2014/10/21

نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا

0 تبصرے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا
از افادات: متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت احناف :
                نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے ۔ کیو نکہ اس میں تعظیم زیادہ ہے ۔(الھدایہ ج:1 ص: 100 ،101)


مذہب غیر مقلدین :
                نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنا سنت ہے  جو کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔(نماز نبوی البانی ص:77، بارہ مسائل عبد الرحمن خلیق ص:52)

اورناف کے نیچے ہاتھ باندھنے سے نماز نہیں ہو تی ۔(قول حق مولوی محمد حنیف فرید کو ٹی ص21 بحوالہ مجموعہ رسائل ج:1 ص:325 )

فائدہ:

اہل السنۃ و الجماعۃ احناف کے ہاں ہاتھ باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ کر، انگوٹھے اور چھنگلیا سے بائیں ہاتھ کے گٹے کو پکڑتے ہوئے تین انگلیاں کلائی پر بچھا کر ناف کے نیچے رکھتے ہیں۔ کتاب الآثار میں ہے:



قال محمد: 
و یضع بطن کفہ الایمن علی رسغہ الایسر تحت السرۃ فیکون الرسغ فی وسط الکف۔
[کتاب الآثار بروایۃ محمد ص24 رقم 120]

علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واستحسن كثير من مشايخنا۔۔۔ بأن يضع باطن كفه اليمنى على كفه اليسرى ويحلق بالخنصر والإبهام على الرسغ [عمد ۃ القاری: ج4 ص389]

یہ موقف ان دلائل سے ثابت ہے:

1: عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍرضی اللہ عنہقَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ ۔
(صحیح البخاری ج 1ص 102باب وضع الیمنی علی الیسریٰ)

2: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا اُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَھْرِکَفِّہِ الْیُسْریٰ وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ۔
(صحیح ابن حبان:ص577رقم الحدیث1860،سنن النسائی:ج1ص141،سنن ابی داؤد ج 1ص112 باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ)

3: عَنِ ابْنِ عَبَّاس رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّا مَعْشَرَالْاَنْبِیَائِ اُمِرْنَااَنْ نُؤَخِّرَسُحُوْرَنَا وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَاوَاَنْ نُمْسِکَ بِاَیْمَانِنَاعَلٰی شَمَائِلِنَا فِیْ صَلٰوتِنَا۔
( صحیح ابن حبان ص 555.554ذکر الاخبار عما یستحب للمرئ، رقم الحدیث 1770، المعجم الکبیر للطبرانی ج 5ص233 رقم الحدیث 10693)

4: عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلَی شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص321،322، وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3959 )
دلائل اہل السنۃ و الجماعت:
قرآن مع التفسیر :
روی الامام الحافظ المحدث ابو بکر الاثرم المتوفی273ھقال حدثنا ابو الولید الطیالسی قال حدثنا حماد بن سلمۃ عن عاصم الجحدری عن عقبۃ بن صبھان سمع علیا یقول فی قول اللہ عزوجل فصل لربک والنحر قال وضع الیمنیٰ علی الیسریٰ تحت السرۃ ۔
(سنن الاثرم بحوالہ التمھید لابن عبد البر ج:8 ص:164)

توثیق روات :
1: امام ابو بکر الاثرم احمد بن محمد بن ہانی:  ثقۃ ، حافظ ، لہ تصانیف ۔(تقریب التھذیب ص:122رقم الترجمہ 103)

2: امام ابو الولید الطیالسی المتوفی 227 ھ نام ھشام بن عبد الملک الباھلی یہ صحاح سۃ کے راوی ہیں ائمہ نے ان کو ثقۃ ، ثبت قرار دیا ہے۔ (تقریب التھذیب ص:603،رقم الترجمہ 7301)

3: حمام بن سلمہ المتوفی 167ھ یہ صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں  ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام الحافظ صاحب السنۃ وغیرہ قرار دیا ہے ۔ (تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:151،رقم الترجمہ 197)

4: امام عاصم الجحدری المتوفی129ھ ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔(الجرح والتعدیل للرازی ج:6ص؛456،رقم الترجمہ 11176)

5: امام عقبہ بن صبھان المتوفی 75ھ او82ھ یہ صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے راوی ہیں ۔ائمہ نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے   ۔
(تقریب التھذیب ص:425رقم الترجمہ 4640)

6: امام سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صحابی رسول وداماد رسول ہیں ۔

7: امام ابن عبد البر مالکی المتوفی 463یہ مشہور مالکی امام ہیں ائمہ نے ان کو شیخ الاسلام حافظ المغرب قرار دیا ہے (تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:217)

تو یہ روایت ثقہ عن ثقہ سے مروی ہے  لھذا اصول کی رو سے یہ حدیث بالکل صحیح ہے ۔


اعتراض :
                امام ابن عبد البر کی ولادت تقریباً 370 ہجری میں ہے  اور امام ابو بکر الاثرم کی وفات 273 میں ہے یعنی دونوں کے درمیان تقریباً 100 سال کا فاصلہ ہے تو یہ روایت منقطع ہوئی جو کہ حجت نہیں ؟


جواب:
 اولاً
امام ابن عبد البر نے یہ روایت امام ابو بکر الاثرم کی کتاب سے نقل کی ہے اس کے لئے اتصال ضروری نہیں جس طرح آج کوئی بندہ بخاری شریف سے دیکھ کر روایت ذکر کرے  ۔


ثانیاً
امام ابن عبد البر نے اپنی کتاب التمھید میں کئی مقامات پر امام ابو بکر الاثرم تک  سند کو ذکر فرمایا ہے۔


مثال
امام ابن عبد البر فرماتے ہیں” اخبر نی عبد اللہ ابن محمد یحیی قال حدثنا عبد الحمید ابن احمد البغدادی قال حدثنا الخضر بن داؤدقال حدثنا ابو بکر الاثرم ۔۔۔الخ(التمہید ج1ص78)

تو امام ابن عبد البر سے لے کر امام ابو بکر الاثرم تک سند کا اتصال بھی موجود ہے لھذا یہ روایت بالکل صحیح ہے ۔


احادیث مرفوعہ:
حدیث نمبر1:
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ            (مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427 ،رقم الحدیث 6،باب وضع الیمین علی الشمال )


اعتراض :
                اس روایت میں تحت السرہ کا لفظ مدرج ہے احناف نے خود یہ لفظ بڑھایا ہے ابن ابی شیبہ کے کئی نسخوں میں یہ لفظ نہیں ۔


جواب :
 تحت السرہ کا لفظ کئی نسخوں میں موجود ہے ۔

1: نسخہ امام قاسم بن قطلوبغا الحنفی (درہم الصرہ ص82)

2: نسخہ شیخ محمد اکرم نصر پوری(درہم الصرہ ص82)

3: نسخہ شیخ عبدالقادر مفتی مکہ مکرمہ (درہم الصرہ ص82)

4: نسخہ شیخ عابد سندھی: اس کا عکس مصنف ابن ابی شیبہ بتحقیق عوامہ ج3میں موجود ہے۔

5: نسخہ قبہ محمودیہ (در الغرۃ ص24 بحوالہ تجلیات ج4ص4)

6: امام محمد ہاشم سندھی فرماتے ہیں:منہا لفظۃ ”تحت السرۃ“ وقد وجدت ہی  فی ثلاث نسخ من مصنف ابی بکر بن ابی شیبۃ(ترصیع الدرۃ ص4ومصنف ابن ابی شیبہ بتحقیق عوامہ)

ترجمہ: ان میں ایک لفظ ”تحت السرۃ“ ہے، میں نے خود یہ لفظ مصنف ابن ابی شیبہ کے تین نسخوں میں پایا ہے۔

7: شیخ محمد عوامہ کی زیر نگرانی مدینہ منورہ سے 26جلدوں میں طبع ہونے والی مصنف ابن ابی شیبہ میں ”تحت السرۃ“ کے الفاظ موجودہیں۔(ج3ص320 تا 322)

8: نسخہ شیخ محمد مرتضیٰ الزبیدی: اس کا عکس ملاحظہ ہومصنف ابن ابی شیبہ بتحقیق عوامہ ج3

9: نسخہ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ فیصل آباد: (ج1ص427رقم6باب وضع الیمین علی الشمال)

