2016/07/11

نماز تراویح

0 تبصرے
نماز تراویح

از: مولانا نجیب قاسمی سنبھلی
najeebqasmi@yahoo.com

نبی اکرم اکے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نمازِ تراویح فرض نہیں؛ بلکہ سنت موٴکّدہ ہے۔ البتہ ۱۴۰۰ سال سے جاری عمل کے خلاف بعض حضرات ۲۰ رکعت نمازِ تراویح کو بدعت یا خلاف ِسنت قرار دینے میں ہر سال رمضان اور رمضان سے قبل اپنی صلاحیتوں کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں، جس سے امت مسلمہ کے عام طبقہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے؛ حالانکہ اگر کوئی شخص ۸ کی جگہ ۲۰ رکعت پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی ۸ رکعت تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
اس موضوع سے متعلق احادیث کا جتنا بھی ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی ایک صحیح ،معتبر ،اور غیرقابل نقد وجرح حدیث میں نبی اکرم اسے تراویح کی تعداد رکعت کا واضح ثبوت نہیں ملتا ہے، اگرچہ بعض احادیث میں جن کی سند میں یقینا کچھ ضعف موجود ہے ۲۰ رکعت کا ذکر ملتا ہے۔
خلیفہٴ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وتر جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام ہوا،جیساکہ محدثین،فقہاء ، موٴرخین اور علماء کرام نے تسلیم کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم انے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم انے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق  کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)
ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں ہوئی او ر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ۱۵ ہجری میں تراویح کی جماعت حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں باقاعدہ شروع فرمائی، اگر بیس رکعات تروایح کا عمل بدعت ہوتا تو ۴۲سال کے طویل عرصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آٹھ رکعت والی حدیث کو بیس رکعت پڑھنے والوں کے خلاف پیش کرنا ثابت ہوتا؛ حالانکہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے آج تک حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں کبھی بھی ۲۰ سے کم تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
تراویح کے معنی:
بخاری شریف کی مشہور ومعروف شرح لکھنے والے حافظ ابن حجر العسقلانی  نے تحریر کیا ہے کہ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ کے معنی: ایک دفعہ آرام کرنا ہے، جیسے تسلیمہ کے معنی ایک دفعہ سلام پھیرنا۔ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ عشاء کے بعد باجماعت نماز کو تراویح کہا جاتا ہے، کیونکہ صحابہٴ کرام کا اتفاق اس امر پر ہوگیا کہ ہر دوسلاموں (یعنی چار رکعت ) کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب صلاة التراویح)
نماز تراویح کی فضیلت:
* حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو ، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لیے نہیں؛ بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادت کی جائے۔

نماز تراویح کی تعدادِ رکعت:

تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل دیے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں :
(۱) امام بخاری  نے اپنی مشہور کتاب (بخاری) میں نمازِ تہجد کا ذکر (کتاب التہجد) میں؛ جبکہ نماز تراویح کو (کتاب صلاة التراویح) میں ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں، جیساکہ جمہور علماء اور ائمہٴ اربعہ نے فرمایا ہے، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتی تو امام بخاری  کو دو الگ الگ باب باندھنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوتی۔ حضرت عائشہ  والی حدیث کتاب التہجد میں ذکر فرماکر امام بخاری نے ثابت کردیا کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے۔
(۲) تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور اِس حدیث میں ایسی نماز کا ذکر ہے جو رمضان کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔
(۳) اگر حضرت عائشہ  کے فرمان کا تعلق تراویح کی نماز سے ہے تو حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں جب باضابطہ جماعت کے ساتھ ۲۰ رکعت تراویح کا اہتمام ہوا تو کسی بھی صحابی نے اِس پر کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟ (دنیا کی کسی کتاب میں ، کسی زبان میں بھی، کسی ایک صحابی کا حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ۲۰رکعت تراویح کے شروع ہونے پر کوئی اعتراض مذکور نہیں ہے) اگر ایسی واضح حدیث تراویح کی تعداد کے متعلق ہوتی تو حضرت عمر فاروق  اور صحابہٴ کرام کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ ۸ رکعت تراویح کی جگہ ۲۰ رکعت تراویح شروع کردیتے۔ صحابہٴ کرام تو ایک ذرا سی چیز میں بھی آپ ا کی تعلیمات کی مخالفت برداشت نہیں کرتے تھے۔ اور نبی اکرم ا کی سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ یقینا صحابہٴ کرام میں ہم سے بہت زیادہ تھا؛ بلکہ ہم (یعنی آج کے مسلمان) صحابہ کی سنتو ں پر عمل کرنے کے جذبہ سے اپنا کوئی مقارنہ بھی نہیں کرسکتے۔ نیز نبی اکرم ا کا فرمان ہے : ہم خلفاء راشدین کی سنتوں کوبھی مضبوطی سے پکڑلیں۔ (ابن ماجہ)
(۴) اگر اس حدیث کا تعلق واقعی تراویح کی نماز سے ہے (اور تہجد و تراویح ایک نماز ہے) تو رمضان کے آخری عشرہ میں نمازِ تراویح پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟
(۵) اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جیساکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص ۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) ۔
علامہ شمس الدین کرمانی (شارح بخاری) تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے اور حضرت ابوسلمہ  کا مذکورہ بالا سوال اور حضرت عائشہ  کا جواب تہجد کے متعلق تھا۔ (الکوکب الدراری شرح صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۵۵۔۱۵۶)
حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی  فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ حضور اکرم ا گیارہ رکعت (وتر کے ساتھ) پڑھتے تھے وہ تہجد کی نماز تھی۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی  تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کی نماز پر محمول ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں برابر تھی۔ (مجموعہ فتاوی عزیزی ص ۱۲۵)
نمازِ تراویح نبی اکرم ا کے زمانے میں:
* حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ انے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز تراویح پڑھی۔ لوگوں نے آپ اکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپ ا نماز تراویح کے لیے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (مسلم ، الترغیب فی صلاة التراویح)․․․․․․اِن دو یا تین رات کی تراویح کی رکعت کے متعلق کوئی تعداد احادیثِ صحیحہ میں مذکور نہیں ہے۔
* حضرت ابوہریرہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا قیام رمضان کی ترغیب تو دیتے تھے؛ لیکن وجوب کا حکم نہیں دیتے۔ آپ ا فرماتے کہ جوشخص رمضان کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھے اور وہ ایمان کے دوسرے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور ثواب کی نیت سے یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے۔ رسول اللہ ا کی وفات تک یہی عمل رہا، دورِ صدیقی اور ابتداء عہد فاروقی میں بھی یہی عمل رہا۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاة التراویح)
صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ا کی حیات میں ، حضرت ابوبکر صدیق کے دورِ خلافت اور حضرت عمر فاروق  کے ابتدائی دور خلافت میں نماز تراویح جماعت سے پڑھنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صرف ترغیب دی جاتی تھی؛ البتہ حضرت عمر فاروق  کے عہد خلافت میں یقینا تبدیلی ہوئی ہے، اس تبدیلی کی وضاحت مضمون میں محدثین اورفقہائے کرام کی تحریروں کی روشنی میں آرہی ہے۔
* حضرت عائشہ  کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک یہ حدیث تہجد کی نماز سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے۔
امام محمد بن نضر مروزی نے اپنے مشہور کتاب (قیام اللیل ، ص ۹۱ اور ۹۲) میں قیام رمضان کا باب باندھ کر بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل فرمائی ہیں؛ مگر مذکورہ بالا حدیث ِعائشہ نقل نہیں فرمائی؛ اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث تراویح کے متعلق ہے ہی نہیں۔
علامہ ابن قیم نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (زاد المعاد ص ۸۶) میں قیام اللیل (تہجد) کے بیان میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کے متعلق حافظ حدیث امام قرطبی  کا یہ قول بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ بہت سے اہل علم حضرات اس روایت کو مضطرب مانتے ہیں۔ (عینی شرح بخاری ج۷ ص ۱۸۷)
نمازِ تراویح خلفاء راشدین کے زمانے میں:
* حضرت ابو بکر صدیق  کے عہد میں کتنی تراویح پڑھی جاتی تھیں، احادیث صحیحہ میں صحابہٴ کرام کا کوئی واضح عمل مذکور نہیں ہے۔ گویا اس دور کا معمول حسب سابق رہا اور لوگ اپنے طور پر نماز تراویح پڑھتے رہے، غرضے کہ حضرت ابو بکر صدیق  کے عہدِ خلافت (یعنی دو رمضان) میں نماز تراویح باقاعدہ جماعت کے ساتھ ایک مرتبہ بھی ادا نہیں ہوئی ۔
* حضرت عمر فاروق  نے جب اپنے عہد خلافت میں لوگوں کو دیکھا کہ تنہا تنہا تراویح کی نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا، اور عشاء کے فرائض کے بعد وتروں سے پہلے باجماعت ۲۰ رکعت نماز تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے کا باضابطہ سلسلہ شروع کیا۔
 * حضرت عبد الرحمن قاری  فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر فاروق کے ہمراہ رمضان میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروپوں میں علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا پڑھ رہا ہے اور کسی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں، اس پر حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ واللہ! میرا خیال ہے کہ اگر ان سب کو ایک امام کی اقتداء میں جمع کردیا جائے تو بہت اچھا ہے اور سب کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کردیا ۔ ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم دوسری رات نکلے اور دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز تراویح ادا کررہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ یہ بڑا اچھا طریقہ ہے اور مزید فرمایا کہ ابھی تم رات کے جس آخری حصہ (تہجد) میں سوجاتے ہو ،وہ اس (تراویح) سے بھی بہتر ہے جس کو تم نماز میں کھڑے ہوکر گزارتے ہو۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان)
* حضرت یزید بن رومان  فرماتے ہیں کہ لوگ (صحابہٴ کرام) حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں ۲۳ رکعت (۲۰ تراویح اور۳وتر) ادا فرماتے تھے۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان، ص ۹۸)
* علامہ بیہقی نے کتاب المعرفہ میں نقل کیا ہے کہ حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور حکومت میں ہم ۲۰ رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ امام زیلعی  نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (نصب الرای ج ۲ ص ۱۵۴)
* حضرت ابی بن کعب  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے انہیں حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھائیں؛ چنانچہ فرمایا کہ لوگ سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور قراء ت اچھی طرح نہیں کرسکتے۔ اگر آپ رات کو انہیں (نماز میں) قرآن سنائیں تو بہت اچھا ہوگا۔ پس حضرت ابی بن کعب  نے انہیں ۲۰ رکعتیں پڑھائیں۔ (مسند احمد بن منیع بحوالہ اتحاف الخیرة المہرة للبوصیری علی المطالب العالیہ ج۲ ص ۴۲۴)
* موطا امام مالک میں یزید بن خصیفہ کے طریق سے سائب بن یزید  کی روایت ہے کہ عہد فاروقی میں بیس رکعت تراویح تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر ج ۴ ص ۳۲۱، نیل الاوطار للشوکانی ج۲ ص ۵۱۴)
* حضرت محمد بن کعب القرظی  (جو جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر  کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔ ( قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
* حضرت یحییٰ بن سعید  کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ (مصنف بن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
* حضرت حسن  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب  کی امامت پر جمع فرمایا۔ وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھاتے تھے۔ (ابو داوٴد ج۱ ص ۲۱۱، باب القنوت والوتر)
* حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور میں تین رکعت (وتر) اور بیس رکعت (تراویح) پڑھی جاتی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق ج ۴ ص ۲۰۱، حدیث نمبر ۷۷۶۳)
* حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور میں تین رکعت (وتر) اور بیس رکعت (تراویح) پڑھی جاتی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق ج ۴ ص ۲۰۱، حدیث نمبر ۷۷۶۳)
* حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ہم ۲۰ رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے، اور قاری صاحب سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان غنی  کے دور میں لاٹھیوں کا سہارا لیتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج۲ ص ۴۹۶)
* حضرت ابو الحسناء سے روایت ہے کہ حضرت علی  نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
* حضرت ابو عبدالرحمن السلمی سے روایت ہے کہ حضرت علی  نے رمضان میں قاریوں کو بلایا۔ پھر ان میں سے ایک قاری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے اور حضرت علی  خود انہیں وتر پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
نماز ِ تراویح سے متعلق صحابہ وتابعین کا عمل:
* حضرت اعمش  فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  کا معمول بھی بیس رکعت تروایح اور تین رکعت وتر پڑھنے کا تھا۔ (قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
 * حضرت حسن بصری حضرت عبد العزیز بن رفیع  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب  رمضان میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
* حضرت عطا بن ابی رباح  (جلیل القدر تابعی، تقریباً ۲۰۰ صحابہٴ کرام کی زیارت کی ہے) فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں (صحابہ ) کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھتے پایا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
* حضرت ابراہیم نخعی  (جلیل القدر تابعی، کوفہ کے مشہور ومعروف مفتی) فرماتے ہیں کہ لوگ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت پڑھتے تھے۔ (کتاب الآثار بروایت ابی یوسف ص ۴۱)
* حضرت شیتر بن شکل  (نامور تابعی، حضرت علی  کے شاگرد) لوگوں کو رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
* حضرت ابو البختری  (اہل کوفہ میں اپنا علمی مقام رکھتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت عمر  اور حضرت ابو سعید  کے شاگرد) ۔ آپ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
* حضرت سوید بن غفلہ  (حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ صحابہ کی زیارت کی ہے)۔ آپ کے بارے میں ابو الخضیب فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ  رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
* حضرت ابن ابی ملیکہ  (جلیل القدر تابعی، تقریباً تیس صحابہٴ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے) آپ کے متعلق حضرت نافع بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکہ  ہمیں رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)

