2014/10/25

بطور کرامات کہ بیت الله شریف کا اولیاء کرام رحمه الله كی حیات زندگی میں زیارت کو آنا

0 تبصرے
بطور کرامات کہ بیت الله شریف کا اولیاء کرام رحمه الله 
 كی حیات زندگی میں زیارت کو آنا

بسم الله الرحمن الرحیم


حدیث نمبر :01وسلم یقول اھتزالعرش الموت سعد بن معاذ وفی روایة قال اھتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ وفی روایة قال اھتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ متفق علیه . مشکوة ص 567
حدیث نمبر :02عن جابر ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال رایت الجنة فرایت امراة ابی طلحة وسمعت خشخشة امامی فاذا بلال رواہ مسلم [مشکوة صفحہ 567]
‏‎حدیث نمبر 03:عن جابر قال سمعت النبی صلی الله علیه وسلم

حدیث نمبر :04 عن انس قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الجنة تشتاق الی ثلثة علی رضی الله عنه و عمار رضی الله عنه و سلمان رضی الله عنه رواه الترمذی . مشکوة ص 570

حدیث نمبر :05عن انس قال قال ابوبکر لعمر بعد وفاة رسول الله صلی الله علیه وسلم انطلق بنا الی ام ایمن نزوروھا کما کان رسول الله صلی الله علیه وسلم یزو رھا الحدیث رواه مسلم . مشکوة ص 540

حدیث نمبر :06 عن جابر فی حدیث فلمارای (صلی الله علیه وسلم ) مایصنعون طاف حول اعظمها بیداد ثلث مرات الحدیث رواه البخاری . مشکوة ص 529

حدیث نمبر :07 عن جابر انه سمع رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول لماکذبنی قریش قمت فی الحجر فجعل الله لی بیت المقدس الحدیث متفق علیه . مشکوة ص 522

وفی اللمعات جاء فی حدیث ابن عباس فجئی بالمسجد حتی وضع عند دار عقیل وانا انظر الیه

بعد نقل ان احادیث کے جوابآ عرض کرتا ہوں کہ سوال میں معترض کے دو قول نقل کئے ہیں ایک یہ کہ قلب موضوع ہے دوسرا یہ کہ یہ ناممکن ہے قول اول کی دلیل یہ بیان کی گئی کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اس کی تعظیم طواف سے کی اور قول ثانی کی کوئی دلیل بیان نہیں کی سو قلب موضوع کا جواب حدیث نمبر 01 سے ظاہر ہے کہ ابن عمر رضی الله کعبہ سے ہر مومن کو افضل بتارہے ہیں اور اول تو یہ امر مدرک بالرائے نہیں اس لئے حکما مرفوع ہوگا اور اگر اس سے قطع نظر بھی کی جاوے تاہم کسی صحابی رسول صلی الله علیه وسلم سے اس پر نکیر منقول نہیں پھر اس کی صحت میں کیا شک رہا پھر ابن ماجہ میں تو اس کے رفع کی تضریح ہے اور بھی اچھی ہے اب کلام مذکور کی بھی حاجت نہیں رہی ، رہ گیا طواف فرمانا رسول الله صلی الله علیه وسلم کا اس کا اور اس کی تعظیم کرنا سو یہ ایک امر تعبدی ہے جس طرح رسول الله صلی الله علیه وسلم مساجد کا احترام فرماتے تھے تو کیا مسجد کا آپ صلی الله علیه وسلم سے افضل و اعظم لازم آگیا اسی طرح بیت معظم بھی آپ صلی الله علیه وسلم سے افضل نہ ہوگا پھر جب آپ صلی الله علیه وسلم اس سے افضل ہوئے اور پھر آپ صلی الله علیه وسلم نے اس کا طواف کیا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ مفضول کا طواف افضل کرسکتا ہے سو اگر مؤمن بیت معظم سے مفضول بھی ہوتا تب بھی افضل کا طواف کرنا مفضول کے لئے جائز ہوتا چہ جائیکہ مومن کا افضل ہونا بھی ثابت ہوگیا پھر تو کچھ بھی استعباد نہ رہا باقی یہ ظاہر ہے کہ یہ فضیلت جزئی ہے اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ انسان کو جہت سجدہ بھی بنایا جائے یا انسان کا کوئی طواف کرنے لگے اور یہ سب اس وقت ہے کہ طواف بطور تعظیم ہو اور اگر یہ طواف لغوی ہو بمعنی آمدو رفت جو مقارب ہے زیارت کا تو وہ اپنے مفضول کے لئے بے تکلف ہوسکتا ہے جیسا حدیث نمبر 5 ، 6 میں مصرح ہے اور محض ایسے امور

