں جبکہ آپ دوسری اذان کوبدعت کہتے ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ۔ ج۱ ۔ ص۵۳۴)

۵) سعودیہ والے کہتے ہیں کہ مقتدی کی نماز بغیر فاتحہ پڑھے ہو جاتی ہے ۔ (معنی ابن قدامہ ۔ ج۱۔ ص۶۰۱)

جبکہ آپ کہتے ہیں کہ بغیر فاتحہ کے مقتدی کی نماز نہیں ہوتی ۔

غىر مقلدىن کى خوارک

0 تبصرے
غىر مقلدىن کى خوارک




  • ہاتھی وغىرہ حلا ل   کنزالحقائق ص 185,86 عرف الجادی ص 230, 234, 236
  • کتا خنزىر مرراد پاک   عرف الجادی ص10
  • خچر حلال ہے  کنز الحقائق ص 186
  • بھىڑ بکری گائے بھىنس کی شرم گاہ فتاوی نذىریہ ج 3ص320-21
  • شراب پاک اور تیار شدہ روٹی حلال    نزل الابرر ص31,50
  • بجو اور گھوڑا حلا ل ہے   عرف الجادی ص235,36بد ورالاہلہ ص347,351
  • خنز ىر حلال ہے۔   عرف الجادی ص 10 بدرو الاہلہ ص16
  • گھوڑار حلال ہے۔   عرف الجادی ص36
  • گائے کے ذبىح ہونے کے بعد اس کے پىٹ سے مرا ہو ابچہ نکلے تو وہ حلال ہے۔
   فتاوی نذىریہ ج 3ص 30 بدور اہلہ ص338
  • کافر نے ذبیح کیا تو کھاتے وقت بسم اﷲ پڑھ لیں عرف الجادی ص10
  • کوا حلال ہے۔   کنز الحقائق ص186
  • چھوٹی گدھ یا بڑی گدھ کوے کے مختلف قسمیں چمگاڈر حلال۔ کنز الحقائق ص186
  • الو حلال ہے۔   الحیات بعد الممات ص75
  • کتا اور خنزیر پاک ہیں۔ بدور اہلہ ص15
  • دریائی جانور پاک ہیں۔ فتاوی رفیقیہ ج 1ص 16,18 کنز الحقائق 186
  • منی پاک ہے اىک قول کے مطابق کانا جائز ہے۔    فقہ محمدیہ ص47
  • رطوبت فرج پاک ہے۔   کنز الحقائق ص 16 نزل الابرار ج 1 ص48
  • حلال اوحرام سب جانوروں کا دودھ پاک ہیں۔ بدور اہلہ ص18
  • کتے کا پىشاب پاخانہ پاک ہے۔   نزل الابرار ج 1 ص 50
  • تمام جانوروں پىشاب پاخانہ پاک ہیں۔    بدور اہلہ 15
  • شراب ہمارے نزدىک نجس نہیں۔ نزل الابرار ج2ص299 عرف الجادی ص10 کنز الحقائق ص103, 109الروضة الندىہ ج1ص20,21بدور اہلہ15
  • منی کھانا جائز اگر گن نہ آتی ہو۔   مسلم مترجم ص414