نماز ِ تراویح سے متعلق اکابرین امت کے اقوال:

امام ابو حنیفہ : علامہ ابن رشد  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  کے ہاں قیام رمضان بیس رکعت ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
امام فخر الدین قاضی خان  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہر رات بیس یعنی پانچ ترویحہ وتر کے علاوہ پڑھنا سنت ہے۔ (فتاوی قاضی خان ج۱ ص۱۱۲)
علامہ علاء الدین کاسانی حنفی  لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا صحیح قول یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے حضرت ابی بن کعب  کی امامت میں صحابہٴ کرام کو تراویح پڑھانے پر جمع فرمایا تو انہوں نے بیس رکعت تراویح پڑھائی اور صحابہ کی طرف سے اجماع تھا۔ (بدائع الصنائع)
امام مالک: امام مالک  کے مشہور قول کے مطابق تراویح کی ۳۶ رکعت ہیں؛جبکہ ان کے ایک قول کے مطابق بیس رکعت سنت ہیں۔ علامہ ابن رشدقرطبی مالکی  فرماتے ہیں کہ امام مالک  نے ایک قول میں بیس رکعت تراویح کو پسند فرمایا ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
مسجد حرام میں تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد ترویحہ کے طور پر مکہ کے لوگ ایک طواف کرلیا کرتے تھے، جس پر مدینہ منورہ والوں نے ہر ترویحہ پر چار چار رکعت نفل پڑھنی شروع کردیں تو اس طرح امام مالک کی ایک رائے میں ۳۶ رکعت (۲۰ رکعت تراویح اور ۱۶ رکعت نفل) ہوگئیں۔
امام شافعی : امام شافعی  فرماتے ہیں کہ مجھے بیس رکعت تراویح پسند ہیں، مکہ مکرمہ میں بیس رکعت ہی پڑھتے ہیں۔ (قیام اللیل ص ۱۵۹) ایک دوسرے مقام پر امام شافعی  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھتے پایا ہے۔ (ترمذی ج ۱ ص ۱۶۶) علامہ نووی شافعی  لکھتے ہیں کہ تراویح کی رکعت کے متعلق ہمارا (شوافع) مسلک وتر کے علاوہ دس سلاموں کے ساتھ بیس رکعت کا ہے، اور بیس رکعت پانچ ترویحہ ہیں اور ایک ترویحہ چار رکعت کا دوسلاموں کے ساتھ، یہی امام ابوحنیفہ  اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل  اور امام داوٴد ظاہری کا مسلک ہے اور قاضی عیاض  نے بیس رکعت تراویح کو جمہور علماء سے نقل کیا ہے۔ (المجموع)
امام احمد بن حنبل: فقہ حنبلی کے ممتاز ترجمان علامہ ابن قدامہ  لکھتے ہیں : امام ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل) کا پسندیدہ قول بیس رکعت کا ہے اور حضرت سفیان ثوری  بھی یہی کہتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت عمر فاروق  نے صحابہٴ کرام کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت پڑھتے تھے، نیز حضرت امام احمد ابن حنبل  کا استدلال حضرت یزید وعلی کی روایات سے ہے۔ ابن قدامہ  کہتے ہیں کہ یہ بمنزلہ اجماع کے ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ جس چیز پر حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عمل پیرا رہے ہوں ، وہی اتباع کے لائق ہے۔ (المغنی لابن قدامہ ج۲ ص۱۳۹، صلاة التراویح)
 امام ترمذی  فرماتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک وہی ہے جو حضرت علیو حضرت عمر  اور دیگر صحابہٴ کرام سے منقول ہے کہ تراویح میں بیس رکعت ہیں، حضرت سفیان ثوری، ابن مبارک  اور امام شافعی  کا بھی یہی مسلک ہے اور امام شافعی  فرماتے ہیں کہ میں نے اہل مکہ کو بیس رکعت پڑھتے دیکھا۔ (ترمذی، ما جاء فی قیام شہر رمضان) امام ترمذی نے اس موقع پر تحریر کیا ہے کہ بعض حضرات مدینہ منورہ میں ۴۱ رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔ لیکن امام ترمذی  نے اہل مکہ یا اہل مدینہ میں سے ۸ تراویح پر کسی کا عمل نقل نہیں کیا۔
مسلم شریف کی سب سے مشہور ومعروف شرح لکھنے والے علامہ نووی  جو ریاض الصالحین کے مصنف بھی ہیں فرماتے ہیں کہ قیام رمضان سے مراد تراویح ہے اور تمام علماء متفق ہیں کہ یہ نماز اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے؛ البتہ اس میں کچھ اختلاف ہے کہ گھر میں اکیلا پڑھنا بہتر ہے یا مسجد میں باجماعت؟ تو امام شافعی  ، امام ابو حنیفہ ، امام احمد بن حنبل ، بعض مالکی اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ باجماعت پڑھنا بہتر ہے؛ چونکہ حضرت عمر فاروق  اور حضرات صحابہٴ کرام نے ایسا ہی کیا اور اس پر مسلسل عمل جاری ہے حتی کہ یہ مسلمانوں کی ظاہری علامات میں سے ایک علامت ہے۔ (شرح مسلم للنووی، ملخص: الترغیب فی قیام رمضان)
نیز علامہ نووی  فرماتے ہے کہ جان لو کہ نماز تراویح کے سنت ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے اور یہ بیس رکعت ہیں، جن میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ (الاذکار ص ۸۳)
علامہ عینی (بخاری شریف کی شرح لکھنے والے) تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان ، حضرت علی  کے زمانہ میں تراویح کی بیس رکعت پڑھی جاتی تھیں۔ (عینی ج۷ ص ۱۷۸)
شیخ امام غزالی  فرماتے ہیں کہ تراویح بیس رکعتیں ہیں جن کا طریقہ معروف ومشہور ہے اور یہ سنت موٴکدہ ہے۔ (احیاء العلوم ج۱ ص ۱۳۲)
شیخ عبد القادر جیلانی  فرماتے ہیں کہ تراویح نبی اکرم ا کی سنت مبارکہ ہے اور یہ بیس رکعت ہیں۔ (غنیہ الطالبین ص ۲۶۷، ۲۶۸)
مولانا قطب الدین خان محدث دہلوی  فرماتے ہیں : اجماع ہوا صحابہ کا اس پر کہ تراویح کی بیس رکعت ہیں۔ (مظاہر حق ج۱ ص ۴۳۶)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  نے اپنی سب سے مشہور ومعروف کتاب (حجة اللہ البالغہ) میں تحریر کیا ہے کہ صحابہٴ کرام اور تابعین کے زمانہ میں تراویح کی بیس رکعت مقرر ہوئی تھیں؛ چنانچہ فرماتے ہیں کہ صحابہٴ کرام اور تابعین نے قیام رمضان میں تین چیزیں زیادہ کی ہیں :
(۱) مسجدوں میں جمع ہونا؛ کیونکہ اس سے عوام وخواص پر آسانی ہوتی ہے۔
(۲) اس کو شروع رات میں ادا کرنا؛ جبکہ اخیر رات میں پڑھنا زیادہ افضل ہے جیساکہ حضرت عمر فاروق  نے اس طرف اشارہ فرمایا۔
(۳) تراویح کی تعداد بیس رکعت۔ (حجة اللہ البالغہ ج۲ ص ۶۷)
مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی  نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عمرفاروق کے دور میں جو طریقہ بیس رکعت پڑھانے کا ہوا ، اس کو علماء نے اجماع کے مثل شمار کیا ہے۔ (عون الباری ج۴ ص ۳۱۷)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی حدیث کی
مکمل عبارت اور اس کا صحیح مفہوم:
عَنْ اَبِی سَلْمیٰ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہ اَخْبَرَہ اَنَّہ سَألَ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَیْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَان رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَزِیْدُ فِیْ رَمَضَانَ وَلَا فِیْ غَیْرِہ عَلَی اِحْدَی عَشَرَةَ رَکْعَةً یُصَلِّیْ اَرْبَعاً فَلَا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ اَرْبَعاً فَلَا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثَلَاثاً․ قَالَتْ یَارَسُولَ اللّٰہِ اَتَنَامُ قَبْلَ اَنْ تُوتِرَ فَقَالَ: یَا عَائِشَةُ! اِنَّ عَیْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ․․ (بخاری، کتاب التہجد)
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کی کیا کیفیت ہوا کرتی تھی؟ تو حضرت عائشہ  نے فرمایا کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھاکرتے تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اوران کی خوبی اور ان کی لمبائی کے بارے میں مت پوچھو (کہ وہ کتنی خوب اور کتنی لمبی ہوا کرتی تھیں) پھر آپ چار رکعت اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔

﴿وضاحت﴾: یاد رکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا اصل تعلق تہجد کی نماز سے ہے اور تہجد اور تراویح دو الگ الگ نمازیں ہیں، یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔

 اس حدیث میں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خوب لمبے قیام ورکوع وسجدہ والی چار رکعت ادا کرتے تھے پھر خوب لمبے قیام ورکوع وسجدہ والی چار رکعت ادا کرتے تھے، اور پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔ حدیث کے الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سوال اور جواب کا اصل مقصد حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کو بیان کرنا ہے، نہ کہ تعداد رکعت کو۔ بعض حضرات نے تہجد اور تراویح کی نماز کو ایک سمجھ کر حدیث میں وارد گیارہ میں سے آٹھ کے لفظ کو تراویح کے لیے لے لیا؛ لیکن گیارہ رکعت پڑھنے کی کیفیت اور تین رکعت وتر کو نظرانداز کردیا۔
اگر نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ایک ہی نماز ہے اور تراویح کے آٹھ رکعت ہونے کی یہی حدیث دلیل ہے، تو چاہیے کہ اس حدیث کے تمام اجزاء پر عمل کیا جائے اور اس میں بیان کردہ پوری کیفیت کے ساتھ نماز تراویح ادا کی جائے یا کم از کم اس کے مسنون ہونے کو بیان کیا جائے؛مگر اس حدیث سے صرف آٹھ کا لفظ تو لے لیا؛ مگر آٹھ رکعت نماز کی کیفیت کو چھوڑ دیا؛ کیونکہ اس میں لمبی لمبی چار چار رکعت پڑھنے کاذکر ہے اور تین رکعت وتر کا ذکر ہے، نیز وتر کے لیے تین کے لفظ کو چھوڑ کر صرف ایک ہی رکعت وتر کو اپنی سہولت کے لیے اختیار کرلیا۔ اس حدیث میں ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھنے کے بعد سوجاتے پھر وتر پڑھتے تھے؛ حالانکہ ماہِ رمضان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے سارے حضرات نماز عشاء کے ساتھ تراویح پڑھنے کے فوراً بعد وتر جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ بخاری کی اس حدیث کے صرف آٹھ کے لفظ کو لے کر باقی تمام امور کو چھوڑ نا، یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر عمل کرنا نہیں ہوا؛ بلکہ اپنے اسلاف کے قرآن وحدیث فہمی پر قناعت کرنا ہے اور یہی تقلید ہے؛ حالانکہ بخاری میں ہی حضرت عائشہ  کی دوسری حدیث ہے : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی بِالَّیْلِ ثَلَاثَ عَشَرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ یُصَلِّیْ اِذَا سَمِعَ النِّدَا بِالصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ (باب ما یقرأ فی رکعتی الفجر) یعنی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز تیرہ رکعت پڑھتے تھے اور جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعت ادا کرتے (یعنی فجر کی سنت)۔غور فرمائیں کہ گیارہ رکعت والی حدیث بھی بخاری میں ہے اور تیرہ رکعت والی حدیث بھی بخاری میں اور دونوں حدیثیں حضرت عائشہ  سے ہی مروی ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ گیارہ رکعت والی حدیث میں سے لفظ آٹھ کو تو لے لیا اور تیرہ رکعت والی حدیث کو بالکل ہی چھوڑدیا؛ حالانکہ تیرہ رکعت والی حدیث میں ”کان“ کالفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ماضی استمرار کے لیے ہے یعنی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا تیرہ رکعت پڑھنے کا معمول تھا۔ نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح کو ایک کہنے والے حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں دونوں احادیث میں تطبیق دینے سے قاصر ہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ کی آٹھ رکعت والی حدیث میں تو چار چار رکعت پڑھنے کا تذکرہ ہے؛ لیکن عمل دو دو رکعت پڑھنے کا ہے تو جواب میں دوسری حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں نماز تہجد کو دو دو رکعت پڑھنے کا تذکرہ ہے، اور وہ حضرت عبد اللہ بن عباس  کی حدیث ہے جو بخاری ہی (کتاب الوتر) میں ہے: ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ اَوْتَرَ․حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز تہجد پہلے دو رکعت ادا کی، پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر وتر پڑھے۔ بخاری کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ وتر کے علاوہ دو دو رکعت کرکے تہجد کی کل بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ آٹھ رکعت تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات کے نزدیک تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے تو ان احادیث میں تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ غرضے کہ حضرت عائشہ کی پہلی حدیث سے آٹھ کا لفظ لیا اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس حدیث سے دو دو رکعت پڑھنے کو لیا، تو نہ تو حضرت عائشہ کی حدیث پر عمل ہوا اور نہ حضرت عبداللہ بن عباس  کی حدیث پرعمل ہوا؛ بلکہ اپنے اسلاف کی تقلید ہوئی؛ حالانکہ یہ تینوں احادیث صحیح بخاری کی ہی ہیں۔ معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد کو ایک قرار دینا ہی غلط ہے؛ کیونکہ اس کا ثبوت دلائل شرعیہ سے نہیں دیا جاسکتا ہے۔ چاروں ائمہ میں سے کوئی بھی دونوں نمازوں کو ایک قرار دینے کا قائل نہیں ہے۔ امام بخاری  تو تراویح کے بعد تہجد بھی پڑھا کرتے تھے، امام بخاری  تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے اور ہر رکعت میں بیس آیتیں پڑھا کرتے تھے اور پورے رمضان میں تراویح میں صرف ایک ختم کرتے تھے، جب کہ تہجد کی نماز امام بخاری  تنہا پڑھا کرتے تھے اور تہجد میں ہر تین رات میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ (امام بخاری کے اس عمل کی تفصیلات پڑھنے کے لیے صحیح بخاری کی سب سے مشہورومعروف شرح "فتح الباری" کے مقدمہ کا مطالعہ فرمائیں)۔
بس بات صحیح یہی ہے کہ نماز تراویح اور نماز تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں، تہجد کی نماز تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعین ہوئی ہے، سورة المزمل کی ابتدائی آیات (یَااَیَّہَا الْمُزَمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلا......) پڑھ لیں؛ جبکہ تراویح کا عمل حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مشروع ہوا ہے، جیساکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : سَنَنْتُ لَہ قِیَامَہ (نسائی، ابن ماجہ) تراویح کا عمل میں نے مسنون قرار دیا ہے۔ حضرت عمر فاروق  کے عہد میں جماعت کے ساتھ بیس رکعت کا باقاعدہ اہتمام کے ساتھ شروع ہونا، روز روشن کی طرح واضح ہے، جیساکہ محدثین وعلماء کرام کے اقوال، حوالوں کے ساتھ اوپر تحریر کیے جاچکے ہیں۔لہٰذا اس حقیقت کا انکار کرنا صرف اور صرف ہٹ دھرمی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کم کبھی زیادہ پڑھا کرتے تھے۔
ایک شبہ کا ازالہ:
بعض حضرات نے ابن خزیمہ وابن حبان میں وارد حضرت جابر کی روایت سے ثابت کیا ہے کہ آپ ا نے رمضان میں آٹھ رکعات تراویح پڑھیں؛ حالانکہ یہ روایت اس قدر ضعیف ومنکر ہے کہ اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے؛ کیونکہ اس میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے، جس کی بابت محدثین نے تحریر کیا ہے کہ اس کے پاس منکر روایات ہیں، جیساکہ ۸ رکعت تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات نے دوسرے مسائل میں اس طرح کے راویوں کی روایات کو تسلیم کرنے سے منع کیا ہے۔ اس نوعیت کی متعدد احادیث جمہور مسلمین کے پاس بھی موجود ہیں، جن میں مذکور ہے کہ حضور اکرم انے بیس رکعت تروایح پڑھیں: حضرت عبد اللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ بیشک نبی اکرم ا ماہِ رمضان میں بلاجماعت بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔ (بیہقی، ج۱ ص ۴۹۶، اس حدیث کو طبرانی نے کبیر میں، ابن عدی نے مسند میں اور علامہ بغوی نے مجمع صحابہ میں ذکر کیا ہے) (زجاجة المصابیح)۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام رافعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیس رکعت دو راتیں پڑھائیں پھر تیسری رات کو لوگ جمع ہوگئے؛ مگر آپ باہر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کو فرمایا کہ مجھے اندیشہ تھا کہ یہ تمہارے اوپر فرض نہ ہوجائے اور تم اس کو ادا نہ کرسکو؛اس لیے باہر نہیں آیا۔
دوسرے شبہ کا ازالہ:
بعض حضرات نے ایک روایت کی بنیا د پر تحریر کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے گیارہ رکعت تراویح کا حکم دیاتھا؛ حالانکہ یہ حدیث تین طرح سے منقول ہے اور حدیث کی سند میں شدید ضعف بھی ہے۔ ۔۔ نیز حضرت عمر فاروق  کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح پڑھی گئیں، یہ بات سورج کی روشنی کی طرح محدثین واکابر امت نے تسلیم کی ہے، جیساکہ محدثین وعلماء کرام کے اقوال حوالوں کے ساتھ اوپر تحریر کیے جاچکے ہیں۔ لہٰذا اس حقیقت کا انکار کرنا صرف ہٹ دھرمی ہے۔ امام ترمذی، امام غزالی ، علامہ نووی ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ ابن قدامہ ، علامہ ابن تیمیہ  اور مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی  نے بھی وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ مشہور غیر مقلد عالم مفتی محمد حسین بٹالوی نے جب پہلی دفعہ ۱۲۸۴ھ میں باضابطہ طور پر فتوی جاری کیا کہ آٹھ رکعت تراویح سنت اور بیس رکعت بدعت ہے تو اس انوکھے فتوے کی ہر طرف سے مخالفت کی گئی۔ مشہور غیر مقلد بزرگ عالم مولانا غلام رسول صاحب نے خود اس فتویٰ کی سخت کلمات میں مذمت کی، اور اس کو سینہ زوری قرار دیا۔ (رسالہ تراویح ص ۲۸، ۵۶)
تیسرے شبہ کا ازالہ:
کچھ حضرات کہتے ہیں کہ نبی اکرم ا اور صحابہٴ کرام کے اقوال میں اگر کوئی تضاد ہو تو صحابہ کے اقوال کو چھوڑکر نبی اکرم ا کے قول کو لیا جائے گا۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ اگر کوئی اِس میں شک بھی کرے ، تو اُسے اپنے ایمان کی تجدید کرنی ہوگی؛ لیکن یہاں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ نبی اکرم ا کے اقوال وافعال میں کہیں بھی تراویح کی کوئی تعداد مذکور نہیں ہے ۔ نبیِ اکرم ا کی سنتوں سے صحابہٴ کرام کو ہم سے زیادہ محبت تھی۔ اور دین میں نئی بات پیدا کرنے سے صحابہٴ کرام ہم سے زیادہ ڈرنے والے تھے۔
خصوصی توجہ:
سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لکھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہورہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ،لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں؛ تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے․․․․ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم  لکھتے ہیں: اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی میں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ  کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ؟

بیس رکعات تراویح اہل سنت والجماعت کی علامت ہے

0 تبصرے

بیس رکعات تراویح اہل سنت والجماعت کی علامت ہے

از: مولانا محمد شفیع قاسمی، بھٹکلی


تراویح ترویحة کی جمع ہے۔ یعنی اطمینان سے پڑھی جانے والی نماز، ہر چار رکعات کو ایک ترویحہ کہتے ہیں۔ پانچ ترویحہ یعنی بیس (۲۰) رکعات تراویح دس سلاموں کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وامام ابوحنیفہ رحمة الله عليه، امام مالک رحمة الله عليه، امام شافعی رحمة الله عليه، امام احمد بن حنبل رحمة الله عليه، وجمہور علماء اہل سنت والجماعت کے نزدیک سنت موکدہ ہے۔

(۱) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المومین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے رمضان المبارک میں رات کو تراویح پڑھانے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ دن میں روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر قرآن (یاد نہ ہونے کی وجہ سے) تراویح نہیں پڑھ سکتے، اس لئے ان لوگوں کو رات میں تراویح پڑھاؤ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاامیرالمومنین! یہ ایسی چیز کا حکم ہے جس پر عمل نہیں ہے (یعنی باجماعت تراویح) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں لیکن یہی بہتر ہے، تو انھوں نے (حضرت ابی بن کعب رضى الله عنه نے) بیس (۲۰) رکعات تراویح پڑھائی۔ (اسنادہ حسن، المختارہ للضیاء المقدسی ۱۱۶۱)

(۲) حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں رمضان المبارک کے مہینے میں حضرات صحابہ و تابعین بیس (۲۰) رکعات تراویح پڑھتے تھے اور وہ سو سو آیتیں پڑھا کرتے تھے اورامیر المومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شدت قیام یعنی طول قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگایا کرتے تھے۔ (الصیام للفریابی مخرج ۱۷۶، وسنن بیہقی ۴۸۰۱، اس حدیث کے صحیح ہونے پر جمہور محدثین کا اتفاق ہے)

(۳) علامہ ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه امام مالک کی روایت نقل کرتے ہیں۔ اور امام مالک رحمة الله عليه نے یزید بن خصیفہ رحمة الله عليه کے طریق سے حضرت سائب بن یزید رضى الله عنه سے بیس (۲۰) رکعات نقل کی ہے۔ (فتح الباری)

(۴) علامہ ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه تلخیص الحبیر میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رمضان المبارک کی ایک رات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیس (۲۰) رکعات تراویح پڑھائی، دوسری رات بھی صحابہ جب جمع ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو بیس رکعات تراویح پڑھائی اور جب تیسری رات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد مسجد میں جمع ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم تشریف نہیں لائے پھر صبح میں ارشاد فرمایا: مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز (تراویح) تم پر فرض کردی جائے اور تم کرنہ سکو۔

بیس (۲۰) رکعات تراویح پر صحابہ وعلماء امت کا اجماع ہے۔

(۱) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں لوگوں کو تراویح باجماعت پڑھنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بعد تراویح کی پہلی عام جماعت تھی۔ (صحیح ابن حبان)

(۲) حضرت یزید بن رومان رحمة الله عليه (تابعی) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں صحابہ تیئس (۲۳) رکعات (بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر) پڑھا کرتے تھے۔ (موطا امام مالک ۲۵۲، اسنادہ مرسل قوی، آثار السنن ۶/۵۵)

(۳) امام شافعی رحمة الله عليه (تبع تابعی) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں بیس (۲۰) ہی رکعات تراویح پڑھتے دیکھا ہے۔ (الاُم وسنن ترمذی)

(۴) امام ترمذی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے عمل کی بنا پر اکثر علماء کے نزدیک تراویح بیس (۲۰) رکعات ہے۔ (سنن ترمذی)

(۵) علامہ علاء الدین کاسانی حنفی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ صحیح قول جمہور علماء کا یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تراویح پڑھانے پر جمع فرمایا تو انھوں نے بیس رکعات تراویح پڑھائی۔ تو یہ صحابہ کی طرف سے اجماع تھا۔ (بدائع الصنائع)

