2014/10/09

محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

0 تبصرے
                         محدث اعظم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

                                مولانا محمد اکمل راجن پوری

کثرت روایت کا سبب:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث کثرت سے بیان کرتے تھے تو بعض لوگوں نے کہا:کہ ابوہریرہ تو کثرت سے حدیثیں بیان کرتا ہے [جبکہ مہاجر اور انصار ان حدیثوں کو بیان نہیں کرتے] تو آپ نے ان لوگوں کو یہ جواب دیا:

میں مسکین آدمی تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتا تھا۔لیکن مہاجرین بازاروں میں اپنے کاروبار میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے ا موال کی دیکھ بھال میں ۔میں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص میری بات ختم ہونے تک اپنی چادر کو پھیلالے پھر اپنے سے ملالے تو جو کچھ اس نے مجھ سے سنا اس کو کبھی نہیں بھولے گا۔میں نے اپنی چادر کو پھیلا لیا ۔ اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی نہیں بھولا۔

(صحیح بخاری ،حدیث 7354 )

حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں اللہ کا ذکرکر رہے تھے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے ۔پھر فرمایا اپنا کام جاری رکھو ۔حضرت زید فرماتے ہیں کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے دعا کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دعا پر آمین کہی۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی:

انی اسئلک مثل ما سال صاحباک واسالک علما لاینسی

کہ اے اللہ میں اس چیز کا بھی سوال کرتا ہوں جس کا میرے ساتھیوں نے کیا اور مزید مجھے ایسا علم عطافرما جو کبھی نہ بھولے ۔

فقال رسول اللہ آمین فقلنا یارسول اللہ ونحن نسالک علما لاینسی فقال سبقکم بھا الغلام الدوسی"

(الاصابۃ ج4ص2391،سیراعلام النبلاء ج3ص522)

تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین فرمائی۔ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ ہم بھی ایسے علم کا اللہ سے سوال کرتے ہیں جو کبھی نہ بھولے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسی[اشارہ ابو ہریرہ کی طرف] تم دونوں سے سبقت لے گیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتحان:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرت روایت کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں کچھ شکوک وشبہات پیدا ہوگئے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ مروان نے امتحان کی غرض سے آپ کو بلوایا۔مروان نے اپنے کاتب أبو الزعيزعة کو اپنے تخت کے پیچھے بیٹھا دیا۔ أبو الزعيزعة کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیثیں بیان کرتے رہے اور میں لکھتا رہا۔ مروان نے پھر سال کے شروع میں حضرت ابو ہریرہ کو دوبارہ بلوایا اور مجھے پردہ کے پیچھے بیٹھا یا آپ رضی اللہ عنہ سے انہیں حدیثوں کے دوبارہ سنانے کی فرمائش کی ۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسی ترتیب سے سنائیں ، کمی کی نہ زیادتی، مقدم کو موخر کیا نہ موخر کو مقدم۔تو میں نے حافظہ کی تصدیق کردی۔

(سیر اعلام النبلاء ج3ص522)

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

لا اشک ان اباہریرۃ سمع من رسول اللہ مالم نسمع

(الاصابۃ ج4ص2391)

مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوہریرہ نے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں۔

سفر آخرت کے وقت حالت:

آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا:

من قلۃ الزاد وشدۃ المفازۃ ( زادراہ کم ہے سفر طویل ہے ۔)

تعداد مرویات:

کل روایات 5374ہیں،جن میں سے326متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ۔ جو روایات صرف بخاری میں ہیں ان کی تعداد 93اور جوصرف مسلم میں ہیں وہ98 ہیں۔

(سیر اعلام النبلاء ج3ص534)

مرویات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں سے چند روایات:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:مجھ پر درود بھیجو۔ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ پر پہنچایا جاتا ہے۔

(سنن ابی داؤد: ج1 ص295)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں مرد کا اپنے دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھناسنت ہے۔

(الاوسط للامام المندر:ج3ص94،سنن الدارقطنی:ج1 ص288، مؤطاامام مالک ص۶۹ ، موطا امام محمد ص۹۵)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے جہری نماز جس میں امام بلند آواز سے قرأت کرتاہے ،سے فارغ ہوئے تو مڑکرفرمایا: تم میں سے کس نے میرے پیچھے قرآن مجید پڑھا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا میں نے یارسول اللہ! آپ نے فرمایا:’’ میں بھی کہوں کہ میرے ساتھ کیوں قرآن کا جھگڑاہورہا ہے ؟ اس کے بعدلوگ رسول اللہ کے ساتھ نماز میں قرآن مجید پڑھنے سے رک گئے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اور دوسری رکعت میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور تیسری رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور معوذتین پڑھتے تھے۔

(مجمع الزوائد ج2 ص506،505)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں تو وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے۔

(جامع الترمذی ج 1ص96 ) تعداد تلامذہ:

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان ذخیرہ کی مناسبت سے آپ کے تلامذہ کا دائرہ وسیع تھا۔ صحابہ اور تابعین تلامذہ کی تعداد 800سے بڑھ جاتی ہے۔

(سیر اعلام النبلاء ج3ص517،الاسیتعاب ص852،البدایہ والنہایہ ج4ص498)

تاریخ وفات:

آپ کی تاریخ وفات کے بارے میں تین قول ہیں۔

(1)57 (2) 58 (3) 59ھ۔ آپ نے 78سال عمر پائی۔

(الاستیعاب ص852،سیراعلام النبلاء ج3ص531)

نماز جنازہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت ولید بن عقبہ نے نماز عصر کے بعد پڑھائی ،جس میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہم وغیرہ صحابہ بھی شریک تھے ۔

(سیراعلام النبلاء ج3ص532،الاستیعاب ص852،الاصابہ ج4ص2393)

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