2014/10/14

نفس کے پجاری –غیرمقلدین

0 تبصرے




عرض مرتب
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیر مقلدین (جو خود کو اہل حدیث کہتے ہیں) کا وجود انگریز دور سے پہلے نہ تھا۔ انگریز کے دور سے پہلے پورے ہندوستان میں نہ ان کی کوئی مسجد تھی، نہ مدرسہ اورنہ کوئی کتاب۔ انگریز نے ہندوستان میں قدم جمایا تو اپنا اولین حریف علماءدیوبند کو پایا۔ یہی وہ علماءتھے جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور ہزاروں مسلمانوں کو انگریز کے خلاف میدان جہاد میں لا کھڑا کیا جس نے انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا اور مسلمانوں میں تفرقہ اور انتشار پھیلایا اور آج تک غیر مقلدین اپنی اسی روش پر قائم ہیں۔
فقہ حنفی جو تقریبا ً بارہ لاکھ مسائل کا مجموعہ ہے اس عظیم الشان فقہ کے چند ایک مسائل پر اعتراض کرتے ہوئے غیر مقلدین عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ فقہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے اور غیر مقلدعوام کی زبان پر یہ تو ایک چلتا ہوا جملہ ہے کہ “فقہ حنفی میں فلاں فلاں گندہ اورحیاءسوز مسئلہ ہے” اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ عوام کو آگاہ کیا جائے کہ خود غیر مقلدین کی مستند کتابوں میں کیا کیا گندے اور حیا سوز مسائل بھرے پڑے ہیں۔ افسوس کہ غیر مقلد علماءنے یہ مسائل قرآن وحدیث کا نا م لے کر بیان کئے ہیں۔ آپ یقین کریں جتنے حیاءسوز مسائل غیر مقلدین نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے منسوب کئے ہیں کسی ہندو ، سکھ یایہودی نے بھی اپنے مذہبی پیشوا سے منسوب نہیں کیے ہوں گے۔ غیر مقلدین تقیہ کر کے ان مسائل کو چھپاتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش رہی ہے کہ فقہ حنفی پر خواہ مخواہ کے اعتراض کیے جائیں تاکہ ان کے اپنے مسائل عوام سے پوشیدہ رہیں۔
آپ یہ مسائل پڑھیں گے تو ہو سکتا ہے کہ کانوں کو ہاتھ لگائیں اور توبہ توبہ کریں۔ کوئی شاید یہ بھی کہے کہ ایسی کتاب لکھنے کی کیا ضرورت تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس تیزی سے اخلاق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مقلدین اپنا لٹریچر پھیلا رہے ہیں حقیقت کو آشکار کرنا ہماری مجبوری ہے۔کتاب میں حوالے کی کوئی غلطی ہو تو ذیل کے پتہ پر مطلع فرمائیں تا کہ اگلے ایڈیشن میں اصلاح کر دی جائے ۔ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ غیر مقلدین کو ہدایت عطا فرمائیں اور امت کو اس فتنے سے بچائیں۔ آمین

2014/10/10

اہل حديث ہوٹل (فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)

0 تبصرے

اہل حديث ہوٹل (فرقہ جدید نام نہاد اہلحدیث)

صبح کی نہاری نہ دکھ نہ بيماری

آئيے تشريف رکھئے يہ اہل حديث ہوٹل ہے

گاہک :جناب بڑا گوشت ہے ۔

بيرا: جی ہاں ہاتھی، خچر، گھوڑے کا ہر ہر عضو حلال اور پکا ہواتیار ہے۔  کنز الحقائق ص186

گاہک : جناب يہ جانور۔ مزرائی ۔ سکھ اور ہندو سے ذبح کرائے ہيں۔

بيرا: کافر کا ذبيحہ حلال ہے۔( عرف الجاوی ص 10)

گاہک : جناب ذبح کرتے وقت بسم اﷲ بھی نہيں پڑھی گئی۔

بيرا: آپ کھاتے وقت پڑھ لينا ۔( عرف الجاوی ص 239)

2014/10/09

محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

0 تبصرے
                         محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

                                مولانا محمد اکمل راجن پوری

کثرت روایت کا سبب:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا:کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا:

میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔

(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

0 تبصرے
                         
                           سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

                         مولانا محمد عاطف معاویہ حفظہ اللہ

 

نام ونسب: آپ کا نام ”علی“، کنیت ”ابو الحسن“،اورلقب ”اسداللہ“ اور ”حیدر“ ہے۔

نسب نامہ: علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب ۔

(الاصابۃ ج: ۲،ص:۱۲۹۴،سیرت سیدنا علی المرتضی ،ص:۲۰ )

ولادت : حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح قول کے مطابق آپ کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی ۔

(الاصابۃ ج:۲،ص:۱۲۹۴)

قبول اسلام : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھا ۔

(الاصابۃ ج:۲،ص:۱۲۹۴)

حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

0 تبصرے
                    حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

                                      مولانا محمد عبد اللہ معتصم

ولادت وسیادت:

ہندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی سے قبل راجہ بھیم سنگھ نے ضلع مظفر نگر میں ایک قصبہ اپنے نام سے بسایا جو "تھا نہ بھیم"کہلایا۔پھر مسلمانوں کی آمد وسکونت پر اس کا نام "محمدپور"رکھا گیا، مگر یہ نام مقبول ومشہور نہ ہوا اور وہی پرانا نام معروف رہا ۔البتہ "تھانہ بھیم"سے تھانہ بھون ہوگیا۔ آگرہ شہر کے نواح میں واقع یہ چھوٹا سا قصبہ اپنی مردم خیزی میں مشہور چلا آرہا ہے اور یہاں کے مسلمان شرفاء اہل شوکت وقوت اور صاحب فضل وکمال رہے ہیں۔مجدد الملۃ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ کے اجداد نے آج سے صدیوں قبل تھانیسرضلع کرنال سے نقل سکونت کرکے تھانہ بھون میں اقامت اختیار کی تھی۔آپ کے جد اعلی سلطان شہاب الدین والی کابل رہے ہیں اور سلطان غزنوی کی حکومت کے زوال کے بعد جذبہ جہاد کے تحت کئی بار ہندوستان پر حملہ کیا اور بامراد لوٹے ان کی اولاد میں شیوخ تھانہ بھون کے علاوہ حضرت شیخ مجدد الف ثانی ،شیخ جلال الدین تھانیسری اور شیخ فرید الدین گنج شکر جیسے کاملین پیدا ہوئے ہیں۔

حضرت امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی

0 تبصرے
 



           امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ "نعمان بن ثابترحمتہ اللہ" ۸۰ھ – ۱۵۰ھ

             حضرت امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی

آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابت رحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابت رحمتہ اللہ بچپن میں حضرت علی رضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علی رضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔

2014/10/08

کرامات اہلحدیث (karamat-e-ahlehadees)

0 تبصرے

غیر مقلدین کی عادت ہے کہ حنفی علماء کی کتابوںسے بزرگوں کی کرامات اور کشف کے چند واقعات بیان کر کے ان بزرگوں پہ شرک اور کفر کے فتوے لگاتے پھرتے ہیں. لیکن غیر مقلد حضرات لوگوں کو یہ نہیں بتاتے جیسے واقعات یہ احناف کی کتابوں سے پیش کرتے ہیں ایسے ہی علم غیب، کشف و کرامات اور الہامات کے واقعات غیر مقلدین کے اکابر علماء سے بھی مذکور ہیں جو کہ ان کی کتابوں میں لکھے ہیں لیکن غیر مقلدین یہ واقعات لوگوں کے سامنے پیش ہی نہیں کرتے تاکہ ان کے قران و حدیث کے دعوے کا بھرم لوگوں کے سامنے بنا رہے اور ان کے علماء کے شرک اور کفر والے واقعات، کرامات اور الہامات لوگوں کے سامنے نہ آ سکیں اور کوئی ان پہ اعتراض نہ کر سکے۔
غیر مقلدین کا یہ دھوکہ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے میں غیر مقلدین کے مستند علماء کی کرامات اور ان کا تصوف آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں تاکہ سب کو غیر مقلدین کی نفس پرستی اور اکابر پرستی کا علم ہو سکے کہ جن واقعات کے کتابوں میں موجود ہونے پر یہ احناف کے خلاف کفر و شرک کے فتوے صادر کرتے ہیں ایسے ہی واقعات اور کرامات ان کے علماء سے مذکور ہونے پر ان کے شرک اور کفر کے فتوے غائب ہو جاتے ہیں اور یہی ان کی نفس پرستی اور اکابر پرستی کی اعلیٰ مثال ہے۔

غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ اگر وہ ان علماء کو نہیں مانتے تو پھر جیسے کفر اور شرک کے فتوے وہ احناف کی کرامات اور ان کے واقعات پہ لگاتے ہیں ایسے ہی کفر اور شرک کے فتوے ذرا اپنے ان علماء پہ بھی لگائیں تاکہ حقیقت پتا چل سکے کہ تم لوگ اکابر پرست ہو یا قران و حدیث پہ عمل کرنے والے ہو!۔