لہذا تحت السرہ کا لفظ مدرج نہیں بلکہ ابن ابی شیبہ کے اکثر نسخوں میں ثابت ہے ۔


حدیث نمبر 2:
عن علی رضی اللہ عنہ قال ثلاث من اخلاق الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم تعجیل الافطار وتاخیر السحور  ووضع الکف علی الکف تحت السرہ ۔(مسند زید بن علی ص:204 ،205،باب الافطار )


فائدہ
یہ سند اہل بیت کی سند ہے ۔


حدیث نمبر 3:
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ السُّوَائِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ وَضْعُ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَرِ"(مصنف ابن ابی شیبہ ج:1 ص:427رقم الحدیث 13)


فائدہ
 صحابی جب سنت کا لفظ مطلق بولے تو مراد حضور کی سنت ہوتی ہے ۔ تصریح ائمہ:

1: وھکذا قول الصحابی رضی اللہ عنہ من السنۃ کذا فالاصح انہ مرفوع ۔ (النکت  علی کتاب ابن الصلاح ص:187)

2: قال الشافعی: واصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یقولون بالسنۃ والحق الا لسنۃ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم (کتاب الام ج:1 ص:479)

3: وقول علی رضی اللہ عنہ : ان من السنۃ ، ھذا الفظ یدخل فی المرفوع عندھم ، وقال ابو عمر فی (التفصی )واعلم ان الصحابی اذا اطلق اسم السنۃ فالمراد بہ سۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔(عمدۃ القاری ج:4 ص:389)

4: واعلم ان لفظۃ السنۃ یدخل فی المرفوع عندھم ۔(نصب الرایہ ج:1 ص:393)

5: اور یہ بات اصول حدیث میں واضح ہے کہ جب صحابی کسی امر کے بارے میں کہے کہ یہ سنت ہے تو اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی ہوتی ہے (آپ کے مسائل اور ان کا حل ج:2 ص:142مبشر ربانی )


شبہ:
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی راوی ہے جو کہ ضعیف ہے۔


جواب نمبر1:
محدثین کا اصول ہے کہ اگر کسی حدیث سے مجتہد استدلال کرلے وہ حدیث صحیح شمار ہوتی ہے:

1: علامہ ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:المجتہد اذا استدل بحدیث کان تصحیحاً لہ۔
(التحریر لابن الہمام بحوالہ رد المحتار: ج7 ص83)

2: علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وقد احتج بھذا الحدیث احمد وابن المنذر وفی جزمہما بذالک دلیل علی صحتہ عندہما۔ ( التلخیص الحبیر لابن حجر،ج: 2،ص:143 تحت رقم الحدیث 807)

3: محدث و فقیہ علامہ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فی جز م کل مجتہد بحدیث دلیل علی صحتہ عندہٗ  (قواعد فی علوم الحدیث ،ص:58)

اس اصول کے تحت درج ذیل ائمہ نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو دلیل ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔

1: امام اسحاق بن راہویہ م238ھ (الاوسط لابن المنذر ج3ص94)

2: امام احمد بن حنبل م241ھ (مسائل احمد بروایۃ ابی داود ص31)

3: امام ابوجعفر الطحاوی م321ھ  (احکام القرآن للطحاوی ج1ص187)

4: امام ابوبکر الجصاص الرازی م370ھ (احکام القرآن ج3ص476)

5: امام ابوالحسین القدوری م428ھ (التجرید للقدوری ج1ص479)

6: امام ابوبکر السرخسی م490ھ  (المبسوط للسرخسی ج1ص24)

7: امام ابوبکر الکاسانی م578ھ (بدائع الصنائع ج1ص469)

8: امام المرغینانی م593ھ  (الہدایہ ج1ص86)

9: علامہ ضیاء الدین المقدسی م643ھ (الاحادیث المختارہ ج3ص386،387)

10: امام ابومحمد المنبجی م686ھ (اللباب فی الجمع بین السنۃ و الکتاب: ج1 ص247)

11: علامہ ابن القیم م751ھ  (بدائع الفوائد: ج3 ص73)


جواب نمبر2:
زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں: روایت کی تصحیح وتحسین اس کے ہر ہر راوی کی توثیق ہوتی ہے۔ (مقدمہ جزء رفع یدین :ص14 مترجم)

ہم ان محدثین ومؤلفین کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے ان احادیث کو صحیح یا حسن کہا ہے جن میں راوی مذکورعبدالرحمن بن اسحاق ہے،تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے یہ اس راوی کی توثیق ہو گی۔

1: امام ترمذی:حسن (ترمذی رقم3563)

2: امام حاکم: صحیح الاسناد (مستدرک حاکم رقم1973کتاب الدعاء والتکبیر )

3: امام ذہبی:  صحیح الاسناد (مستدرک حاکم رقم1973کتاب الدعاء والتکبیر )

4: امام ضیاء الدین مقدسی: (الاحادیث المختارہ ج3ص386،387)

تنبیہ: 
 علی زئی صاحب کے نزدیک ضیاء مقدسی کا کسی حدیث کی تخریج کرنا اس حدیث کی صحت کی دلیل ہے۔ (تعداد رکعت قیام رمضان ص23)

4: ناصرالدین البانی غیرمقلد: حسن (ترمذی رقم3563، باحکام الالبانی)


جواب نمبر3:
غیر مقلدین امام عبدالرحمٰن بن اسحاق پر جرح تو نقل کرتے ہیں لیکن جن محدثین نے ان کی تعدیل وتوثیق کی ہے ان کا ذکر کرنا نہیں کرتے، ہم ان کی تعدیل و توثیق پیش خدمت  ہے:

1: امام احمد بن حنبل :صالح الحدیث (مسائل احمد بروایۃ ابی داود ص31)

یاد رہے کہ ”صالح الحدیث“ الفاظِ تعدیل میں شمارکیا گیا ہے (قواعد فی علوم الحدیث ص249)

2: امام عجلی: ثقات میں شمار کیا ہے۔ (معرفۃ الثقات ج2ص72)

3: امام ترمذی:اس کی حدیث کو حسن کہا۔ (ترمذی رقم3563)

4: امام مقدسی:اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا۔ (الاحادیث المختارہ ج3ص386،387)

5: امام بزار :صالح الحدیث (مسند بزار تحت حدیث رقم696)

6: محدث عثمانی:اس کی حدیث حسن درجہ کی ہے۔ (اعلاء السنن ج2ص193)

یاد رہے کہ اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ جس راوی پر جرح بھی ہو اور محدثین نے اس کی تعدیل وتوثیق بھی کی ہو تو اس کی حدیث ”حسن“درجہ کی ہوتی ہے۔ (قواعد فی علوم الحدیث: ص75)

تو اصولی طور پر یہ راوی حسن الحدیث درجے کا ہے،  ضعیف نہیں۔ لہذا یہ روایت صحیح و حجت ہے، اعتراض باطل ہے۔


حدیث نمبر4:
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ ثَلاَثٌ مِّنْ اَخْلَاقِ النُّبُوَّۃِ تَعْجِیْلُ الْاِفْطَارِ وَ تَاخِیْرُ السُّحُوْرِ وَوَضَعُ الْیَدِالْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔                                         [الجوہر النقی علی البیہقی ج2 ص32]


شبہ:
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اس روایت کا ایک راوی سعید بن زَرْبی پر مجروح ہے۔


جواب:
اولاً 
سعید بن زَرْبی پر اگرچہ کلام کیا گیا  ہے لیکن شاہد اور مؤیدات کی بناء پر یہ روایت صحیح شمار ہوگی۔

شاہد: عَنْ عَلِیّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: قَالَ ثَلاَثٌ مِّنْ اَخْلَاقِ الْاَنْبِیَاءِ- صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْھِمْ- تَعْجِیْلُ الْاِفْطَارِ وَ تَاخِیْرُ السُّحُوْرِ وَوَضَعُ الْکَفِّ عَلَی الْکَفِّ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
(مسند زید بن علی ص:204 ،205،باب الافطار)

ثانیاً 
اس روایت کی معنوی تائید حدیثِ علی رضی اللہ عنہ اور حدیثِ وائل بن حجر رضی اللہ عنہسے بھی ہوتی ہے۔[مصنف ابن ابی شیبۃ،باب وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3966،رقم الحدیث 3959]

