محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل راجن پوری
کثرت روایت کا سبب:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا:کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا:
میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔
(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )