2014/10/21

بھینس اور غیر مقلدین

8 تبصرے
بھینس اور غیر مقلدین 
کیا بھینس فرقہ جدید نام نہاد نفس پرست [اہل حدیث] غیر مقلدوں کے لیے حلال ہے یا حرام؟ فیصلہ خود کیجئے

رئیس المناظرین وکیل احناف ترجمان اہل سنت 


حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ

اسی پر مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آیا میں ایک گاؤں میں گیا جلسہ ہورہا تھا غیرمقلدوں کا ، بڑا شور تھا اشتہار لگے ہوئے تھے اہل حدیث کانفرنس

میں ویسے ہی تاریخ کے سلسلہ گیا ہوا تھا کوئی پروگرام پہلے نہیں تھا

بڑا شور مچ رہا ہے آؤں یہ تمہیں "ہدایہ" سے مسائل بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "بخاری" سے بتائے گے

یہ تمہیں "قدوری" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ترمذی" سے بتائے گے

یہ تمہیں "بہشتی زیور" سے بتاتے ہیں ، ہم تمہیں "ابو داؤد" سے مسائل بتائے گے

قرآن و حدیث سے ، قرآن حدیث سے ، قرآن و حدیث سے

میں نے کالج کے دو ، تین لڑکے بلائے ان کو بھیجا کہ ان [غیر مقلدوں] سے جاکر پوچھنا کہ مولوی صاحب سے کہ "بھینس کو عربی میں کیا کہتے ہے؟ وہ کہے گا "جاموس" ، تم لکھ لینا ، اب انہیں کہنا یہ قرآن و حدیث سے ثابت کرو کہ بھینس حلال ہے یا حرام؟


ٹھیک ہے وہ لڑکے چلے گئے ، اب میں نے کہا پہلے جو کاروائی ہو ، ایک لڑکا پوچھے باقی دو بیٹھے رہے ، بعد میں کیا ہوتا ہے بھائی بھائی ہے

انہوں نے جاکر پوچھا کہ جی بھینس کو آپ کیا کہتے ہے عربی میں؟ اس غیرمقلد مولوی نے کہا جاموس - اس لڑکے نے کہا ٹھیک میں لکھ لوں ذرا ، اس لڑکے نے کہا اب "جاموس" کا لفظ قرآن پاک کی کوئی آیت پڑھے جس میں لفظ جاموس آیا ہوں؟ اس غیرمقلد مولوی نے کہا قرآن پاک میں تو نہیں ہے ، اس لڑکے نے کہا معلوم ہوا اس کے حلال و حرام ہونے کا کوئی ذکر نہیں

پھر اس لڑکے نے کہا حدیث شریف پڑھے بخاری شریف کی؟ اس غیرمقلد مولوی نے کہا دیکھو تم شرارت کرنے آئے ہو؟ اس لڑکے نے کہا ہم کوئی شرارت کرنے نہیں آئے

یہ تو ہماری ضرورت ہے بھینس کا دودھ پینا ہے ، گوشت کھاتے ہے ، لسی پیتے ہے ، مکھن کھاتے ہے - فرق یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی یہ ضرورت پوری کرتے تھے "بہشتی زیور" سے ، اس میں ہم نے پڑھا تھا کہ بھینس حلال ہے ، اب آپ نے یہ اعلان کردیا کہ "بہشتی زیور" غلط کتاب ہے

تو صبح آپ کو پتہ ہے کہ سارے مسلمان نماز تو پڑھتے نہیں لیکن دودھ اور چائے تو سارے پیتے ہے نا ، تو پہلی ضرورت ہماری صبح کو یہی ہے ، وہ نماز پڑھے یا نہ پڑھے حلال و حرام کا تو پتہ ہونا چاہیے نا

کہتے ہے نا عید کا دن تھا تو بیٹی نے سیویاں پکائی تو والد صاحب سے پوچھا اور کہا ابا جی! آپ نے روزے تو رکھے نہیں آج عید کی سیویاں کھائے گے یا نہیں؟ تو والد نے کہا بیٹی عید کی سیویاں نہ کھاؤ تو کیا کافر ہوکر مرجاؤ؟ کفر و اسلام تو سیویوں پر آگیا نا روزوں کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں

اس لڑکے نے کہا یہ تو ہر آدمی نمازی ہو یا غیر نمازی اس کی ضرورت ہے صبح اٹھ کے چائے وغیرہ پینی ہے ، دہی کھانی ہے ، جب اس غیرمقلد مولوی نے دیکھا کہ یہ کالج کے لڑکے ہے جائیں گے نہیں ، تو اس نے اسپیکر والے کو اشارہ کرکے کہا کہ اسپیکر بند کردو ، غیرمقلد مولوی نے کہا کہ بھئی سچی بات یہی ہے کہ یہ مسئلہ ہم "قیاس" سے لیتے ہیں ، اس لڑکے نے کہا کہ پھر سچ بولنا چاہیے ، بتانا چاہیے یا چھپانا چاہیے ، غیرمقلد مولوی نے کہا میں نے بتا تو دیا ہے ، اس لڑکے نے کہا کہ اس طرح نہیں ، آپ اسپیکر کھولیں اور دس مرتبہ اعلان کریں کہ ہم اہل قیاس ہے ، ہم اہل قیاس ہے ، ہم اہل قیاس ہے

غیرمقلد مولوی بڑا پریشان کہ یہ کیا مصیبت ہوگئی ، اس لڑکے نہ کہا جب آپ قیاس کو مانتے ہیں تو اہل قیاس ہوئے نا؟ کیوں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوں کہ ہم اہل حدیث ہے؟ آپ تو اہل قیاس ہے

خیر یہ کالج کے لڑکے تھے ان لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے پوچھ لیا کہ ، اچھا قیاس کیا ہے تو کس پہ کیا ہے؟ کہ گائے پر ، اس لڑکے نے کہا کہ قیاس میں کوئی علت ہوتی ہے "مقیس اور مقیس علیہ" میں وہ کیا ہے؟ اس غیرمقلد مولوی نے بتانا شروع کیا

اس [گائے] کی بھی دو آنکھیں ہے ، اس [بھینس] کی بھی دو آنکھیں ہے

اس [گائے] کی بھی چار ٹانگیں ہے ، ان [بھینس] کی بھی چار ٹانگیں ہے

اس [گائے] کے بھی دو کان ہے ، اس [بھینس] کے بھی دو کان ہے

تو لڑکے نے کہا کہ مولوی صاحب اگر قیاس اتنا ہی سستا ہے ، تو پھر تو آج "کتیا" بھی حلال ہوجائے گی؟ اس [کتیا] کی بھی چار ٹانگیں ہے ، دو آنکھیں اور دو کان ہے؟ اگر قیاس اتنی ہی سستی چیز ہے؟ تو یہ بھی فرمائے کہ میری بیوی تو نکاح سے میرے لئے حلال ہوگئی نا ، تو آپ کی بیوی اس قیاس سے میرے لیے حلال ہوجائے گی یا نہیں ، کیوں کہ اس قسم کی مشابہت تو وہاں بھی پائے جاتی ہے؟

تو دو تین غیرمقلد کھڑے ہوئے اور اپنے مولوی صاحب کو اسٹیج سے اتار دیا کہ بس کرو خواہ مخواہ بے عزتی کروائی آپ نے اور آپ کو کچھ نہیں آتا ، تو ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا آگیا باقی دو وہاں بیٹھے رہے ، اس نے آکر اتنی کاروائی مجھے بتائی

میں نے اپنی مسجد کا اسپیکر کھولا "جہاں میں گیا ہوا تھا" تو میں نے کہا کہ دیکھو بھئی کوئی آدمی دھوکے میں نہ رہے جلسہ اگرچہ نام "اہلحدیث" کا تھا ، لیکن وہ اہل قیاس نکلے ہے اہل قیاس - اس لیے کل میں سب حنفی دوستوں سے یہ عرض کروں گا کہ کل صبح ان غیرمقلدوں کو سلام کہے تو "یا اہل قیاس اسلام علیکم ، یا اہل قیاس اسلام علیکم" ‏‎تو غیرمقلدین بڑے پریشان کہ پورے علاقے میں اہل قیاس ، اہل قیاس مشہور ہوجائے گا

اس کے بعد دوسرے غیرمقلد مولوی صاحب اسپیکر پر آئے اور اس نے کہا کہ قیاس نہیں حدیث ہے ہمارے پاس [حدیث] ٹھیک ہے سناؤ؟ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے! جو جانور ڈاڑھ سے شکار کریں وہ بھی حرام ہے اور جو پنجے سے شکار کریں وہ بھی حرام ہے ، بھینس نہ ڈاڑھ سے شکار کرتی ہے نہ پنجے سے - اس حدیث سے ثابت ہوگیا کہ بھینس حلال ہے

میں نے کہا بہت شکریہ آپ کا کہ آپ نے حدیث سنادی ہمیں ، یہ فرمائے کہ آپ نے جو "گدھا" رکھا ہوا ہے ، وہ نہ ڈاڑھ سے شکار کرتا ہے نہ پنجے سے کرتا ہے ، تو وہ بھی حلال ہونا چاہیے نا؟ وہ غیرمقلد مولوی بڑا پریشان ہوا ، کہنے لگا ہاں ہاں "بخاری شریف" میں حدیث ہے کہ جنگلی گدھا حلال ہے ، جنگلی گدھا حلال ہے
اب میں اسپیکر پر کہہ رہا ہوں کہ بھئی اس [غیرمقلد مولوی] کو سمجھاؤ ، میں کہتا ہوں بھینس حلال کرو یہ گدھا حلال کررہا ہے ، ان کو بھینس اور گدھے کی تمیز نہیں

وہ غیرمقلد مولوی کہنے لگا کہ یہ دھوکہ دے رہا ہے ، میں صرف جنگلی گدھ حلال کررہا ہوں ، تو میں نے جواب میں کہا جو گھر والا [گدھا] ہے ، کیا اس نے شکار کھیلنا شروع کردیا ہے؟ بس وہ [غیرمقلد مولوی] خاموش ہوگیا

پھر تیسرے غیرمقلد مولوی صاحب کھڑے ہوئے ، اور کہنے لگے کہ نہیں جی حدیث سے تو ثابت نہیں ہوتا "قیاس" ہے ہمارے پاس

اب ان سے پوچھا کہ کیا قیاس ہے؟ غیرمقلد مولوی صاحب کہنے لگے کہ جس جانور کے کھر چرے ہوئے نا کھر وہ جانور حلال ہے ، یہ علت ہے قیاس کی ، تو میں نے کہا کہ پھر خنزیر بھی حلال ہوگیا ، اس کے کھر بھی چرے ہوئے ہوتے ہے؟ اب اس کے بعد وہ غیرمقلد مولوی بھی بیٹھ گیا آرام سے - - پھر جلسہ ختم ہوگیا

پھر میں نے اپنی مسجد کا اسپیکر کھول کر لوگوں کو سمجھایا کہ اس وقت سمجھ آتی ہے کہ فقہاء نے کتنا بڑا کام کیا ہے ، انہوں نے بتایا کہ قرآن پاک میں چار جانوروں کا ذکر آیا ہے ، اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری کا ، مجتہدین نے ان سے مشترکہ علت نکالی ہے جگالی کرنا ، جگالی سمجھتے ہیں آپ؟ سرائیکی والے حقل کہتے ہیں کہ جانور گھاس کھاتا ہے پھر دوبارہ منہ ملاکر جگالی کرتا ہے - تو میں نے کہا کہ ایک قاعدہ بن گیا کتاب و سنت سے کہ جگالی کرنے والا جانور حلال ہے ، جو [جگالی] نہیں کرتا وہ حرام ہے ، اب آپ پوری دنیا کے جانور پوچھتے جائیں - لومڑی حلال ہے؟ نہیں حرام ہے جگالی نہیں کرتی ، بھینس حلال ہے؟ ہاں حلال ہے جگالی کرتی ہے ، گیڈر حلال ہے؟ نہیں جگالی نہیں کرتا - تو اب آپ اندازہ لگائیں کہ ایک ایسی علت نکال لی کہ پوری دنیا کے جانوروں کے حلال و حرام ہونے کا مسئلہ حل ہوگیا - اسی کو کہتے ہیں "فقہ اور تفقہ" ، دین ہمارا کامل ہے یا نہیں ، یہ لوگ جو دھوکہ دیتے ہے کہ ہم صرف قرآن و حدیث صرف قرآن و حدیث مانتے ہیں
اسی دھوکے میں لوگ ان کے پاس جاتے ہے؟

8 تبصرے:

  • 28 April 2015 at 11:22

    احناف سمجھتے ہیں کہ شاید بھینس کو امام ابو حنیفہ نے حلال کیا ہے ۔
    تو ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر تو ابو حنیفہ صاحب نے بھینس کو حلال کیا ہے یعنی کتاب وسنت میں اسکی حلت نہ تھی بلکہ اپنی طرف سے اختراع کی ہے تو موصوف جناب ابو حنیفہ صاحب نے کیاکیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معلوم تو ہے نا آپ کو ؟ !!!
    کیونکہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرنا کفر ہے ۔
    اور اگر کتاب وسنت میں اسکی حلت موجود تھی اور انہوں نے کتاب وسنت سے ہی اسے استنباط کیا ہے تو کون سا تیر مار لیا ہے ۔ یہ کام تو آج ہم بھی کر رہے ہیں ‘ بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں ہی بھینس عربستان پہنچ چکی تھی اور اسے حلال ہی سمجھا گیا ۔ اسکا دود پیا گیا اور گوشت کھأیا گیا

  • 28 April 2015 at 11:24

    قران سے دلیل:

    { هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} [البقرة: 29]
    وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ۔

    اس آیت میں‌ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ زمین کی تمام چیزیں ہمارے لئے ہیں یعنی حلال ہیں‌ ، اب بھینس اس کا دودھ مکھن وغیرہ یہ سب بھی زمین ہی کی چیزیں ہیں لہٰذا یہ بھی حلال ہیں ۔

  • 28 April 2015 at 11:25

    حدیث سے دلیل:


    عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ، وَالْجُبْنِ، وَالْفِرَاءِ قَالَ: «الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ، فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ» سنن ابن ماجه (2/ 1117 رقم 3367 ) یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ صحیح‌ ہے،مستدرک حاکم میں‌ جواس کا شاہد ہے اس میں آگے یہ الفاظ بھی ہیں ’’ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ الْعَافِيَةَ‘‘ المستدرك على الصحيحين للحاكم (2/ 406) صححہ الحاکم ووافقہ الذھبی۔

    صحابی رسول سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھی، دہی اور گورخر کے متعلق دریافت کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرما دیا اور جس چیز کے بارے میں سکوت فرمایا وہ معاف ہے۔ (اس کے استعمال پر کوئی مواخذہ نہیں) ۔ اورمستدرک حاکم میں‌ جواضافہ ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اسے قبول کرویعنی اس کا جواز ہے۔

  • 28 April 2015 at 11:30

    یہی تو ہم عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ قران وحدیث‌ میں کسی چیز کے نام کا نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کا حکم قران وحدیث میں‌ نہیں ہے۔
    اگرقران وحدیث میں قادیانی کے نام نہ ہونے کے باوجود بھی اس کے کافرودجال ہونے کی دلیل قران وحدیث میں موجود ہے
    تو قران وحدیث میں بھینس وغیرہ کے نام نہ ہونے کے باوجود بھی اس کے جواز کی دلیل قران وحدیث میں موجودہے۔

  • 28 April 2015 at 11:31

    قران میں مردہ جانورکوحرام قراردیا گیاہے، ارشادہے:
    {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ} [المائدة: 3]
    اس دلیل کی وجہ سے یہی کہا جائے گا کہ ہرمردہ جانور حرام ہے ، لیکن مردہ مچھلی کوحرام کوئی نہیں کہتا کیونکہ اس کے حلال ہونے کی دلیل الگ سے حدیث میں موجودہے ۔

    یہی حال ہماری پیش کردہ دلیل کا ہے اس دلیل سے زمین کی ساری چیزیں حلال قرارپائیں گی ۔
    لیکن اگرکسی چیزسے متعلق قران وحدیث‌ میں حرمت کا حکم موجود ہے ہو تو وہ چیز اس حکم سے مستثنی ہوگی خنزیر وغیرہ کی حرمت کے دلائل الگ سے موجودہیں۔

  • 15 January 2017 at 14:58

    تب تو کتا بھی حلال ہوگا کیوں کہ یہ بھی زمین کی چیزوں میں سے ہے

  • 28 January 2017 at 05:13

    اہل حدیث باالخبیث کے لیے سب حلال

  • 15 June 2017 at 04:28

    کتّا ذبح کر کے بیچنا جائز
    غیر حنفی بھائی حنفی حضرات سے گوشت خریدتے وقت ضرور تسلی کر لیں کہ گوشت کتّے کا نہ ہو، کیونکہ یہ صرف فقہ حنفی میں حلال ہے۔
    اس کے علاوہ حنفی بھائی شراب کا کاروبار بھی کر سکتے ہیں کیوننکہ ان کے امام اعظم کے نزدیک جائز ہے
    (فتاویٰ عالمگیری ج ۴، کتاب البیوع

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