ثالثاً 
جامع الترمذی کی ایک روایت کو ناصر الدین البانی صاحب غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے اور اس میں یہی سعید بن زربی موجود ہے۔
(دیکھیے جامع الترمذی باحکام الالبانی: رقم3544، باب خلق الله ماتہ رحمۃ، مکتبہ شاملہ)

خلاصہ یہ کہ یہ روایت مؤیدات اور شاہد کی بناء پر صحیح ہے، وللہ الحمد


احادیث موقوفہ:
1: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِى جُحَيْفَةَ أَنَّ عَلِيًّا   رضى الله عنه   قَالَ السُّنَّةُ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِى الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ(سنن ابی داود ج:1 ص:117 ،باب وضع الیمنی ٰ علی الیسریٰ فی الصلوۃ )

2: عن ابی جحیفۃ عن علی قال ان من السنۃ فی الصلوۃ المکتوبۃ وضع الایدی علی الایدی تحت السرۃ
(الاحادیث المختارہ ج:2 ص:387رقم ا لحدیث 772)

3: عن ابی جحیفۃ عن علی قال ان من السنۃ فی الصلوۃ وضع الکف علی الکف تحت السرۃ
(الاحادیث المختارہ ج:2 ص:387،386رقم ا لحدیث 771)

4: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِىِّ عَنْ سَيَّارٍ أَبِى الْحَكَمِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَخْذُ الأَكُفِّ عَلَى الأَكُفِّ فِى الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.(سنن ابی داود ج:1 ص:117،التمھید ج:8ص:164)

احادیث مقطوعہ
1: امام ابرا ہیم نخعی کے متعلق  آتا ہے کہ:

انہ کا ن یضع یدہ الیمنی علی یدہ الیسری تحت السرۃ
( کتا ب الآثار بروایت امام محمد ص24 رقم الحدیث 121، مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص427 رقم 7)

2: امام ابو مجلز :

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، أَوْ سَأَلْتُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ یصْنَعُ ؟ قَالَ : يَضَعُ بَاطِنَ كَفِّ يَمِينِهِ عَلَى ظَاهِرِ كَفِّ شِمَالِهِ ، وَيَجْعَلُهَا أَسْفَلَ مِنَ السُّرَّةِ.”۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص427 رقم 10)

ائمہ مجتہدین
1: امام اعظم  فی الفقہاء  سیدنا امام ابو حنیفہ  تا بعی رحمہ اللہ [  کتا ب الآثار  بروایت امام محمد ص24]

2: امام سفیان ثوری :
ثم یضع یدہ الیمنی  علی رسغ الید الیسریٰ تحت السرۃ [فقہ سفیان ثوری ص561]

3: امام سید نا ابو یوسف القاضی [احکام القرآن للطحا وی ج1ص185]

4: امام محمد بن حسن الشیبا  نی  فر ما تے ہیں:
ینبغی للمصلی اذا قام فی صلواتہ ان یضع باطن کفہ الیمنی علی رسغ الیسریٰ تحت السرۃ [موطا امام محمد ص160]

5: امام اسحا ق بن راہویہ [ شرح مسلم للامام النووی ج1ص173]

6: امام احمد بن حنبل : وان کا نت تحت السرۃ فلا با س بہ ۔ [التمہید ج8ص162]

غیر مقلدین کا ایک عمومی شبہ:
احناف ناف کے نیچے ہاتھ باندھنےکو سنت کہتے ہیں تو آپ کی عورتیں خلاف سنت نماز پڑھتی ہیں کیونکہ وہ سینہ پر ہاتھ باندھتی ہیں۔

جواب:
عورت کے بارے میں فقہاء  کا اجماع ہے کہ وہ قیام کے وقت اپنے ہاتھ سینہ پر رکھے گی۔
علامہ عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وَاَمَّا فِیْ حَقِّ النِّسَائِ فَاتَّفَقُوْا عَلٰی  اَنَّ السُّنَّۃَ لَھُنَّ وَضْعُ الْیَدَیْنِ عَلَی الصَّدْرِ لِاَنَّھَامَا اَسْتَرُ لَھَا۔ (السعایۃ ج 2ص156)

سلطان المحدثین ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَ الْمَرْاَۃُ تَضَعُ [یَدَیْھَا]عَلٰی صَدْرِھَا اِتِّفَاقًا لِاَنَّ مَبْنٰی حَالِھَا عَلَی السَّتْرِ۔ (فتح باب العنایۃ: ج1 ص243 سنن الصلوۃ)
  