(۶) علامہ ابن رشد قرطبی مالکی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمة الله عليه کے ایک قول کے مطابق اور امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه، امام شافعی رحمة الله عليه، امام احمد بن حنبل رحمة الله عليه اور امام داؤد ظاہری رحمة الله عليه کے نزدیک وتر کے علاوہ بیس (۲۰) رکعات تراویح سنت ہے۔ (بدایة المجتہد)

(۷)علامہ ابن قدامہ حنبلی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ تراویح کی بیس (۲۰) رکعات سنت موکدہ ہے، سب سے پہلے اس سنت کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ادا فرمایا۔ (المغنی)

(۸) علامہ نووی شافعی رحمة الله عليه لکھتے ہیں۔ تراویح کی رکعات کے متعلق ہمارا (شوافع) کا مسلک وتر کے علاوہ بیس (۲۰) رکعات کا ہے، دس سلاموں کے ساتھ، اور بیس (۲۰) رکعات پانچ ترویحات ہیں اور ایک ترویحہ چار (۴) رکعات کا دو سلاموں کے ساتھ، یہی امام ابوحنیفہ رحمة الله عليه اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل رحمة الله عليه اورامام داؤد ظاہری رحمة الله عليه کا مسلک ہے اور قاضی عیاض رحمة الله عليه نے بیس (۲۰) رکعات تراویح کو جمہو رعلماء سے نقل کیا ہے۔ (المجموع)

(۹) علامہ ابن تیمیہ حنبلی رحمة الله عليه لکھتے ہیں: حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (صحابی) نے لوگوں کو بیس (۲۰) رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھائی، اسلئے جمہور علماء کے نزدیک یہی سنت ہے۔ کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کی موجودگی میں بیس (۲۰) رکعات تراویح پڑھائی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ)

(۱۰) استاذ الاساتذہ مجاہد آزادی شیخ محمود حسن قاسمی دیوبندی رحمة الله عليه فرزند اوّل و سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں کہ جب کبار صحابہ اور خلفاء راشدین بیس (۲۰) رکعات تراویح پر متفق ہوگئے، تو اس سے بڑھ کر کونسی قوی ترین دلیل ہوسکتی ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے اقوال وافعال کو سب سے زیادہ جاننے والے وہی حضرا ت تھے۔ جب انھوں نے بیس (۲۰) رکعات کے علاوہ کے قول وعمل کو ترک کیاتو معلوم ہوا کہ بیس (۲۰) رکعات کے سلسلہ میں ان کے پاس قوی ترین ثبوت موجود تھا اور اہل حدیث حضرات جو آٹھ (۸) رکعات تراویح کہتے ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، یہ ان کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ تہجد اور تراویح میں فرق نہیں کرتے، حالانکہ تہجد اور تراویح میں بہت بڑا فرق ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تہجد پوری رات پڑھنے کی نفی کرتی ہیں جب کہ تراویح سحری تک پڑھی گئی ہے۔

(مزید تفصیل و دلائل کے لئے راقم کی کتاب ”تراویح سنت کے مطابق پڑھئے“ کا مطالعہ کریں۔ملنے کا پتہ مکتبہ شفیع، رضیة الابرار، سلمان آباد، بھٹکل ۵۸۱۳۲۰)

2016/07/09

بیس رکعت تراویح

0 تبصرے

          بیس رکعت تراویح
     احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
               مولانا محمد امین صفدر
بسم اللہ الرحمن الرحیم

            الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی اما بعد ! برادرانِ اسلام! رمضان المبارک ایک بہت بابرکت مہینہ ہے اس مبارک مہینہ میں خدا کا آخری پیغام قرآن پاک نازل ہونا شروع ہوا،اسی مہینے میں شب قدر ہے جو ہزار مہینہ سے افضل ہے، اس مہینہ میں ایک نفل کا ثواب ایک فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے اور ایک فرض کا ثواب ٠ ٧ گنا کر دیا جاتا ہے (صحیح ابن حبان )۔اس مہینہ میں دن کا روزہ فرض اور رات کی تراویح سنت ہے چنانچہ سنن نسائی ج١ ص ٣٠٨  پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا ان اللّٰہ تبارک وتعالٰی فرض صیام رمضان علیکم وسنت لکم قیامہ فمن صامہ وقامہ ایمانا واحتسابا خرج من ذنوبہ کیوم ولد تہ امہ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بوحی جلی ) تم پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں اور میں (بوحی خفی ) تمہارے لیے تراویح کا سنت ہونا مقرر کرتا ہوں ، پس جو کوئی ایمان کی رُوسے اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور تراویح پڑھے وہ اپنے گناہوں سے نکل کر ایسا ہو جاوے گا جیساکہ وہ اُس روز تھا جس روز اُسے اُس کی ماں نے جنا تھا۔ اور ابو ہریرہ کی روایت میں ہے کہ اُ س کے اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں (صحیح مسلم ج١ ص٢٥٩)۔

             رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مبارک مہینہ میں عام مہینوں سے زیادہ کوشش فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ   فر ماتی ہیں کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یجتہد فی رمضان ولا یجتھد فی غیرہ (مسلم)یعنی رسول پاکﷺ   رمضان المبارک میں غیر رمضان سے بہت زیادہ محنت فرماتے تھے اور  حضرت عائشہ  کی ایک دوسری روایت ہے کان اذا دخل شھررمضان شدمئزرہ ثم لم یأت فراشہ حتی ینسلخ  (بیہقی اعلاالسنن ج ٧ص٤٦ )یعنی جب رمضان آتا تو آپ اپنے بچھونے کی طرف نہیں آتے تھے یہاں تک کہ گزرجاتا اور حضرت عائشہ  کی ایک تیسری روایت میں ہے کہ رمضان کے عشرہ آخیرہ میں خصوصاً  احیٰی لیلہ وایقظ اھلہ (بخاری ) خود بھی تمام رات بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے۔ان تینوں حدیثوں کی تشریح خود حضرت عائشہ  سے ان الفاظ میں آئی ہے اذا دخل رمضان تغیرلونہ وکثرت صلا تہ  یعنی جب رمضان کا مبارک مہینہ آتا تو رسول پاکﷺ   کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا اور نماز زیادہ پڑھتے تھے۔ان روایات سے معلوم ہوا کہ رسول پاکﷺ   کی عادتِ مبارک یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ نماز پڑھی جائے،زیادہ سے زیادہ شب بیداری ہو اور خوب محنت اور کوشش کر کے اس مبارک مہینہ کے فضائل و برکات سے استفادہ کیا جائے لیکن جہاں اس مبارک مہینہ کی آمد ہر سال مسلمانوں پر خیر و برکت اور لطف و رحمت کے ہزاروں دروازے کھول دیتی ہے وہاں اس خراب آباد پنجاب کے اند ر مذہبی رنگ میں ایک شر بھی ظہور کرتا ہے اور وہ فرقہ غیر مقلدین کا یہ پروپیگنڈا ہے کہ بیس رکعت تراویح کی کوئی اصل نہیں ہر سال ا ہل سنت و جماعت کے سروں پر اس مکروہ نشریہ کے طوفان اُٹھتے ہیں اور بہت سے ناواقف حنفی یہ سمجھتے ہوئے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں کہ شاید اہل سنت کے پاس بیس رکعات کا کوئی ثبوت نہ ہو گا چنانچہ اوکا ڑہ میں بھی ایک غیر مقلد محدث نے ایک دو ورقہ شائع کیا جس میں محدث صاحب نے یہ دعویٰ کیا کہ صرف آٹھ رکعت تراویح سنت ہے بیس رکعت کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور حنفیوں کو انعامی چیلنج بھی دیا اور بزعمِ خود اس مسئلہ پر آخری فیصلہ فرما دیا۔اس قسم کے اشتعال انگیز نشریات سے ہم اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ جماعت امن و سکون کو گناہ عظیم سمجھتی ہے اور مسلمانوں میں اتفاق کی بجائے افترا ق پیدا کرنا سلف صالحین خصوصاً حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ سے بھولے بھالے مسلمانوں کو بد ظن کر کے اپنی تقلید کا پھندا اُ ن کے گلے میں ڈالنا اس جماعت کا دل پسند مشغلہ ہے۔

            برادران اسلام رسولﷺ   نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تم بہت سا اختلاف دیکھو گے ایسے وقت میں تم پر لازم ہے کہ میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو اور فرمایا کہ نجات کا راستہ یہی ہے جو میرا اور میرے صحابہ کا طرزِ عمل ہے۔ رسول پاکﷺ   کا طرز عمل میں عرض کر چکا ہوں کہ رمضان میں غیر رمضان سے بہت زیادہ نماز پڑھتے تھے، ساری ساری رات خود بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار رکھتے لیکن جمہور علماء کے نزدیک آپ سے تراویح کا کوئی معین عدد ثابت نہیں ہے البتہ احناف میں سے قاضی خاں اور طحطاوی اور شوافع میں سے رافعی آنحضرتﷺ   سے بیس کا عدد ثابت مانتے ہیں۔محدث صاحب کا دعویٰ کہ حضورﷺ   سے صرف آٹھ ثابت ہیں یہ تمام اُمت کے خلاف ہے ایک نیا دعویٰ ہے بلکہ محدث صاحب کا یہ دعویٰ اپنے مذہب سے بھی بے خبری کا نتیجہ ہے کیونکہ غیر مقلد بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ رسول رسول پاکﷺ   سے تراویح میں کوئی عدد معین ثابت نہیں چنانچہ

            (١)  حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں   ومن ظن ان قیام رمضان فیہ عدد معین موقت عن النبی صلم لا یزید ولا ینقص فقداخطا۔ (مرقات علی المشکٰوۃ ج١ ص ١١٥، الانتقاد الرجیح ص٦٣ )یعنی جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ آنحضرتﷺ  سے تراویح کے باب میں کوئی عدد معین ثابت ہے جو کم و بیش نہیں ہو سکتا وہ غلطی پر ہے۔

            (٢)  غیر مقلدوں کے مشہور پیشوا قاضی شوکانی نے بھی تراویح کے عدد معین کے متعلق لکھا ہے لم یرد بہ السنۃ یعنی سنت نبوی سے ثابت نہیں ہوتا (نیل الاوطار ج٢ ص٢٩٨)

             (٣)  غیر مقلدوں کے مشہور مصنف میر نور الحسن خاں صاحب اپنی کتاب عرف الجاوی ص٨٧ پر لکھتے ہیں ”وبالجملہ عددے معین درمرفوع نیامدہ تکثیر نفل وتطوع سودمند است پس منع از بست و زیادہ چیزے نیست”یعنی مرفوع حدیث سے کوئی معین عدد ثابت نہیں ہے زیادہ نفل پڑھنا فائدہ مند ہے پس بیس رکعات سے منع نہ کرنا چاہیے۔

            (٤)  نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں   ولم یات تعین العدد فی الروایات الصحیحۃ المرفوعۃ ولکن یعلم من حدیث کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یجتھد فی رمضان مالا یجتھد فی غیرہ رواہ مسلم ان عدد ھاکان کثیراً (الانتقاد الرجیح ص ٦١ )  اور عدد کی تعین صحیح مرفوع روایتوں میں نہیں آئی لیکن صحیح مسلم کی ایک حدیث سے کہ آنحضرتﷺ   رمضان میں جتنی محنت اور کوشش کرتے تھے اتنی غیر رمضان میں نہیں کرتے تھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تراویح کا عدد زیادہ تھا (یعنی گیارہ یا تیرہ نہ تھیں )یہی نواب صاحب ہدایۃ السائل ص ١٣٨ پر لکھتے ہیں کہ بیس رکعت تراویح پڑھنے والا بھی سنت پر عامل ہے۔جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے بانی حافظ محمد لکھوی فرماتے ہیں  :

بعضے آٹھ رکعاتاں پڑھدے بعضے ویہ (٢٠) رکعاتاں جتنیاں بہت رکعاتاں پڑھن اُتنیاں بہت براتاں

