2014/03/15

دارالعلوم دیوبند اور خدمتِ اسلام

0 تبصرے

  • پورے  ایشیا  میں دارالعلوم  دیوبند  کی  دینی ‘ مزہبی ‘ تالیفی ‘ تصنیفی ‘ تعلیمی ‘ قومی ‘ ملکی ‘ ملی ‘ اصلاحی ‘  اور فنی خدمات ‘ ہر شہر ‘ ہر قصبہ ‘ ہر دہات  میں  دن رات مسلّم ہے ۔جب ہندوستان  میں  کفر کا طوفان تھا ۔شرک  بر جمان تھا ۔بدعات ‘ رسومات ‘ رواجات میں مبتلا انسان تھا ۔
  • خرافات ‘ ہزلیات ‘ اغلوطات  کا شکار  مسلمان تھا ۔ اسلام  براے  نام تھا ۔ مزہب بدنام تھا ۔ ہرغلط کام تھا ۔ عقیدہ خام تھا ۔ جہالت  کا اندھیرا تھا ‘ ظلم  کا  بسیرا  تھا ‘ گمراہی کا ڈیرا تھا ۔
  • انگریز کی حکمرانی تھی‘ حکومت شیطانی تھی ‘ ہرطرف حیرانی پریشانی تھی ‘ ہرسو   ویرانی تھی ۔جب علماء کو پھانسی پر لٹکایاگیا ‘ دارورسن پر چڑھایا گیا ‘ دریا شور عبور کرایاگیا ‘ حق گو لوگوں کا سراڑایا گیا ‘ (الکفر ملتٌ واحد) کا سماں تھا ‘ نقشہ الحفیظ والامان تھا ۔
  • بڑے بڑے جاگیردار‘ سرمایہ دار ‘ اور زمیندار حکومت کے وفادار تھے ‘ ملک کے غدار تھے ‘ مذہب سے بیزار تھے ‘ اعلیٰ عہدوں کے طلب گار تھے ‘ اکثر عیار ‘ مکار ‘ اور بے کار تھے ‘ مناصب کے نشے میں سرشار تھے ‘ مسلمان ذلیل و خار تھے ۔
  • قرآن کے نسخے جلاۓ گۓ ‘ اسلام کے نقشے مٹاۓ گۓ ‘  مجاہدوں پر مقدمے چلاۓ گۓ ‘ درختوں پر لٹکاۓ گۓ ۔ کالجوں کی تعلیم تھی‘ مسلمانوں میں نہ تنظیم تھی ‘ نہ اسلامی تعلیم تھی  ۔حق پرستوں کا گروہ بر سر پیکار تھا ‘ ہندوستان میدان کار زارتھا ‘ سب سے بڑا دشمن انگریزتھا ‘ جو بڑا شر انگیزتھا ‘ چالاک تھا ‘ تیز تھا ‘ پھربھی مقا بلہ مقاتلہ کامعاملہ کیا گیا ‘ مسلمانوں کی دینی تنزلی دیکھ کر غیور جاگ اٹھے ۔بلاخر انگریز اس ملک سے بھاگ اٹھے۔
  • دارالعلوم دیوبند نے ہزاروں مفسر ‘ محدث ‘ مفتی ‘ متکلم ‘ محقق ‘ مدقق ‘ مناظر ‘ معلم ‘ مبلغ ‘ مورخ مدبر‘  مفکر ‘ سیاستدان ‘ صحافی ‘ شاعر ‘ ماہرتیارکۓ  اورہزاروں فقہاء ‘ علماء ‘ فضلاء ‘ فصحا ‘ بلغا ‘ ادباء ‘ صلحاء ‘ اتقیاء ‘ اذکیاء ‘ اصفیاء ‘ اکابر ‘ شیوخ پیدا کیۓ ۔ ویسے تو دارالعلوم دیوبند نےہزارہا  فرزند ‘ ارجمند ‘سعادت مند سپوت  پیداکیۓ  مگر چند قدر بلند فاضل دیوبند ‘ دل پسند اکابرین ‘ بہترین ‘ بزرگ ترین کا تذکرہ ضروری ہے۔
  • شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمتہ اللہ علیہ ذوالمنن ‘ استاذالعلما ‘ مفسر ‘ محدث ‘ سیاستدان تھے ۔ محمود کی ہرصفت محمود تھی ‘ جو  ان  میں موجود تھی ‘ ان کا ہر شاگرد  رشید تھا ‘ قابل دید تھا ‘ لا ئق تقلید تھا۔