غیر مقلدین کے مذہب کا علمی جائزہ

1: عن ابی الْحَرِيشِ الْكِلاَبِىُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْجَحْدَرِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ كَذَا قَالَ إِنَّ عَلِيًّا رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِى هَذِهِ الآيَةِ (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) قَالَ : وَضْعُ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى وَسْطِ يَدَهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ وَضْعُهُمَا عَلَى صَدْرِهِ.”
(سنن الکبریٰ للبیہقی ج:2ص:30)

جواب:
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابو الحریش الکلابی ہے جو کہ مجہول ہے  اسی وجہ سے زبیر علی زئی نے لکھا ہے کہ “ابو الحریش کا ثقہ و صدوق ہونا ثابت نہیں ہماری تحقیق میں یہ روایت بلحاظ سند  ضعیف ہے “(الحدیث شمارہ نمبر7ص:33)

2: ” أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْبُخَارِىِّ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِىُّ عَنْ أَبِى الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِى قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) قَالَ : وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِى الصَّلاَةِ عِنْدَ النَّحْرِ ” (سنن الکبریٰ للبیہقی ج:2ص:31)

جواب : 

اس روایت کی سند میں  کئی راوی  ایسے ہیں  جو سخت ضعیف و مجروح ہیں :

1: یحیی بن ابی طالب:
ان کے متعلق ائمہ کے اقوال درج ذیل ہیں :

1: قال موسی ٰبن ھارون:  اشھد انہ یکذب (تاریخ بغداد ج:12 ص:203رقم الترجمہ 7513)

2: قال الآجری: خط ابو داود سلیمان بن الاشعث علی حدیث یحییٰ بن ابی طالب۔ (تاریخ بغداد ج:12ص:203،لسان المیزان ج:6ص:263)

2: روح بن المسیب:
ان  کے متعلق  ائمہ کی آراء  یہ ہیں:

1: قال ابن حبان: یروی عن الثقات الموضوعات ویقلب الاسانید ویرفع الموضوعات لاتحل الروایۃ عنہ۔ (کتاب الضعفاء والمتروکین ابن جوزی ج:1ص:289 رقم الترجمہ 1251)

2: قال ابن عدی:  احادیث غیر محفوظ (الکامل فی الضعفاءج:3ص:58رقم الحدیث 664)

3: عمرو بن مالک النکری :
اس کے متعلق ائمہ کی یہ آراء ہیں:

1: قال ابن عدی : منکر الحدیث عن الثقات ویسرق الحدیث ضعفہ ابو یعلی الموصلی
(کتاب الضعفاء والمتروکین ابن جوزی ج:2ص:231رقم الترجمہ 2575)

2: حافظ ابن حجر:”عمرو بن مالک یخطی ویغرب (تھذیب التھذیب ج:5ص:86 ،رقم الترجمہ 6014)

3: وذکرہ الذھبی فی الضعفاء (المغنی فی الضعفاء ج:2ص:151)

4: قال ابن عدی: ولعمروغیرہ ذکرت احادیث مناکیر یعضھا سرقھا من قوم ثقات
(الکامل لابن عدی ج:6ص:258۔259)

لھذا اب  روایت سخت ضعیف ہے جو کہ صحیح روایات کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔

3: أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو موسى نا مؤمل نا سفيان عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال : صليت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ووضع يده اليمنى على يده اليسرى على صدره “۔(ابن خزیمہ ج:1ص:272،رقم الحدیث 479)

جواب نمبر1:
اس کی سند میں ایک  راوی مؤمل بن اسماعیل ہے جن کے متعلق بہت سارے ائمہ نے کلام یہاں تک کہا کہ امام بخاری نے اس کو منکر الحدیث فرماتے ہیں ۔

ائمہ کی آراء ملاحظہ فرمائیں:

 قال البخاری منکر الحدیث (المغنی فی الضعفاء لذھبی ج:2ص:446 ،میزان العتدال لذھبی ج:4ص:417،تھذیب التھذیب ج:6ص:489)