            اس کے علاوہ امام سبکی ،سیوطی  وغیرہ نے بھی فرمایا کہ رسول پاکﷺ   سے کوئی عدد معین ثابت نہیں ہے۔ان عبارات سے معلوم ہوا کہ محدث صاحب کا یہ دعویٰ کہ آٹھ رکعت سنت نبوی سے ثابت ہے اُن کے اپنے مذہب سے بھی بے خبری کی دلیل ہے۔
محدث صاحب کے دعویٰ کا پوسٹ مارٹم
            محدث صاحب فرماتے ہیں کہ آٹھ رکعت تراویح کی حدیث جابر  سے مروی ہے وہ صحیح ہے اور بیس رکعت تراویح کی حدیث حضرت عبداللہ بن عباس  سے روایت ہے وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی ابو شیبہ ہے وہ ضعیف ہے۔

حدیث حضرت جابر

             آنحضرتﷺ   نے رمضان میں ہمارے ساتھ آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھے (طبرانی۔قیام الیل۔ابن حبان  ) یہ کونسی نماز تھی تہجد یا تراویح یا لیلۃ القدر کی نماز، اس کا اس حدیث میں کوئی ذکر نہیں ہے آئیے ہم اس حدیث کی سند کا حال بھی آپ کو بتا د یں۔ اس کی روایت حضرت جابر سے عیسٰی بن جاریہ نے کی ہے اور امام طبرانی فرماتے ہیں   لا یروٰ ی عن جابر  الا بھذا الاسناد (طبرانی) یعنی حضرت جابر سے صرف یہی ایک سند ہے۔

            عیسٰی بن جاریہ کے متعلق امام الجرح والتعدیل ابن معین فرماتے ہیں عند ہ مناکیر، امام ابودا ود اورنسائی فرماتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہے اور امام نسائی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اُس کی روایات متروک ہیں۔ ساجی اور عقیلی نے بھی اُسے ضعیف کہا ہے۔ ابن عدی نے کہا ہے کہ اُس کی حدیثیں محفوظ نہیں ہیں۔قال ابن حجر فیہ لین ( میزان الا عتدال، تہذیب )۔عیسٰی بن جاریہ سے آگے روایت کرنے والا بھی ایک ہی راوی ہے،یعقوب القمی۔امام ابن معین فرماتے ہیں لااعلم احداً روی عنہ غیر یعقوب القمی (کتاب الجر ح والتعدیل لابی حاتم الرازی ج٣ ص٢٧٣)۔اس راوی کے متعلق امام دار قطنی فرماتے ہیں لیس بالقوی یعنی وہ قوی نہیں ہے۔ یعقوب قمی سے دو راوی روایت کرتے ہیں محمد بن حمید رازی ا ور جعفر بن حمید انصاری، محمد بن حمید رازی کو امام بخاری،امام سخاوی،امام نسائی،یعقوب بن شیبہ،ابوزعہ،جوزجانی،اسحاق کوسج،فضلک رازی،ابو علی نیاپوری،صالح بن محمد اسدی،ابن خراش،ابو نعیم وغیرہ محدثین نے ضعیف کہا ہے (دیکھو تہذیب التہذیب ج٩ص١٢٩ اور میزان الاعتدال ج٩ص٥٠)اور چوتھا راوی جعفر بن حمید مجہول الحال ہے۔ ناظرین آپ نے محدث اوکاڑہ کے تعصب کا کرشمہ دیکھ لیا کہ جس حدیث کی سند میں چاروں ضعیف تھے وہ صحیح بن گئی اور بیس رکعت تراویح کی حدیث کو اس لیے ضعیف کہہ کر ٹال دیا کہ اُس میں ایک راوی ابو شیبہ ضعیف ہے۔
حدیث ابن عباس

             عن ابن عباس  ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یصلی فی رمضان عشر ین رکعۃً سوی الوتر۔ حضرت عبداللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ   رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔(سنن کبرٰی بیھقی ج٢ ص٤٩٦ مصنف ابن ابی شیبہ۔طبرانی،مسند عبدبن حمید)

            اس حدیث کی سند ملاحظہ ہو :  اخرج ابو بکر بن ابی شیبہ فی مصنفہ حدثنا یزید بن ہارون قال اخبرنا ابراہیم بن عثمان عن الحکم مقسم عن ابن عباس الخ (التعلیق الحسن ج٢ ص٥٦)

            معزز ناظرین محدث عبدالجبار صاحب کو جابر  والی حدیث میں چار راویوں کا مجروح ہونا تو نظر نہ آیا چار راوی مجروح ہوتے ہوئے حدیث کو صحیح کہہ دیا اور اس بیس رکعت والی روایت میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کو ضعیف کہہ کر جواب سے سبک دوش ہو گئے حالانکہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ابو شیبہ آں قدر ضعف نہ دارد کہ روایت او مطروح ساختہ شود (فتاوٰی عزیزی)اور شاہ صاحب  کی بات بالکل حق ہے کیونکہ کسی راوی میں جرح دو باتوں پر کی جاتی ہے باعتبار عدالت کے یا حفظ و ضبط کے۔ ابو شیبہ کی عدالت کے متعلق حضرت یزید بن ہارون جو امام بخاری  کے اُستاذالاستاذ اور نہایت ثقہ اور حافظ الحدیث تھے، فرماتے ہیں ما قضٰی علی الناس فی زمانہ اعدل فی قضاء منہ (تہذیب ج١ ص١٤٥ )یعنی ہمارے زمانہ میں اُن سے زیادہ عدل و انصاف والا قاضی کوئی نہیں ہوا، اور ابو شیبہ کے متعلق حافظ ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ الحافظ  تو جب ابو شیبہ عادل بھی ہے حافظ بھی ہے تو یقینًا ثقہ ہوئے، اس لیے علامہ ابن عدی فرماتے ہیں لہ احادیث صالحۃ و ھو خیر من ابراہیم بن ابی حیۃ (تہذیب ج١ ص١٤٥)یعنی ابو شیبہ کی حدیثیں صالح ہیں اور وہ ابراہیم ابن ابی حیہ سے بہتر ہے اور ابراہیم بن ابی حیہ کو ا بن معین نے شیخ ثقۃ کبیر فرمایا ہے( اللسان ج١ص ٥٣ )۔خلاصہ یہ کہ جب ابو شیبہ عادل حافظ ہے اُس کی حدیثیں صالح ہیں بلکہ وہ ابراہیم بن ابی حیہ سے بہتر ہے تو اب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  کے فرمان کی صحت میں کیا شک رہ گیا۔ غرض محدث اوکاڑی کو تعصب نے ایسا محروم ا لبصیرت کیا کہ جس کی سند میں چار راوی مجروح تھے اُن کی جرح کو بھول گئے اور ابو شیبہ پر صرف جرح نظر آئی اور اُس کی تعدیل سے آنکھیں بند ہو گئیں اور پھر محدث صاحب اصول کا یہ قاعدہ بھی بھول گئے کہ جس حدیث پر امت نے عمل کر لیا ہو اور اس حدیث کو تلقی بالقبول حاصل ہو اُس کی سند میں اگر کلام کی گنجائش ہو بھی تب بھی وہ صحیح ہوتی ہے چنانچہ اس کی تفصیل خاتمے کے قریب آتی ہے۔

            غرض یہاں تک تو محدث صاحب کے اس دعویٰ پر مختصر عرض کیا ہے کہ رسول پاکﷺ   سے آٹھ رکعت بسند صحیح ثابت ہیں اور بیس ثابت نہیں اور محدث صاحب کی امانت و دیانت بھی آشکارا ہو گئی۔ اس کے بعد محدث صاحب نے کہا ہے کہ خلفائے ر اشدین کی سنت بھی بیس نہیں بلکہ آٹھ ہے۔حالانکہ نواب صاحب لکھتے ہیں کہ بیس رکعت سنتِ عمر بن خطاب ہے اور بیس پڑھنے والا بھی سنت پر عامل ہے۔(ہدایہ السائل ص١٣٨)
عہد فاروقی

            رسول پاکﷺ   نے صرف تین دن با جماعت تراویح پڑھائیں ،اُس کے بعد لوگ گھر میں یا مسجد میں بلا جماعت تراویح پڑھتے رہے۔حضرت فاروق اعظم  نے لوگوں کو پھر جماعت تراویح پر جمع فرمایا جن لوگوں کو فاروق اعظم  نے جمع فرمایا وہ کتنی رکعتیں ادا کرتے تھے اُس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے  :

            پہلی روایت  :  عن السائب بن یزید   قال کنا نقوم فی زمن عمر بن الخطاب بعشر ین رکعۃ والوتر (رواہ البیہقی فی المعرفۃ ) ترجمہ : حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن الخطاب  کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اس روایت کو امام نووی  نے صحیح کہا ہے (شرح المہذب ج٤ ص ٣٢ ) امام عراقی اور علامہ سیوطی نے بھی اس کو صحیح کہا ہے ( مصابیح ص٤٢)۔

محدث صاحب کا کمال   :  مولوی عبدالجبار صاحب کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا اس لیے عجیب ہتھکنڈہ استعمال کیا چونکہ اس کو بیہقی نے اپنے کتاب المعرفتہ میں ذکر کیا ہے محدث صاحب نے کتاب کا نام بگاڑ کر لکھا کہ کتاب العرفہ، امام بیہقی کی کوئی کتاب نہیں ” کتاب المعرفتہ ”سے  م  حذف کر کے ”کتاب العرفہ ”بنا لیا اور کتاب کاہی انکار کر دیا،نہ خدا کا خوف دل میں آیا نہ آخرت کا خیال اور نہ انسانوں سے شرم محدث صاحب قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں کاش اب بھی ایسی حرکتوں سے توبہ کر لیں۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ عہد فاروقی میں تمام صحابہ کرام  بلا اختلاف بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔

            دوسری روایت  :   عن السائب بن یزید قال کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب  فی شہر رمضان بعشرین رکعۃ … وفی عہد عثمان۔(سنن بیہقی ج٢ص ٤٩٦ ) یعنی لوگ عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔اس کی سند کو علامہ سبکی نے اور  بیہقی نے صحیح کہا ہے۔

            تیسری روایت  : اخرج ابن ابی شیبہ والبیہقی عن عمر  انہ جمع الناس علی اُبیّ بن کعب وکان یصلی بھم عشرین رکعۃً حضرت عمر  سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں کو ابی بن کعب پر جمع کیا اور  وہ اُن کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔سندہ صحیح۔

            چوتھی روایت  :  اخرج ابن ابی شیبہ حدثنا وکیع عن مالک بن انس عن یحیٰی بن سعید بن العاص الاہوی عن عمر بن الخطاب انہ امر رجلاً ان یصلی بھم عشرین رکعۃ۔ حضرت عمر  نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ اس کی سند اعلی درجہ کی صحیح ہے امام وکیع، امام مالک اور امام یحٰی تینوں صحاح ستہ کے اجماعی ثقہ شیوخ ہیں۔

            پانچویں روایت  :  اخرج ابن ابی شیبہ حد ثنا حمید بن عبدالرحمن عن الحسن البصری عن عبدالعزیز بن رفیع قال کان اُبیّ بن کعب  یصلی بالناس بالمدینۃ عشرین رکعۃً قال ابن المدینی و یحیٰی القطان وابوزرعہ مرسلات حسن صحاح (تدریب ص٦٩)یعنی حضرت ابی بن کعب مدینہ میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔

            چھٹی روایت  :   عن یزید بن رومان قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان ثبلاث و عشرین رکعۃ (موطا امام مالک ص٤٠ سنن بیہقی ج٢ص٤٩٦ )حضرت یزید بن رومان فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر کے زمانہ میں ٢٣ رکعت یعنی ٢٠ تراویح اور تین وتر پڑھا کرتے تھے۔

            ساتویں روایت  :  عن محمد بن کعب القرظی کان الناس یصلون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان عشرین رکعۃ (رواہ فی قیام اللیل )۔ حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر کے زمانہ میں رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔اس کی سندیں بھی اعلیٰ درجہ کی صحیح ہیں۔

            آٹھویں روایت  :  عن ابی الحسن  ان علیا امر رجلاً یصلی بھم فی رمضان عشرین رکعۃً

(مصنف ابن ابی شیبہ ) حضرت علی  نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کوبیس رکعات تراویح پڑھائے۔اس کی سند حسن ہے۔
نویں روایت  : عن ابی عبدالرحمن السلمی عن علی قال دعا القُرّاء فی رمضان فامرمنھم رجلاً یصلی بالناس عشرین رکعۃً قال وکان یوتربھم (سنن بیہقی ج٢ ص٤٩٦)۔ابو عبدالرحمن سلمی کا بیان ہے کہ حضرت علی نے رمضان المبارک کے مہینے میں قاریوں کو بلایا اور اُن میں سے ایک کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھایا کریں اور وتر خود حضر ت علی  پڑھایا کرتے تھے۔