توجیہ زیارت کعبہ حسناء بعضے اولیا را

سوال 509 بابت استقبال قبلہ شامی و بحرالرائق و طحطاوی بر مراقی الفلاح و باب ثبوت النسب درمختار و شامی وغیرہ معتبرات فقہیہ سے جو جواز آنے بیت الله شریف کا واسطے زیارت اولیاء الله کے بلکہ طواف اولیاء کرنے کے ممکن و منجملہ کرامات ہونا لکھا ہے اور روض الریاحین میں امام یافعی رحمه الله وغیرہ میں وقوع اس کا اور دیکھنا ثقات ائمہ و علماء کا اس کرامات کو منقول ہے ، اس کو غیرمقلدین لغو و غلط امر کہتے ہیں ان کا قول و خیال یہ ہے کہ کعبہ ایسا معظم ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے جو اشرف المخلوقات تھے اس کی تعظیم طواف سے کی وہ دوسرے اپنے سے کم درجہ کی زیارت و طواف کے لئے جائے یہ قلب موضوع و ناممکن امر ہے ہاں اگر قرآن و حدیث سے یہ امر دلیل کیا جاوے تو قابل تسلیم ہوسکتا ہے لہذا علمائے احناف کی جناب میں گذارش ہے کہ عقیدے کو نصوص قرآن و احادیث سے یا باستنباط از آیات و احادیث مدلل و ثابت فرماکر کتب فقہ حنفیہ و روض الریاحین وغیرہ تالیفات ائمہ سلف کو دھبہ غیر معتمد ہونے سے بچائیں اور جہاں تک جلد ممکن ہو جواب سے سرفراز فرمائیں امر کی نسبت سخت نزاع درپیش ہے ؟

الجواب : 01عن ان عمر انه نظریوما الی الکعبة فقال ما اعظمك وما اعظم وما اعظم حرمتك والمومن اعظم حرمة عندالله تعالی منك اخرجه الترمذی و حسنه [ ص 44 ج 2 ، مجموعه مجتبائی و رواه ابن ماجة مرفوعا عن ابن عمر و لفظه قال رایت رسول الله صلی الله علیه وسلم یطوف بالکعبة یقول ما اطیبك و اطیب ریحك واعظم حرمتك والذی نفس محمد بیدہ لحرمة المومن اعظم عندالله حرمة منك الخ ص 209 اصح المطابع.

حدیث نمبر :02عن جابر ان رسول الله صلی الله علیه وسلم قال رایت الجنة فرایت امراة ابی طلحة وسمعت خشخشة امامی فاذا بلال رواہ مسلم [مشکوة صفحہ 567]

‏‎حدیث نمبر 03:عن جابر قال سمعت النبی صلی الله علیه وسلم

سے افضلیت کا لزوم کیسے ضروری ہوگا جب کہ حدیث نمبر 6 میں تقدم حضرت بلال رضی الله عنه کا حضور صلی الله علیه وسلم پر منقول ہے اسی لئے اس تقدم کو شراح حدیث نے تقدم الخادم علی المخدوم سے مفسر کیا ہے پس ایسا ہی یہاں ممکن ہے نیز عرش جو کہ تجلی گاہ خاص حق ہے اور اس کی صنعت میں کسی بشر کو دخل نہیں ظاہرآ بیت معظم سے افضل ہے باوجود اس کے اس کی حرکت ایک امتی کے لئے حدیث نمبر 3 میں مذکور ہے سو اسی طرح اگر بیت معظم کسی * مقبول امتی کے لئے حرکت کرے تو کیا استبعاد ہے نیز روح اس حرکت کی اشتیاق ہے سو جنت جو کہ حق تعالی کے تجلی خاص کا دار ہے حدیث نمبر 4 میں اس کا مشتاق ہونا بعض امتیان مقبولین کی طرف وارد ہے تو کعبہ کا اشتیاق بھی کسی مقبول امتی کی طرف کیا مستبعد ہے.