قال ابو ذرعۃ: فی حدیثہ خطاء،

 قال ابن حبان: ربمااخطاء،

قال ابن سعد: کثیر الغلط

قال ابن قانع: یخطی،

قال محمد بن نصر المروزی:  المؤمل اذا انفرد بحدیث وحب یتوقف ویثبت فیہ لانہ کان سیئی الحفظ الغلط۔ (تھذیب التھذیب ج:6ص:489۔490)

امام ذھبی نے مؤمل کو ضعفاء میں ذکر فرمایا ہے۔ (المغنی ج:2ص:446)

حتی کے غیر مقلد عالم ناصرالدین البانی نے بھی کہا: اسنادہ ضعیف لان مؤملاوھو ابن اسماعیل سیئی الحفظ ۔ (حاشیہ ابن خزیمہ ج:1ص:272)

جواب نمبر 2:
اس روایت کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری بھی ہے جنہوں عن سے روایت کر رکھی ہے اس سفیان کو علی زئی  نے طبقہ ثالثہ کا مدلس کہا ہے جس کی روایت بغیر تصریح سماع کے ضعیف ہوتی ہے (نورالعینین ص:134تا139)

لھذا یہ روایت سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اس وجہ سے علی زئی نے بھی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھ دیا:
سفیان الثوری ثقہ مدلس ہیں، لہذا یہ سند ضعیف ہے ” (نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص:37)

جواب نمبر 3:
حضرت سفیان ثوری خود ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں ۔ (فقہ سفیان الثوری ص:561)

اور جب راوی کا اپنا عمل اپنی روایت کے خلاف ہو تو وہ وایت قابل عمل نہیں ۔

اصول حدیث کا قاعدہ ہے: 
عمل الراوی بخلاف روایتہ بعد الروایۃ مما ہو خلاف بیقین یسقط العمل بہ عندنا۔
(المنار مع شرحہ ص190)

لہذا یہ روایت ساقط العمل ہے۔

4: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِه ( مسند احمد ج16ص102 رقم 21864)

جواب  نمبر1:
اس میں ایک راوی سماک بن ھرب  ہے جس پر بہت سارے ائمہ نے کلام کیا  ہے ۔

قال سفیان :انہ ضعیف ، کا ن شعبۃ یضعفہ ۔

قال الامام احمد: سماک  مضطرب  الحدیث ۔

وقال صالح :جزرہ یضعف ،وقال النسائی اذا انفرد  باصل لم یکن بحجۃ  لانہ کا ن بلقن فیتلقن ۔(میزان الاعتدال ج2ص216)

قال ابن عمار :یقولون انہ کا ن یغلط ویختلفون فی حدیثہ،

قال  ابن المبا رک: سما ک ضعیف فی الحدیث ۔

قال ابن خراش :فی حدیثہ  لین ۔

قال بن حبان: یخطئ کثیراً۔(تہذیب ج3ص67۔68)

ان تصریحا ت سے ثا بت ہو ا کہ سماک بن  ھرب جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے اسی وجہ سے امام ذہبی  ،امام ابن عدی ، امام ابن جوزی  اور امام  عقیل نے سماک کو ضعیفا  بھی ذکر کیا ہے ۔ (دیکھئے المغنی للذہبی ج1ص448،الکامل لابن عدی ج4ص641، کتاب الضعفاء والمتروکین  لابن جوزی ج2ص26، کتا ب الضعفاء الکبیر للبیہقی ج2ص178)

 اور امام ابو القاسم  الکعبی م 319ھ نے سماک کو” با ب فیہ ذکر من رموہ بانہ من اہل البدع واصحا ب الاھواء “کے تحت ذکرکیا ہے ۔ (دیکھئے قبول الاخبار ومعرفۃ الرجا ل ج2ص381۔390 )

لہذا یہ ضعیف روایت تحت السرہ والی صحیح روایات کا مقا بلہ نہیں کر سکتی ۔

جواب نمبر  2:
 اس میں دوسرا راوی قبیصہ  بن ھلب ہے یہ عند الائمہ مجہول ہے :
قال ابن المدینی  مجہول  لم یرو عنہ غیر سماک قال النسائی مجہول ۔(تہذیب التہذیب ج5ص325،326)

لہذا یہ روایت قبیصہ کی  جہا لت کی وجہ سے غیر مقبو ل ہے۔

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