            حضرت علی  کے اصحاب خاص ہمیشہ بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے شتیر بن شکل جو حضرت علی کے اصحاب خاص میں سے تھے (بیہقی ج٢ص ٤٩٦) وہ بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے (قیام اللیل ص٩١ ابن ابی شیبہ، آثار السنن ج٢ص٦٠)

            اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ،سعید بن ابی الحسن دونوں حضرت علی  کے خاص شاگرد تھے (تہذیب التہذیب ج٦ص١٤٨ و ج٤ ص ١٦ ) اور یہ دونوں لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے (قیام اللیل ص٩٢ )اِسی طرح حارث اعور اور علی بن ربیعہ دونوں حضرت علی  کے شاگرد تھے اور لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے( سنن بیہقی ج٢ص ٤٩٦ و آثار السنن مع التعلیق ج٢ص٩ ٥) اور ابو البختری حضرت علی کے خاص شاگردوں عبدالرحمن سلمی اور حارث کے خاص صحبت یافتہ تھے اور لوگوں کو بیس تراویح اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے (آثار السنن ص٦٠ فی التعلیق ) غرض اس خلیفہ راشد اور  آپ کے سب ساتھی بیس رکعت پر عامل تھے۔

     محدث صاحب نے اس اثر کے متعلق لکھا ہے کہ ابو الحسن مجہول ہے اور وہ طبقہ سابعہ کاہے اس کو صحابہ سے لقا نہیں۔ ناظرین ابو الحسن دو ہیں جو ابو الحسن طبقہ سابعہ کا ہے وہ واقعی مجہول ہے لیکن یہ ابو الحسن طبقہ سابعہ کا نہیں ہے جب اس کے شاگرد عمرو بن قیس اور ابو سعدبقال طبقہ خامسہ و سادسہ سے ہیں تو اُستاد کیسے طبقہ سابعہ میں ہو گا۔محدث صاحب نے بلا سوچے سمجھے صرف اہل سنت کی ضد میں یہ لکھ مارا اور پھر جبکہ حضرت علی  کے تمام شاگرد بھی بیس کے قائل ہوں اور  دوسری روایت اس کی مؤید ہو تو یہ بات کس قدر پھیکی بن جاتی ہے۔
دسویں روایت  :  حضرت عبداللہ بن مسعود  بھی لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھایا کرتے تھے (قیام اللیل ص٩٢)۔ حضرت سوید بن غفلت جو حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود  دونوں کے خاص صحبت یافتہ شاگرد ہیں وہ لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت تراویح پڑھایا کرتے تھے۔(سنن بیہقی )

حضرت عطا کی شہادت  :  حضرت عطا کبار تابعین میں سے ہیں آپ کو ٢٠٠ صحابہ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، آپ کی شہادت صحابہ اور تابعین دونوں زمانوں کی شہادت ہے آپ فرماتے ہیں  ادرکت الناس وہم یصلون ثلاثاً وعشرین رکعۃ رواہ ابن ابی شیبہ واسناد ہ حسن (آثار السنن ج٢ ص٥٥)حضرت عطا فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ و تابعین کو بیس رکعت تراویح ہی پڑھتے پایا۔ معلوم ہوا کہ تمام صحابہ و تابعین بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے اور کبھی کسی ایک شخص نے بھی ٢٠ تراویح کے خلاف آواز نہیں اُٹھائی۔

            علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں  وھو قول جمھور العلماء و بہ قال الکوفیون والشافعی واکثرالفقھاء وھوالصحیح عن اُبیّ بن کعب من غیرخلاف من الصحابۃ (عینی شرح بخاری) ترجمہ یہ قول جمہور علما کاہے اہل کوفہ (حضرت علی،حضرت ابن مسعود، حضرت امام ابو حنیفہ  اور آپ کے ساتھی ) اور امام شافعی  کا بھی یہی قول ہے اور حضرت ابی بن کعب سے بھی یہی صحیح اور ثابت ہے اور اس میں صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔اور فن حدیث کے مسلم الثبوت امام ابو عیسٰی ترمذی فرماتے ہیں   واکثر اہل العلم علی ماروی عن علی و عمر وغیر ہما من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عشرین رکعۃً (ترمذی)اکثر اہل علم بیس رکعت تراویح کے قائل ہیں جو کہ حضرت علی  اور حضرت عمر اور نبی اکرمﷺ   کے دوسرے صحابہ سے مروی ہے۔

            امام شافعی  فرماتے ہیں ھکذا ادرکت ببلدنا مکۃ یصلون عشرین رکعۃً (ترمذی)۔میں نے مکہ معظمہ میں تابعین اور تبع تابعین کو بیس رکعت تراویح پڑھتے پایا۔

             میں نے نہایت اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا عمل پیش کر دیا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم  کے حکم سے آپ کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح با جماعت باقاعدہ شروع ہوئیں اور کسی ایک متنفس نے بھی اس پر انکار نہ فرمایا بلکہ بغیر کسی اختلاف کے تمام صحابہ بیس رکعات پڑھتے رہے۔حضرت عثمان  کے زمانہ مبارک میں بھی اسی پر عمل رہا، حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب نے بھی بیس کا حکم دیا اوربیس ہی پڑھتے رہے۔ آپ کے تمام شاگرد بھی لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود  بھی لوگوں کو بیس رکعت پڑھاتے تھے۔ تابعین اور تبع تابعین بھی بیس پر عامل تھے اور عہد نبویﷺ   سے لے کر بارھویں صدی ہجری تک کسی ایک معتبر عالم کا نام بھی پیش نہیں جا سکتا کہ اُس نے بیس رکعت تراویح کے خلاف رسالے بازی اور اشتہار بازی کی ہویا کسی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی نے بیس رکعت پڑھنے والوں کو انعامی چیلنج دیا ہو اور عہد فاروقی سے لے کر بارہ سوسال تک ایک مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی کہ فلاں صدی میں فلاں علاقہ میں لوگوں میں آٹھ رکعت تراویح کا رواج تھا۔ جب سے غیر مقلدوں کا یہ نیا فرقہ پیدا ہوا ہے اُسی وقت سے یہ شور و غوغا سننے میں آیا ہے،اسی فرقے نے ہمیشہ امن و سکون سے بسنے والے مسلمانوں میں سر پھٹول کرائی ہے۔ محدث صاحب نے حضرت عائشہ کی حدیث سے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ پڑھتے تھے آٹھ رکعت تراویح پر استدلال کیا ہے حالانکہ کتنی صاف بات ہے کہ جب اس حدیث میں رمضان کے ساتھ غیر رمضان کا لفظ بھی ہے تو اس حدیث کو تراویح سے کیا تعلق،اگر یہ تراویح کے متعلق ہے تو اس کا ترجمہ یہ ہو گا کہ رسول پاکﷺ   رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت تراویح سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ محدث صاحب یہ حدیث تو تہجد کے متعلق ہے کہ رمضان اور غیر رمضان میں برابر ہوتی ہے اور اگر محدث صاحب یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے تو محدث صاحب ایک ہی حدیث صحیح پیش فرمائیں کہ تہجد اور تراویح ایک نماز ہے نیز میں حضرت عائشہ سے چار روایات ذکر کر چکا ہوں اور نواب صدیق حسن صاحب کا قول بھی ذکر کر چکا ہوں کہ رسول پاکﷺ   کی رمضان کی نماز غیر رمضان سے زیادہ ہوتی تھی۔ اُن روایات کا آپ کے پاس کیا جواب ہے نیز جناب کی پیش کردہ روایتِ عائشہ  اور روایتِ جابر  دونوں میں تین وتر کا ذکر ہے،غیر مقلد ان دونوں روایتوں کو چھوڑ  کر ایک وتر پڑھتے ہیں تو خود ان حدیثوں پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟ نیز محدث صاحب یہ بھی بتائیں کہ حضرت عمر  و حضرت عثمان حضرت علی  کے زمانہ مبارک میں جب علی الاعلان بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں اُس زمانہ میں حضرت جابر  اور حضرت عائشہ دونوں زندہ تھے اگر ان دونوں بزرگوں سے آٹھ رکعت تراویح کی حدیث مروی ہے تو ان دونوں نے وہ حدیثیں اُ ن صحابہ کے سامنے کیوں پیش نہ ک اور کیوں آٹھ رکعت تراویح کی سنت کو مٹنے دیا۔ کیا ان دونوں میں سنت پر عمل کرنے اورسنت کو پھیلانے کا اتنا جذبہ بھی نہ تھا جتنا کہ محدث عبدالجبار صاحب میں ہے کہ ان کے سامنے ایک سنت مٹ رہی ہو ایک زبردست بدعت شروع ہو چکی ہو لیکن وہ دونوں لوگوں کی کوئی رہنمائی نہ کریں اور محدث صاحب یہ بھی ثابت کریں کہ یہ دونوں سب صحابہ کے خلاف آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور یہ باتیں محدث صاحب انشاء اللہ قیامت تک بھی ثابت نہ کرسکیں گے۔محدث صاحب نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر  کا حکم ١١ رکعت کا تھا لیکن محدث صاحب کی یہ بات عقل و نقل کے بالکل خلاف ہے کیونکہ جس اثر کو محدث صاحب نے ذکر کیا ہے اس کا مدار محمد بن یوسف پر ہے اُ س کی روایت میں سخت اضطراب ہے وہ کبھی ١١ کہتا ہے کبھی ١٣ کبھی ٢١ اور مضطرب روایت ضعیف ہوتی ہے تو لامحالہ یہ روایت ضعیف ہوئی تو استدلال کیا!۔اب ایک طرف یہ مضطرب اور ضعیف روایت دوسری طرف ہم نے صحیح روایات بیان کر دیں ہیں کہ حضرت عمر نے بیس کا حکم دیا تھا نیز محدث صاحب یہ بھی بتائیں کہ کیا عقل اس کو تسلیم کرتی ہے کہ حضرت عمر   گیارہ کا حکم دیں اور عہد فاروقی کے صحابہ و تابعین خلیفہ راشد کے حکم کی خلاف ورزی کریں اور بیس پڑھنی شروع کر دیں۔ محدث صاحب اگر حکم گیارہ کا تھا اور صحابہ و تابعین نے اس حکم کونہ مانا بیس پڑھنی شروع کر دیں اور آٹھ کی سنت بجائے ٢٠ تراویح کی بدعت شروع کر دی تو بتاؤ کہ حضرت عمر نے اس بدعت کو کیوں نہ مٹایا اور حضرت عمر کے بعد حضرت علی  نے اس بدعت کو کیوں نہ مٹایا۔ محدث صاحب کیوں لوگوں کو صحابہ تابعین اور  سلف صالحین سے بد ظن کرتے ہو۔

            حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں بیس رکعت کے سنت مؤکدہ ہونے پر اجماع منعقد ہو چکا ہے اور اجماع کی مخالفت ناجائز ہے اور یہ اجماع علامت ہے اُن احادیث (آٹھ رکعت والی اگر کوئی صحیح ہو) کے منسوخ ہونے کی (اشرف الجواب ج١ص ١٠٢)۔ حضرت حکیم الامت  کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ اگر بفرض محال حدیث جابر  وغیرہ صحیح بھی ہو تو بھی صحابہ کرام کا بیس رکعت پر اجماع اس کے منسوخ ہونے کی علامت ہے۔امام نووی  مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں   من اقسام النسخ مایعرف بالا جماع کقتل شارب الخمر فی المرۃ الرابعۃ فانہ منسوخ عرف نسخہ باالاجماع والاجماع لا ینسخ ولکن یدل علی وجود الناسخ   اور  غیر مقلدوں کے جد امجد نواب صدیق حسن خاں اپنی کتاب ”افادۃ الشیوخ فی بیان الناسخ والمنسوخ” پر لکھتے ہیں   :”چہارم آنکہ باجماع صحابہ دریافت شود کہ ایں ناسخ وآں منسوخ … ومثل اوست حدیث غلول صدقہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دراں امر باخذ صدقہ و شطر مال او فرمودہ لیکن صحابہ اتفاق کردندبر ترک استعمال ایں حدیث وایں دال است برنسخَ وے۔ومذہب جمہور نیز ہمیں است کہ اجماع صحابہ از ادلہ بیان ناسخ است۔ ”نواب صاحب کی یہ عبارت اس بات پر صریح نص ہے کہ جو حدیث عہد صحابہ میں متروک العمل ہو چکی ہو وہ منسوخ ہے پس آٹھ رکعت کی روایات پر عمل کرنے والا اجماع صحابہ کا مخالف اور روایات منسوخہ پر عامل ہے جیسا کہ عیسائی اور یہودی مذہب منسوخ پر عامل ہیں پس حدیث عائشہ  مدعٰی سے ساکت ہے اور حدیث جابر   ضعیف بھی ہے اور منسوخ بھی،رہی حدیث ابن عباس جس میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کا ذکر ہے اور مولوی عبدالجبار صاحب نے اُسے ابو شیبہ کی وجہ سے ضعیف کہہ دیا ہے اولاً تو میں نے ابو شیبہ کی تعدیل باعتبار حفظ و ضبط اور باعتبار عدالت عرض کر دی وہ مختلف فیہ حسن الحدیث ہے ثانیاً یہ کہ جس حدیث کو تلقی بالقبول کا شرف حاصل ہو وہ صحیح ہوتی ہے چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی   شرح نظم الدُرر میں فرماتے ہیں  : المقبول ما تلقاء العلماء بالقبول وان لم یکن لہ اسنادصحیح اور امام سخاوی  شرح الفیہ میں فرماتے ہیں اذا تلقت الامۃ الضعیف بالقبول یعمل بہ علی الصحیح حتی انہ ینزل منزلۃ المتواتر فی انہ ینسخ المقطوع بہ ولھذا قال الشافعی حدیث لا وصیۃ لوارث لا یثبتہ اہل الحدیث ولکن العامۃ تلقتہ بالقبول وعملوا بہ حتی جعلوہ ناسخا لآیۃ الوصیۃ للوارث۔ اور علامہ حافظ ابن حجر ”الا فصاح علی نکت ابن الصلاح ”میں فرماتے ہیں ” ومن جملۃ صفات القبولـ ان یتفق العلماء علی العمل بمدلول الحدیث فانہ یقبل حتی یجب العمل بہ وقد صرح بذالک جماعۃ من آئمۃ الاصول ”اس قاعدے کو غیر مقلدوں کے مشہور مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی تسلیم کیا ہے (دیکھو اخبار اہل حدیث مؤرخہ١٩اپریل ١٩٠٧ ء)۔

            اب محدث صاحب کی خدمت میں گزارش ہے کہ عام علمائے اُمت کے قبول کر لینے سے جب ضعیف حدیث واجب العمل ہو جاتی ہے تو بیس رکعت والی حدیث جس پر خلفائے راشدین نے حکم دے کر عمل کروایا اور  تمام صحابہ کرام  نے عہد فاروقی سے لے کر اور تمام تابعین اور تبع تابعین نے تمام آئمہ مجتہدین نے اس پر عمل کیا ہو اور تمام اُمت کا بارہ سو سال تک بلا اختلاف اس پر عمل ہو پھر تو ابو شیبہ کی یہ حدیث اتنی قوی اور مستحکم ہو جاتی ہے کہ اس کے بعد اس کو ضعیف کہہ کر پیچھا چھڑانا بالکل ناممکن ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ کہ بیس رکعت کی حدیث اجماع اُمت کے موافق ہونے کی وجہ سے واجب العمل ہے اور آٹھ رکعت والی مخالف اجماع ہونے کی وجہ سے متروک اور منسوخ ہے۔

اہل سنت و جماعت تمام احادیث پر عمل کرتے ہیں

            ان غالی غیر مقلدین کا عجیب طریقہ ہے کہ تمام ذخیرہ حدیث فی الباب سے ایک حدیث لے لیتے ہیں جو اپنے نفس کی خواہش کے مطابق ہو اور اُس کے خلاف خواہ کس قدر احادیث ہوں بس ایک وہی حدیث پیش کئے جاتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو مخالفِ حدیث کہے جاتے ہیں۔حضرت قاری عبدالرحمن ان غُلاۃ کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ یہ بیشک عامل بالحدیث ہیں لیکن الف لام الحدیث میں عوض میں مضاف کے ہے اور وہ مضاف الیہ نفس ہے یعنی عامل بالحدیث النفس تو واقعی یہ لوگ حدیث نفس کے عامل ہیں حدیثِ رسولﷺ   پر عامل نہیں۔ یہ لوگ اپنے نفس کے مطابق احادیث تلاش کر لیا کرتے ہیں جیسے کسی کی حکایت مشہور ہے کہ اُس سے پوچھا گیا کہ تمہیں قرآن کا کونسا حکم سب سے زیادہ پسند ہے، کہا ربنا انزل علینا مائدہ من السماء اسی طرح انہوں نے بھی تراویح کی تمام احادیث سے صرف آٹھ والی حدیث پسند کی اور وتر کی تمام حدیثوں سے ایک وتر والی حدیث پسند کی۔ تمام رات تراویح پڑھنا جو صحیح حدیث سے ثابت ہے اس سنت کو تو کبھی ادا نہیں کیا لیکن سنت فجر کے بعد سونے کی سنت پر خوب زور ہے سبحان اللہ کیا معیار ہے۔ایک حدیث کو مان کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قول و فعلِ رسول یہی ہے باقی تمام ذخیرہ حدیث کو خاطر میں نہیں لاتے اور ان کے اس سبق کے رٹنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے سلف صالحین کے اعمال کو خلافِ حدیث ظاہر کر کے اُن کی تقلید سے منحرف کریں اور اپنی تقلید کا پھندا اُن کے گلے میں پیوست کر دیں قاتلھم اللّٰہ انی یوفکون۔ اس مسئلے میں بھی یہ حنفیہ کو مخالفِ حدیث کہتے ہیں اور اپنے آپ کو عامل بالحدیث حالانکہ نہ یہ آٹھ والی روایات کو مانتے ہیں نہ بیس والی کو کیونکہ حدیث عائشہ  تہجد کے متعلق ہے کہ رسول پاکﷺ   رمضان غیر رمضان میں گیارہ رکعت تہجد پڑھتے تھے لیکن غیر مقلد رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد بھی نہیں پڑھتے بلکہ جو غیر مقلد غیر رمضان میں تہجد پڑھتے ہیں وہ بھی رمضان میں چھوڑ بیٹھتے ہیں اور  دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں۔اہل سنت رمضان اور غیر رمضان میں ٨ رکعت تہجد اور تین وتر پڑھتے ہیں غرضیکہ حنفی تو حدیثِ عائشہ  پر پورا عمل کرتے ہیں لیکن غیر مقلد نہ تہجد کے بارے میں اس پر عامل ہیں نہ وتر کے بارے میں کیونکہ غیر مقلد جتنی دلیلیں آٹھ تراویح پر لاتے ہیں ہر ایک میں تین وتر کا ذکر ہے اور  غیر مقلد ایک وتر پڑھتے ہیں۔ حدیثِ عائشہ  اور حدیثِ جابر میں بھی تین وتر کا ذکر ہے اور حضرت فاروق اعظم  کے حکم میں بھی تین رکعت وتر مذکور ہیں ، نہ تو غیر مقلدوں نے حضرت عائشہ کی اس حدیث پر عمل کیا اور نہ حضرت عائشہ  کی اُن روایتوں پر عمل کیا جن کو میں شروع میں نقل کر چکا ہوں کہ رسول پاکﷺ   رمضان المبارک میں غیر رمضان سے زیادہ کوشش اور محنت فرماتے تھے، زیادہ شب بیداری کرتے تھے اور زیادہ نماز پڑھتے تھے بلکہ غیر مقلد تو زیادتی سے منع کر کے کھلم کھلا ان حدیثوں کی مخالفت کرتے ہیں نہ تو ان تینوں بزرگوں یعنی حضر ت عائشہ ، حضرت جابر، حضرت عمر کی مذکورہ روایات پر غیر مقلد ین کا عمل ہے اور نہ ان تینوں کے اپنے عمل کو مانتے ہیں کیونکہ حضرت عائشہ، حضرت جابر،حضر ت عمر  تینوں کے سامنے بیس رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں ان تینوں میں سے کسی ایک نے بھی بیس رکعت تراویح سے منع نہ فرمایا بلکہ خود اُن کے ساتھ شامل ہو گئے اور کوئی غیر مقلد یہ ثابت نہیں کر سکتاکہ یہ تینوں آٹھ رکعت تراویح پڑھتے تھے۔جب ان تینوں میں سے کسی نے بیس رکعت کا انکار نہ کیا اور نہ منع فرمایا تو غیر مقلد کس دلیل سے بیس رکعت سے منع کرتے ہیں۔غرض نہ ان تینوں کی روایت کو مانتے ہیں اور نہ عمل کو ا س کے برخلاف اہل سنت و جماعت تمام احادیث کو مانتے اور عمل کرتے ہیں۔ حضرت جابر کی آٹھ رکعت والی روایت اگرچہ صحیح نہیں ہے اس لیے ذہبی نے میزان الاعتدال میں اُسے منکر روایات میں ذکر کیا ہے اور جس امرِ فاروقی کو غیر مقلد پیش کرتے ہیں وہ مضطرب ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اسی لیے علامہ ابن عبد البر نے اس کو وہم قرار دیا ہے نیز یہ صحیح روایات اور عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے تاہم اگر بفرض محال آٹھ رکعت پر اگر کوئی لُولی لنگڑی روایت ہو پھر بھی وہ ہم کو مضر نہیں اور نہ غیر مقلد ین کو مفید ہے کیونکہ بیس میں آٹھ بھی شامل ہیں۔اور بیس پڑھنے والا بیس والی روایات پر بھی عمل کر رہا ہے اور آٹھ والی روایات پر بھی کیونکہ آ ٹھ رکعت پر حصر کی کوئی دلیل نہیں ہے اور کسی ایک ضعیف روایت میں بھی یہ نہیں کہ آٹھ سے زیادہ منع ہیں تو بیس رکعت پڑھنا آٹھ والی کے مخالف کیسے ہوا بلکہ دونوں پر عمل ہوا۔

            مثال اول  :  بعض روایات میں ہے کہ رسول پاکﷺ   ہر روز ستر مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور بعض میں سو مرتبہ کا ذکر ہے۔اب اگر کوئی شخص سومرتبہ استغفار پڑھے تو کون عاقل کہے گا کہ اس نے ستر والی روا یت کی مخالفت کی ہے بلکہ حقیقت میں اس نے دونوں حدیثوں پر عمل کیا ہے کیونکہ سو میں ستر بھی داخل ہیں۔

            مثال دوم  :  رسول پاکﷺ   کی تہجد کی رکعات مختلف آئی ہیں ٤  ٣ اور ٣٦ اور ٣٨،٣١٠ (رواہ عائشہ   مشکٰوۃ ج١ ص ١١٢) اب اگر کوئی شخص ٣٨ یا  ٣١٠  پڑھ لے تو کون نادان کہے گا کہ اس نے ٤،٦ والی سنت کی مخالفت کی ہے بلکہ صاف بات ہے کہ ٨میں ٤ اور ٦ بھی شامل ہیں۔

            مثال سوم  :  مسلمان شروع سے پانچ نمازیں روزانہ پڑھتے ہیں لیکن منکرین حدیث نے کچھ دنوں سے یہ شور مچایا ہے کہ قرآن کی آیت اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الخ سے صرف تین نمازیں ثابت ہیں اس لیے پانچ نمازیں پڑھنا ا س آیت کے خلاف ہے حالانکہ یہ بالکل غلط بات ہے اگر ایک آیت سے بظاہر تین نمازیں سمجھ آتیں ہیں تو باقی آیات و احادیث سے پانچ ثابت ہیں اور پانچ میں یہ تین بھی داخل ہیں تو پھر پانچ پڑھنے والا اس آیت کا مخالف کیونکر ہوا وہ تو اس پر بھی عامل ہو ا اور دوسری آیات و روایات پر بھی عامل ہوا۔