  •  حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ؒ انقلابی مدبر‘ مفکر ‘ سیاستدان مرد میدان تھے۔
  •  حضرت مولانا سید انور شاہ صاحبؒ محدث ‘ فقیہ ‘ مناظراسلام ‘باعمل ‘  کامل ‘ اکمل ‘ فاضل اجل تھے۔
  •  حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ  مفسر ‘ خطیب ‘ ادیب ‘ سیاستدان ‘  کامل انسان تھے۔
  •  حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ متصوف ‘ مصنف ‘ فقیہ ‘ مبلغ ‘ ولی اللہ ‘ اہل اللہ تھے۔
  •  حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی مجاہد ‘ محدث ‘سیاستدان ‘عامل قرآن اور عاشق رسولﷺ تھے۔
  •  حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ  مفتی اعظم ہند ‘ فقیہ ‘ مصنف ‘ مجاہد فی سبیل اللہ ‘ خلیق ‘ لیٔق ‘ شفیق  آدمی تھے۔
  •  حضرت مولانا عزیزارحمٰن صاحب عثمانیؒ مفتی ‘ فقیہ‘ لائق فائق تھے۔ 
  • حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی پر اللہ کا احسان تھا ‘  کیا عجب انسان تھا ‘ بہادر تھا ‘ مرد میدان تھا ‘ خادم قرآن تھا ‘ ذی شان تھا ‘ علماء کا قدر دان تھا ‘ عاشق نبی آخرالزامان تھا ‘ مرحوم کئی صفات کا حامل تھا ‘ علماء کے زمرہ  میں شامل تھا ‘ دشمنوں کا حبیب تھا ‘ خوش بخت تھا ‘  خوش نصیب تھا ‘ فصیح تھا ‘ ادیب تھا ‘ پاکستان کا خطیب تھا ‘ قاضی  غازی تھا ‘ اللہ اس سے راضی تھا ۔قاضی کے دست میں سخا تھی ‘ چشم میں حیا تھی ‘ طبیعت با وفا تھی ‘ پیاری ادا تھی ۔قاضی مہمان نواز تھا ‘ کامیاب تھا ‘ سرفراز تھا ‘ طمع سے بےنیاز تھا ‘ اسلام کا شہباز تھا ‘ پابند صوم وصلوٰۃ تھا ۔جلسے ہو رہے ہیں واعظ نہیں ۔منبر ہے زینت منبر نہیں ۔مسجد ہے خطیب نہیں ۔چمن ہے مالی نہیں ۔خزانہ ہے محافظ نہیں ۔مکان ہے مکین نہیں ۔ اب بھی موت پر یقین نہیں؟
  • درالعلوم دیوبند نے تین ہزار عربی مدارس ہند میں اور ایک ہزار مکاتب پاکستان میں نئے قائم کئے ‘  جو تعلیمی ‘ تبلیغی ‘  تدریسی کام  برسرعام ‘ صبح و شام ‘ ہرقدم ‘ ہر گام کر رہے ہیں ۔عرب وعجم میں تبلیغ کا  کام کیا ۔ہزاروں عیسائی  ہندو  مرزائی مسلمان کئے ۔فتنہ مرزائیت ‘  فتنہ بہائیت ‘ فتنہ عیسائیت ‘ فتنہ رضاخانیت ‘ فتنہ غیر مقلدیت ‘ فتنہ خارجیت ‘ فتنہ رافضیت کا مقابلہ کیا ۔انشاءاللہ قیامت تک یہ سلسلہ فیوضات بارکات  دن  رات  جاری  و ساری رہے گا ۔ان کی شاخیں لاکھوں درلاکھوں ہیں ۔ ماشاءاللہ لیل و نہار معروف کار مشغول حسب معمول و مقبول ہیں۔اللہم زد فزد

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