پس ان حدیثوں سے خود زیارت و طواف کا استبعاد کو دفع ہوگیا جو کہ بحث نقلی تھی اب صرف یہ بحث عقلی باقی رہی کہ خانہ کعبہ اتنا بھاری جسم ہے یہ کیسے منتقل ہوسکتا ہے سو اول تو "ان الله علی شئی قدیر" میں اس کا جواب عام موجود ہے دوسرے حدیث نمبر 7 کے ضمیمہ میں جواب خاص بھی ہے جو خصائص کبری جلد اول ص 160 میں نقل کیا ہے بتخریج احمد و ابن ابی شیبہ و النسائی و البزاز و الطبرانی و ابی نعیم بسند صحیح یہ سب گفتگو قول اول کے متعلق تھی رہا قول ثانی کہ یہ ناممکن ہے سو استفساریہ ہے کہ آیا عقلآ ناممکن ہے یا شرعآ یا عادۃ اول کا انقاء ظاہر ہے اگر شق ثانی ہے تو معترض کے ذمہ اس کا ثبوت ہے وافی لہ ذالک ، اور اگر شق ثالث ہے تو مسلم ہے بلکہ مفید ہے کیونکہ کرامت ایسے ہی واقعہ میں ہے جو عادۃ ممتنع ہو ورنہ کرامت نہ ہوگی اب ایک شبہ باقی ہے وہ یہ کہ حس اس کی مکذب ہے کیونکہ تاریخ میں کہیں منقول نہیں کہ کعبہ اپنی جگہ سے غائب ہوا ہو ایسا ہی شبہ حدیث سابع کے ضمیمہ میں ہوتا ہے سو جو اس کا جواب ہے وہی اس کا جواب ہے ، اور وہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت اتفاق سے کعبہ کا دیکھنے والا کوئی نہ ہو "اذا اراد الله تعالی شیئاھیا اسبابه"_ اور یہ اس وقت ہے جب یہی جسم منتقل ہوا ہو ورنہ اقرب یہ ہے کہ حقیقت مثالیہ اس حکم کا محکوم علیہ ہے جس طرح حدیث نمبر 4 میں آپ صلی الله علیه وسلم نے بلال رضی الله عنه کی مثال کو دیکھا تھا ورنہ بلال رضی الله عنه یقینآ اس وقت زمین پر تھے ، اب صرف ایک عامیانہ شبہ رہا کہ اس کی سنہ جب تک حسب شرائط محدثین صحیح نہ ہو اس کا قائل ہونا درست نہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ خود محدثین نے غیر احکام کی احادیث میں سند کے متعلق ایسی تنقید نہیں کی یہ تو اس سے بھی کم ہے یہاں صرف اتنا کافی ہے کہ راوی ظاہرآ ثقہ ہوا اور اس واقعہ کا کوئی مکذب نہ ہو.

اس تقریر سے اس کا جواب بھی نکل آیا جو سوال میں ہے کہ اگر قرآن و حدیث سے مدلل کیا جاوے الخ وہ جواب یہ ہے کہ اگر مدلل کرنے سے یہ مراد ہے کہ بعینہ وہی واقعہ یا اس کی نظیر قرآن و حدیث میں ہو تب تو اس کے ضروری ہونے کی دلیل ہم قرآن و حدیث ہی سے مانگتے ہیں نیز ائمہ محدثین کی کرامات کو کیا اس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے ، اور اگر یہ مراد ہے کہ جن اصول پر وہ مبنی ہے وہ قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہوں تو بحمد الله تعالی یہ امر حاصل ہے .


تنبیہ :: یہ سب اصلاح تھی غلو فی الانکار کی باقی جو غالی فی الاثبات
ہیں علمآ یا عملآ اب ان کی اصلاح بھی واجب ہے والله اعلم‎ ‎‏.‏‎
‎‏[[امداد الفتاوی جلد 4 صفحہ نمبر 449 تا 452 تک]]
[[ھدیہ اھلحدیث سے اقتباس صفحہ نمبر 186 سے 191 تک

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