            مثال چہارم  :  شیعہ کہتے ہیں کہ اہل سنت حضرت علی کی خلافت کے مخالف اور منکر ہیں کیونکہ یہ ایک کی بجائے چار کی خلافت مانتے ہیں اور جن روایات سے حضرت علی  کی فضیلت یا خلافت کے اشارے نکلتے ہیں اُن کو اہلِ سنت کے مقابلہ میں پیش کرتے ہیں حالانکہ اُنکا ایسا کرنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جن چار کو ہم مانتے ہیں اُن میں حضرت علی بھی شامل ہیں تو جب اُ ن چاروں میں وہ ایک بھی شامل ہیں تو چار کا ماننا حضرت علی   کی مخالفت کیسے ہوئی۔           حضرت جابر  نے جو آٹھ رکعت روایت کی ہیں ابن عباس  کی بیس والی روایت میں وہ آٹھ بھی شامل ہیں پس بیس والی روایت پر عمل دونوں روایتوں پر عمل ہے اور بیس والی کا انکار دونوں کا انکار ہے کیونکہ دوسری اسی میں شامل ہے تو بیس رکعت پڑھنا آٹھ رکعت کے مخالف کیسے ہوا، بلکہ بیس پڑھنے والا آٹھ بھی پڑھتا ہے پس آٹھ رکعت کی دلیلوں کو سنیوں کے مقابلہ میں پیش کرنا ایساہی ہے جیسا شیعوں کا سنیوں کے مقابلہ میں فضائل علی  کی روایات پڑھنا جبکہ حضرت علی  کی خلافت چاروں میں شامل ہے چنانچہ بعض لوگوں نے ان تمام روایات کو جمع کیا ہے کہ آٹھ والی مرفوع روایات میں جماعت کا ذکر ہے اور بیس والی مرفوع روایت میں جماعت کا ذکر نہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر  نے پہلے صرف آٹھ رکعت با جماعت پڑھنے کا حکم دیا ہو اور  باقی بارہ رکعت لوگ بلا جماعت پڑھتے ہوں اور پھر بیس رکعت با جماعت پڑھنے کا حکم دے دیا ہو اور  اسی آخری حکم پر اجماع منعقد ہو گیا۔چنانچہ امام بیہقی،علامہ ابن حجر، ملا علی قاری  وغیرہم نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ پہلے حضرت عمر نے گیارہ کا حکم دیا پھر بیس کا اور اسی پر اجماع منعقد ہو گیا،اب بیس پڑھنے والا حضرت عمر کے دونوں حکموں پر عمل کرتا ہے کیونکہ دوسرا حکم پہلے کے مخالف نہیں ہے بلکہ پہلا دوسرے میں شامل ہے اور غیر مقلد دونوں حکموں کے منکر ہیں کیونکہ جب دوسرا حکم دیا تو پہلا اُ سی میں شامل ہو گیا اور دونوں مل کر ایک ہی حکم رہ گیا تو آخری حکم پر عمل دونوں پر عمل اور آخری حکم کا انکار دونوں کا انکار ہے۔ اور صحابہ کرام ایک تراویح میں ایک قرآن پاک ختم کرتے تھے اس لیے قاریوں نے قرآن پاک میں تراویح کے لیے رکوع مقرر کر دئیے اور وہ بھی بیس کے حساب سے لگائے ہیں چنانچہ رکوع سارے قرآن میں ٥٤٠ ہیں اور لیلۃ القدر ستایئسویں رات کو قرآن ختم کرتے ہیں تاکہ لیلۃ القدر میں ختم کا ثواب ملے۔ اسی حساب سے پورے رکوع ہیں ٥٤٠٢٠٢٧

            بعض غیر مقلد جب چاروں طرف سے عاجز آ جاتے ہیں تو یہ کہا کرتے ہیں کہ بیس رکعت سنت خلفاء ہے اور آٹھ سنت نبوی ہیں۔حضورﷺ  نے آٹھ ہی پڑھی تھیں صحابہ نے ١٢ بڑھا لیں اس لیے ٨ پڑھنے والے سنت نبوی پر عامل ہیں اور بیس پڑھنے والے سنت خلفاء پر،تو عرض ہے کہ یہ مغالطہ ہے اولاً تو یہ غلط ہے کہ صحابہ سنت نبوی پر زیادتیاں کر لیتے تھے اگر یہ گمان رکھو تو ہو سکتا ہے کہ جن صحابہ نے ٨ کو بیس کر لیا ہو انہوں نے قرآن میں بھی زیادتی کی ہو۔ اگر وہ پیغمبر کے فعل میں اپنی مرضی سے زیادتی کر لیتے تھے تو پھر خدا جانے پیغمبر کے کلام میں انہوں نے کتنی زیادتیاں کی ہوں گی۔ ثانیاً بیس جس کو تم نے سنت فاروقی کہا ہے اس میں آٹھ جس کو سنت نبوی کہتے ہو وہ بھی شامل ہیں تو بیس پڑھنے والا سنت نبوی اور سنت فاروقی دونوں کا عامل ہوا، کیا غیر مقلد ین کے پاس کوئی ایک حدیث ہے جس میں حصر کے ساتھ مذکور ہو کہ صرف آٹھ تراویح سنت ہے، ایک بھی نہیں۔کیا کسی ایک حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیس رکعت پڑھنا بدعت ہے۔غیر مقلد بتائیں کہ ٢٠ رکعت تراویح کو بدعت و حرام جانتے ہیں یا مستحب،بعض غیر مقلد عاجز آ کر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کو تو بیس رکعت با جماعت پر اعتراض ہے تو اُن سے فوراً کہو کہ جناب آپ جماعت کا لفظ نہ لکھیں پہلے صرف اتنا لکھ دیں کہ ہم بیس رکعت تراویح کو سنت مانتے ہیں اس کو شائع کر دیں اور ساتھ یہ بھی شائع کریں کہ با جماعت پڑھنا مکروہ ہے یا حرام اور اُس کی بہترین دلیل جس سے بیس کا با جماعت پڑھنا منع ثابت ہو پیش کر دیں اور یہ بھی لکھ دیں کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین بیس رکعت پڑھتے تھے اُن پر کیا فتویٰ ہے اور حضرت عمر نے جنہوں نے بیس رکعت با جماعت پر لوگوں کو جمع فرمایا وہ غیر مقلدوں کی شریعت کے مطابق کتنے بڑے مجرم ہیں۔ بعض غیر مقلدین نے یہ مغالطہ دیا ہے کہ آٹھ رکعت پر غیر مقلدین اور مقلدین کا اتفاق ہے اس لیے آٹھ کولے لینا چاہیے اور بارہ میں دونوں فریقوں میں اختلاف ہے اُن کو تر ک کر دینا چاہیے۔سبحان اللہ غیر مقلد صاحب اگر کوئی عیسائی آپ کی خدمت میں یہ عرض کرے کہ جناب عیسٰی  کی رسالت و نبوت پر چونکہ عیسائیوں اور مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ   کی نبوت میں دونوں فرقوں کا اختلاف ہے اس لیے سب مسلمانوں کو چاہیے کہ حضورﷺ   کی نبوت سے معاذاللہ انکار کر کے صرف حضرت عیسٰی  کی نبوت کے قائل ہو جائیں تو آپ کیا جواب دیں گے۔ اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرنا مسلمانوں کی شان نہیں ہے لوگوں کو مغالطوں میں مبتلا نہ کرو۔ خلاصہ یہ ہے کہ  :

            (١)  آٹھ رکعت کی روایت سخت ضعیف ہے اور اجماع صحابہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے منسوخ ہے تو آٹھ رکعت تراویح پڑھنے والا صحیح اور محکم حدیثوں کو چھوڑ کر ضعیف اور منسوخ حدیثوں پر عمل کرنے کی وجہ سے سخت غلطی کا شکار ہے۔

            (٢)  بیس رکعت پڑھنے والے سب حدیثوں کو مانتے ہیں کیونکہ بیس میں آٹھ بھی شامل ہیں اور آٹھ پڑھنے والے صرف ضعیف اور منسوخ روایات کے آستانہ پر دھونی رمائے بیٹھے ہیں اور  محکم و صحیح احادیث سے منہ موڑے بیٹھے ہیں۔

            (٣)  بیس رکعت پڑھنے والے حضرت عمر فاروق   کے دونوں حکموں کو مانتے ہیں اور  آٹھ پڑھنے والے حضرت عمر کے آخری حکم کے منکر ہیں۔

            (٤)  بیس رکعت پڑھنے والے فرمان نبوی علیکم بسنتی و سنت الخلفاء الراشدین المہدیین تمسکوابھا وعضوا علیھا بالنواجذ  میری اور  میرے خلفائے راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے پکڑو کے عامل ہیں کیونکہ بیس رکعت با جماعت خلفائے راشدین کے حکم سے شروع ہوئیں اور آٹھ رکعت پڑھنے والے نہ سنت نبوی کے عامل کیونکہ حدیث جابر  منسوخ ہے اور حدیث ابن عباس ،احادیثِ شدتِ اجتہادشَدِّمِئزَرْ وغیرہ پر عمل نہیں کرتے اور نہ سنت خلفاء کے عامل بلکہ دونوں سنتوں کے مخالف ہیں۔

            (٥)  بیس رکعت پڑھنے والے صراط مستقیم ماانا علیہ واصحابی۔ خیرالقرون قرنی الخ  تمسکو  ابن مسعود  پرگا مزن ہیں اور آٹھ پڑھنے والے سبیل مومنین سے منحرف ہو کر نصلہ جھنم و ساء ت مصیرا  کی وعید میں داخل ہیں۔

            (٦)  بیس رکعت پڑھنے والے سوادِ اعظم اور  اجماع اُمّت کے مطابق عمل کر کے خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بنتے ہیں اور آٹھ رکعت پڑھنے والے من شَذشُذ فی النا ر کی وعید کے سزا وار ہیں۔

            (٧)  بیس رکعت تراویح پڑھنے والے قیامت کے دن اپنے مقتداؤں یعنی پیغمبرِ اسلامﷺ ، خلفاء راشدین،صحابہ کرام، آئمہ مجتہد ین کے ساتھی ہوں گے اور بیس رکعت سے منع کرنے و الے اٰرأیت الذی ینھٰی عبداً اذا صلٰی کی جماعت میں شامل ہوں گے۔

            (٨)  رسول پاکﷺ  نے فرمایا ان اللّٰہ وضع الحق علی لسان عمر اللہ تعالی نے حق حضرت عمر کی زبان پر رکھا ہے اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ شیطان حضرت عمر  کے سائے سے بھاگتا ہے اور شیطان کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ حضرت عمر  کے راستے پر چل سکے۔ اے بیس رکعت تراویح پڑھنے والو!تم کتنے خوش نصیب ہو کہ حضرت عمر  کے دونوں حکموں پر عامل ہو اور حق پرستوں کی جماعت میں داخل ہو اور اے آٹھ رکعات پڑھنے والوں ! تم حضرت عمر کے آخری فرمان سے جس پر ساری اُمّت کا اجماع ہو چکا ہے پِھر کرکس رستے پر جا رہے ہو تم کو یہ توفیق کیوں نہیں کہ حضرت عمر کے راستہ پر چلو۔

            آخر میں حضرت حکیم الامت  کی کتاب اشرف الجواب ج٢ص ١٠٣ سے ایک اقتباس نقل کر کے ختم کرتا ہوں  :

”بھئی سنو! محکمہ مال سے اطلاع آئے کہ مال گزاری داخل کرو اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ کتنی ہے تم نے ایک نمبردار سے پوچھا کہ میرے ذمہ کتنی مال گزاری ہے اُس نے کہا آٹھ روپے پھر تم نے دوسرے نمبر دار سے پوچھا اُس نے کہا بیس روپے تو اب بتاؤ تمہیں کچہری کتنی رقم لے کر جانا چاہیے اس شخص نے جواب دیا کہ صاحب بیس روپے لے کر جانا چاہیے۔ اگر بیس روپے ادا کرنے پڑے تو کسی سے مانگنے نہ پڑیں گے اور اگر آٹھ ادا کرنے ہوئے تو باقی رقم بچ رہے گی۔اور اگر میں کم لے کر گیا اور وہاں زیادہ طلب کیے گئے تو کس سے مانگتا پھروں گا۔ مولانا نے فرمایا بس خوب سمجھ لو کہ اگر وہاں بیس رکعتیں طلب کی گئیں اور ہیں تمہارے پاس آٹھ تو کہاں سے لا کر  دو گے اور اگر بیس ہیں اور طلب کم کی گئیں تو بچ رہیں گی اور تمہارے کام آئیں گی۔ ”
غرض یہ ہےکہ....
غیرمقلدین کی دلیل حدیث جابر و امرفاروقی اولا ضعیف ہے اور اگرضعیف نہ ہوتےتو اجماع کے مخالف ہونےکی وجہ سے منسوخ ہیں اور اگر منسوخ نہ بھی ہوتی پھر بھی ہم کومضر اور ان کو مفید نہیں کیونکہ بیس میں اٹھ بھی شامل ہیں اور بیس رکعت کی دلیلیں بوجہ صحیح ومحکم ہوکے لازم العمل ہیں۔
            اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔
ماخوز از تجلیات صفدر جلد٦ صفحہ٤٨٩

٭٭٭