2014/10/29

چند نصیحتیں

0 تبصرے




الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه أجمعين  أما بعد:

میں اس لائق نہیں ہوں کے اہل علم کی خدمت میں کچھ پند و نصائح تحریر کر سکوں مگر اہل علم کی بار بار اصرار کرنے پر کچھ تحریر کر رہی ہوں اس امید پر کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھ  ناکارہ کو بھی عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین،

اولاً  یہ ہے کہ آپ نےاتنی بڑی سعادت (علم دین کا شرف حاصل کرلیا ہے) تو آپ کے لیے لازم ہے کہ کوئی قدم کے اُٹھا نے سے پہلے اچھی طرح سوچنا ہے، کہیں یہ دنیا اور شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالے، کبائر و صغائر ہرگناہ سے پرہیز کرنا، اس کا خاص خیال رکھنا، اور خوف خدا کو ہر وقت دل میں بسائے رکھنا، نیز نمازوں کی پابندی کرنا، سب کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، چھوٹے بڑےکی عزت کرنا، عاجزی و انکساری کو اپنے دل کے اندر سمائے رکھنا، خود کو اخلاق حمیدہ سے متصف کرنا، اور اپنے گھر والوں اور اپنے بچوں کی دینی تربیت کرنا، اور اگر تم دنیاوی ماحول میں جاؤ تو ایسی بن کر رہو کہ تمہیں دیکھ کر لوگوں کو عبرت حاصل ہو، اور تمہیں دیکھ کر لوگوں کو اللہ یاد آئے، اور لوگوں کو ہدایت مل جائے اس کا خاص دھیان رکھنا، اپنے علم کو دنیا و آخرت اور قبر کا ساتھی سمجھنا، اگر دنیا میں امن و سلامتی کی زندگی گزارنا چاہتی ہو تو قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اللہ سے ڈرنے کو اور امانت اور تمام عوام و خواص کی خیر خواہی کو لازم پکڑنا، حق بات بیان کرتے وقت کسی کی جاہ و حشمت کی پرواہ نہ کرنا، بلکہ عمدہ انداز  اور سلیقہ مندی کے ساتھ حق بات پیش کرنا کہ مخاطب کو ناگوار ی نہ ہو اور اسکو قبول کرلے، زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرنا کیونکہ یہ دل کو مردہ کرتا ہے، جب تم بات کرو  زیادہ چیخ و پکار نہ کرو اور اپنی آواز بلند مت کرو، لوگوں کے درمیان میں رہتے ہوئے زیادہ تر دین کی باتیں اور ذکر کیا کرو اس سے لوگوں کو دین کی رغبت ہوگی، اپنے نفس کی نگرانی کرو  تا کہ وہ گناہوں اور لایعنی کاموں میں مشغول نہ ہو جائے، موت کو ہمیشہ یاد کرو، اور اپنے استاذوں اور جن سے تم نے علم دین حاصل کیا ہے دعائے مغفرت کیا کرو، ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو اور دینی کتابوں کا مطالعہ کیا کرو، خصوصاً معارف القرآن، معارف الحدیث، اور اکابرین کے حالات، اور بہشتی زیور، وغیرہ کتابوں کا مطالعہ کو اپنی زندگی میں رکھو، علم کےبغیر عمل بیکار ہے اور علم کو محفوظ کرنے کا آسان نسخہ عمل ہے، عمل سے علم میں پختگی پیدا ہوتی ہے، عوام و خواص کی خدمت کا جذبہ پیدا کرو اس سے دنیا و آخرت میں ترقی ہوگی، فضول باتوں اور فضول کاموں میں پڑنے سے نفس کو علیٰحدہ رکھو، اپنے لباس اور برقعہ اور رہن سہن کو شریعت کے مطابق رکھو، مکمل پردہ کرنے کو اور شریعت کے مطابق لباس اختیار کرنے کو مقدّم رکھو، اس لئے کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے اور ان پر بارک دوپٹّہ تھا پس اعراض فرمایا اور ان سے ارشاد فرمایا کہ اے اسماء بیشک عورت جب بالغ ہوجائے ہرگز مناسب نہیں ہے اس کےلئے کہ دکھائی دے اسکا جسم کا کوئی حصہ سوائے چہرہ اور ہتھیلیوں کے، تو میری عزیز بہنوں اس حدیث کو مدِّنظر رکھتے ہوئے باریک اور تنگ لباس سے احتراز کرو، اپنا تعلق اللہ کے ساتھ درست رکھو، نیز دینی مجلسوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرو، اب آپ  علم دین  کا شرف حاصل کرچکی ہیں، تو آپ کے اُوپر ایک بہت بڑی ذمہ داری آچکی ہے، (امر بالمعروف نھی عن المنکر ) کرتی رہا کرو ورنہ اس ذمہ داری کے بارے میں اللہ تعالی کے پاس پوچھ ہوگی، آپ نے جو کچھ یہاں سیکھا ہے وہ اوروں تک پہنچانے کی مکمل کوشش کرتی رہنا، درس و تدریس اور قرآن سیکھنے سکھانے میں لگی رہنا، اور مرکز نظام الدین دہلی کی دینی دعوت سے تعلق رکھنا، ملاقات کے وقت پہلے خودبہنوں کو اور اپنےمحارم کو سلام کرنا، اور بات چیت کرنے میں خوبی اختیار کرنا، اور  تواضع اختیار کرنا، خود دین پرعمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی دوزخ سے بچاؤ، آج لوگ گمراہی کے طرف جلدی سے جارہے ہیں اگر ہمارا بھی یہی حال رہا تو علم دین بالکل نیست نابود ہوجائے گا ، بس اسی کے فکر میں ہمیشہ لگی رہو اور دین کو زندہ کرنے کی پوری پوری کوشش کرتی رہو، انشاء اللہ تعالی کامیابی تمہاری قدم چومے گی، اب زیادہ تفصیل کرنے سے میرا قلم قاصر ہے، میری آخری درخواست ہے کہ ماضی کے ایّام میں مجھ سے جو بھی کوتاہی ہوئی تو اللہ کے واسطے اس ناکارہ کو معاف کردینا، اور تم ہمارے لئے اللہ کے پاس حجت بننا ہمارے خلاف حجت نہ بننا، اور ہمارے والدین اور اساتذہ و احباب کے لئے بھی دعائے مغفرت کرتی رہنا، نیز یہ ناکارہ اس قابل تو کہاں تھی کہ دینی خدمت کو انجام دے سکے، لیکن میرے خدا نے میرے اوپر لطف و کرم فرما کر مجھے دینی تعلیم سیکھنے سکھانے کی ہدایت عطاء فرمائی میں اپنے خدا سے مزید کی توفیق مانگتی ہوں۔

ائے اللہ تو ہمارا مواخذہ مت کرنا ،

جہنم کے عذاب سے ہمیں بچائے رکھنا ،



منجانب  :- امۃ الرحمٰن غفرلہا

الجامعۃ المحمودیۃ  (للبنات)الاسلامیۃ ، جمشیدپور، جھارکھنڈ۔


0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